قطر پر اسرائیلی حملہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار؛ اعلامیہ جی سی سی اجلاس
اشاعت کی تاریخ: 18th, September 2025 GMT
خلیج تعاون کونسل (GCC) کی مشترکہ دفاعی کونسل کے اجلاس کے مشترکہ اعلامیہ میں دوحہ پر اسرائیلی حملے کو بین الاقوامی قوانین اور عالمی ضوابط کی کھلی خلاف ورزی قرار دیدیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق اجلاس میں قطر پر اسرائیلی جارحیت پر تفصیلی غور کیا گیا۔ وزرائے دفاع اور اعلیٰ فوجی حکام نے اس حملے کو خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے مشترکہ ردعمل پر اتفاق کیا۔
اجلاس میں شریک وزرائے دفاع نے دو ٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی اقدام صرف قطر ہی نہیں بلکہ پورے خطے کی سلامتی پر حملہ ہے، جسے کسی طور برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس کے بعد جاری کیے اعلامیہ میں گلف کوآپریشن کونسل نے قطر کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے اس کی سلامتی اور خودمختاری کے خلاف کسی بھی اقدام پر کڑی تنقید کی۔
جاری کیے گئے اعلامیہ کے اہم نکاتخلیجی ممالک نے ایک دوسرے کے ساتھ دفاعی تعاون اور انٹیلی جنس شیئرنگ کو مزید مضبوط بنانے کا فیصلہ کیا۔
بیلسٹک میزائل دفاعی نظام کے لیے پیشگی وارننگ سسٹم کو تیز رفتاری سے نصب کرنے پر زور دیا گیا۔
آئندہ تین ماہ میں رکن ممالک کی فضائی افواج مشترکہ مشقیں کریں گی تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کا فوری جواب دیا جا سکے۔
مشترکہ کمانڈ ڈھانچے کو اپ گریڈ کرنے اور نئے دفاعی منصوبے شامل کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
یاد رہے کہ اسرائیل نے دوحہ میں ہونے والے حماس رہنماؤں کے مشاورتی اجلاس پر فضائی حملہ کیا تھا جس میں 5 افراد شہید ہوگئے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔