لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔18 ستمبر ۔2025 )مشرقِ وسطیٰ میںبدلتی صورتحال اور اسرائیل کے دوحہ پر حملے کے چند روزبعد ایٹمی طاقت کے حامل واحد اسلامی ملک پاکستان اور اسلامی دنیا کے روحانی مرکزسعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے پر دنیا کے ماہرین اسے مشرق وسطی میں اہم پیش رفت قراردے رہے ہیں اسرائیل مشرقِ وسطیٰ میں کئی ممالک پر حملہ کر چکا ہے لیکن قطر کے خلاف جارحیت کو اس لیے مختلف قراردیا جارہا ہے کہ قطر نہ صرف امریکا کا اتحادی ہے بلکہ خطے میں واشنگٹن کی مرکزی کمانڈ ”العدید ایئربیس “بھی قطر میں واقع ہے.

(جاری ہے)

قطری نشریاتی ادارے ”الجزیرہ “کے مطابق واشنگٹن میں مشرق وسطی کے ماہرین کی جانب سے سوال اٹھایا جارہا ہے کہ قطر پر اسرائیلی حملے کے بعد امریکہ کی جانب سے دی گئی سکیورٹی کی ضمانت کی کیا وقعت رہ جاتی ہے؟ ماہرین کا خیال ہے کہ قطر پر حملے کے بعد مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک کا بھی ان ضمانتوں پر اعتماد متزلزل ہو گا اور سعودی عرب ‘پاکستان کے درمیان باہمی دفاع کے سٹریٹجک معاہدے کو اسی سلسلے کی کڑی قراردیا جارہا ہے.

رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے کنگ فیصل سینٹر فور ریسرچ اینڈ اسلامک سٹڈیز سے منسلک تجزیہ کار عمر کریم کا کہنا ہے یہ بہت واضح ہے کہ قطر پر اسرائیلی حملے کے بعد پہلے سے طے سکیورٹی انتظامات جس کے تحت امریکہ کچھ خلیجی ممالک کی سکیورٹی کا ضامن ہے وہ اب مو¿ثر طریقے سے کام نہیں کر رہا ان کا کہنا ہے کہ سکیورٹی کی ضمانت پر پورا نہ اتر پانا اور اسرائیلی حملے میں امریکہ کے ملوث ہونے کے خدشات کے سبب خلیجی ممالک اپنی سکیورٹی کے لیے کسی دوسری طرف دیکھنے پر مجبور ہو رہے ہیں.

عمرکریم کا کہنا ہے کہ عرب ممالک کو کوئی ایسا ملک جو انہیں اسرائیلی حملے کے خلاف ڈیٹرینس فراہم کر سکے اور سعودی عرب کے نظریے سے یہ خلا صرف پاکستان پر کر سکتا ہے کیونکہ اس کے پاس نہ صرف جوہری بلکہ کنوینشنل صلاحیتیں بھی ہیں اس کے علاوہ سعودی عرب کی حرمین کے نگہبان ہونے کی حیثیت بھی اسے ممتازبناتی ہے ‘ماہرین کے نزدیک جس طرح ویٹیکن سیکورٹی کے لیے سوئٹرزلینڈکی اسپیشل فورسز پر انحصاراسی طرح مسلمان ممالک میں پاکستان فوجی طاقت کے لحاظ سے طاقتور ملک ہے جسے معاشی معاونت کی ضرورت ہے اور سعودی عرب کو اپنے دفاع کی اور دونوں ممالک کی یہ ضرورتیں بھی اس معاہدے کی اہم وجہ ہیں.

ماہرین کے مطابق سعودی عرب امریکا کے فراہم کردہ دفاعی نظام پر انحصار نہیں کر سکتااور نہ ہی وہ براہ راست روس یا چین کے دفاعی نظام خرید سکتا ہے امریکی دفاعی نظام کو مکمل طور پر آپریشنل رکھنے کے لیے ریاض کو امریکی تعاون درکار ہوتا ہے دفاعی تجزیہ کار وں کا کہنا ہے کہ سعودی افواج کے سربراہ پاکستان میں تربیت حاصل کرتے ہیں، دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی مشقیں ہوتی ہیں اور پاکستان کے سابق فوجی افسران سعودی عرب میں دفاعی مشیر کے طور پر بھی خدمات سرت انجام دیتے ہیں.

ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ سعودی عرب کے پاس زیادہ تر اسلحہ امریکی ہے اور لڑاکا طیارے بھی موجود ہیں لیکن سعودی عرب مغربی ممالک سے اسلحے کی خریداری پاکستان کی مشاورت سے کرتا ہے اور پاکستان ہی سعودی فوجیوں کو مغربی اسلحہ استعمال کرنے کی تربیت دیتا ہے . کنگ فیصل سینٹر کے تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ پاکستان نزدیک اس معاہدے سے سعودی عرب میں انڈین اثر و رسوخ کم ہونے کا امکان ہے اور اقتصادی محاذپر مددکے علاوہ اسے نئے ہتھیار بنانے کے لیے مالی مدد ملے گی ماہرین کا کہنا ہے کہ ابھی تک پاکستان کی جانب سے اعلامیہ سامنے آیا ہے تاہم معاہدے کی تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں ‘معاہدے کی تفصیلات منظرعام پر آنے کے بعد جزیات پر تبصرہ کیا جاسکتا ہے تاہم تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس معاہدے سے مسلم دنیا کے اہم ملکوں اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی اہمیت بڑھے گی.

رپورٹ کے مطابق ایک دہائی قبل مسلم لیگ نون کے قائدنوازشریف کی حکومت کے دوران سعودی عرب نے یمن میں اس وقت کے صدر عبدالرب منصور ہادی کی حکومت بحال کرنے اور حوثیوں باغیوں کے خلاف جنگ میں پاکستان سے بحری جہاز، ہوائی جہاز اور فوجی اہلکار بھیجنے کی درخواست کی تھی لیکن اس وقت پاکستان کی پارلیمنٹ نے سعودی درخواست کو رد کر دیا تھا اور متفقہ طور پر یمن جنگ میں”غیر جانبداری“ قائم رکھنے کی قرار داد منظور کی تھی دونوں ممالک کے درمیان تعلقات پارلیمنٹ کی اس قرارداد کے بعد متاثر ہوئے تھے.

عمر کریم کہتے ہیں کہ ان کے نزدیک یہ دفاعی معاہدہ اس بات کی طرف ہی اشارہ کرتا ہے کہ پاکستان ماضی میں یمن معاملے پر اختیار کیے گئے موقف سے پیچھے ہٹ رہا ہے ان کا کہنا ہے کہ اس وقت یہ فیصلہ پاکستان کی پارلیمنٹ نے لیا تھا اور تاہم اب فیصلہ سازی کے اعتبار سے پاکستانی پارلیمنٹ زیادہ وزن نہیں رکھتی . برطانوی نشریاتی ادارے ”بی بی سی“کے مطابق سعودی عرب اگرچہ بھارت کا بڑا معاشی شراکت دار ہے مگر دفاعی معاہدے کے اثرات دہلی میں نظرآرہے ہیں جس کا اندازہ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان معاہدے پر انڈیا کی جانب سے سرکاری موقف میں دیکھنے میں آیا ہے انڈین وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال کا کہنا ہے کہ ہم اس پیشِرفت کے اپنی قومی سلامتی اور بین الاقوامی ستحکام پر مضمرات کا جائزہ لے رہے ہیں مودی حکومت انڈیا کے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے پر عزم ہے.

انڈین تجزیہ کار وں کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان معاہدے پر نئی دہلی میں تشویش پائی جاتی ہے بین الاقوامی امور کے ماہر قمر آغاز نے” بی بی سی“ سے گفتگو میں کہا کہ اگر انڈیا اور پاکستان کے درمیان اب کوئی جنگ ہوتی ہے تو تب پاکستان کو ان سعودی ہتھیاروں تک رسائی حاصل ہو گی جو ریاض نے واشنگٹن سے خریدے ہیں ان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے انڈیا کو یقین دلایا ہے کہ وہ اس کا دوست ملک ہے لیکن دہلی چاہے گا کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان کسی تنازع کی صورت میں سعودی عرب اس معاملے سے دور رہے.

سٹریٹجک امور کے ماہر برہما چیلانی کہتے ہیں کہ ریاض جانتا تھا کہ انڈیا پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان باہمی دفاع کے معاہدے کو اپنی قومی سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ سمجھے گا پھر بھی اس نے یہ معاہدہ کیا ان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اس معاہدے کے تحت فوجی افراد قوت کے لیے پاکستان پر انحصار کر رہا ہے اور نئی دہلی اور واشنگٹن کو اشارہ دے رہا ہے کہ وہ اپنا راستہ خود بنائے گا تاہم بعض بھارتی تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ معاہدہ پاکستان اور بھارت کو قریب لانے کا سبب بھی بن سکتا ہے کیونکہ سعودی عرب کے دونوں ملکوں کے ساتھ مفادات وابستہ ہیں ‘بھارت میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی تیل صاف کرنے کے کارخانوں سمیت مختلف شعبوں میں اربوں ڈالرکی سرمایہ کاری ہے جبکہ پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدے کے بعد ریاض اور اسلام آباد کے تعلقات کو ایک نئی سمت ملے گی تجزیہ نگار پاکستانی پالسیوں کے تسلسل کے حوالے سے تشویش کا شکار ہیں کیونکہ پاکستان میں پالیسیوں کا تسلسل نہ ہونے سے ملک ہمیشہ مشکلات کا شکار رہا ہے .

امریکی جریدے”بلومبرگ“نے بھارتی صحافی سہاسنی حیدر کے حوالے سے بتایا کہ قطر پر اسرائیل کے حملے سے خلیجی ممالک کی سلامتی خطرے میں پڑنے کے بعد سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان باہمی دفاعی معاہدہ طے پایا، لیکن سوال یہ ہے کہ انڈیا کے جانب سے پہلے سے جاری آپریشن سندور کے لیے اس کا کیا مطلب ہو گا؟ جبکہ انڈین کانگریس پارٹی کے راہنما تیجسوی پرکاش نے اس معاہدے کو حیران کن قرار دیا انہوں نے لکھا کہ پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ کر لیا ہے جس کے تحت ایک ملک پر حملہ دوسرے پر حملہ تصور کیا جائے گا، یہ ایک سنجیدہ سٹریٹجک شفٹ ہے، جس سے اسلام آباد کی سکیورٹی مضبوط ہو گی .

تیجسوی پرکاش نے وزیراعظم مودی پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ مودی حکومت تصویروں اور پراپیگنڈا سے لوگوں کی توجہ بٹا رہی، جبکہ انڈیا کا اثر و رسوخ مشرقِ وسطیٰ میں کم ہو رہا ہے جوہری ہتھیاروں کی محقق اور مصنفہ رابعہ اختر کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اور پاکستان میں غیررسمی دیرینہ دفاعی معاہدہ موجود ہے لیکن موجودہ معاہدے نے سکیورٹی تعلقات کو باقاعدہ معاہدے کی شکل دے دی ہے.

بلومبرگ کے مطابق ان کا کہنا ہے کہ جوہری ڈیٹرنس کے بارے میں، میرے خیال میں یہ ایک واضح یقین دہانی ضرور ہے لیکن یہ نظریاتی تبدیلی نہیں اس بات کا امکان نہیں ہے کہ پاکستان باضابطہ طور پر ریاض کو جوہری تحفظ دے گا لیکن اس معاملے میں ابہام ہی سعودی مقاصد کو پورا کر سکتا ہے. افغانستان کے لیے امریکہ کے سابق خصوصی سفیرزلمے خلیل زاد کا کہنا تھاکہ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین باہمی دفاعی معاہدے کا اعلان ایک نتیجہ خیز اقدام ہے یہ کوئی ٹریٹی نہیں ہے لیکن یہ معلوم نہیں ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب ٹریٹی اور معاہدے میں کوئی تفریق کرتے ہیں یا نہیں انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ قطر پر اسرائیل کے حملے کا ردعمل ہے؟ انہوں نے سوال پوچھتے ہوئے لکھا کہ کیا اس معاہدے میں خفیہ شرائط ہیں اور اگر ہیں تو وہ کیا ہیں؟ کیا یہ معاہدہ سعودی عرب اور شاید دوسروں کی امریکی ڈیٹرنس اور دفاع پر اعتماد میں کمی کا اشارہ ہے؟ پاکستان کے پاس جوہری ہتھیار اور ترسیل کا نظام ہے جو اسرائیل سمیت پورے مشرق وسطیٰ میں اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے یہ ایسے نظام بھی تیار کر رہا ہے جو امریکہ میں اہداف تک پہنچ سکتا ہے سوالات بہت ہیں.

واشنگٹن ڈی سی میں قائم سٹیمسن سینٹر کے سینئر فیلو اسفندیار میر نے اس معاہدے کو دونوں ممالک کے لیے ”واٹرشیڈ“ قرار دیا اور کہا کہ پاکستان نے پہلے سرد جنگ کے دوران امریکہ کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے برقرار رکھے تھے لیکن وہ 70 کی دہائی میں ٹوٹ گئے یہاں تک کہ چین کے ساتھ وسیع دفاعی تعاون کے باوجود پاکستان کے پاس باضابطہ باہمی دفاعی معاہدے کی کمی ہے یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی سڈنی میں جنوبی ایشیا کے سیکیورٹی ریسرچر محمد فیصل نے کہا کہ یہ معاہدہ پاکستان کے لیے خلیج کے دو اہم شراکت داروں متحدہ عرب امارات اور قطر کے ساتھ اسی طرح کے دو طرفہ دفاعی تعاون میں شامل ہونے کے لیے ایک ٹیمپلیٹ کے طور پر کام کر سکتا ہے.

دونوں ملکوں کے درمیان معاہدہ اس وقت ہوا جب مشرق وسطیٰ کی جیو پولیٹیکل بساط تیزی سے چل رہی ہے اسرائیل کے قطر ہر حملے نے خلیجی ریاستوں کو بے چین کر دیا ہے جو امریکہ کی سلامتی کی ضمانتوں پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہیں جبکہ کہ واشنگٹن اسرائیل کا سب سے قریبی اتحادی ہے قطر امریکی سینٹرل کمانڈ (کوم سیٹ) کے فارورڈ ہیڈ کوارٹر کے طور پر کام کرتا ہے اور2025 کے وسط تک تقریبا 40سے50ہزار امریکی فوجی مشرق وسطیٰ میں تعینات ہیں جن میں سے درجنوں ریاض کے نزدیک پرنس سلطان ایئر بیس پر تعینات ہیں سعودی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ساتھ معاہدہ کم از کم ایک سال سے کام کر رہا ہے واشنگٹن ڈی سی میں موجود دفاعی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یقینی طور پر یہ معاہدہ امریکا کے لیے تشویش کا باعث بنے گا سال2021 سے 2025 تک اپنے دور حکومت کے دوران صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے بیلسٹک میزائل کی مبینہ ترقی پر پاکستانی افراد اور فرموں کو نشانہ بناتے ہوئے سات مواقع پر پابندیاں عائد کیں بائیڈن انتظامیہ کے عہدیداروں نے عوامی طور پر پاکستان کے میزائلوں کی رینج کے بارے میں بھی تشویش کا اظہار کیا اور کیا وہ جوہری ہتھیار امریکہ تک لے جا سکتے ہیں.

بلومبرگ سے گفتگو میں جنوبی ایشیا کے تجزیہ کار اور کینیڈا کی ایشیا پیسیفک فاﺅنڈیشن کے نان ریذیڈنٹ فیلو مائیکل کوگل مین نے کہا کہ پاکستان نے صرف ایک نئے باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط نہیں کیے ہیں بلکہ اس نے ایک قریبی اتحادی کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں جو بھارت کا بھی ایک اعلیٰ شراکت دار ہے انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ مستقبل میں بھارت کے ساتھ جھڑپوں کو نہیں روک سکتا لیکن یہ پاکستان کو بہت اچھی جگہ پر چھوڑ دیتا ہے کیونکہ اسلام آباد اب چین، ترکی اور سعودی عرب کو اپنے اہم حمایتیوں میں شمار کرتا ہے.

سعودی عرب نے اس سال کے شروع میں ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ کے دوران توانائی کے تعلقات کو فروغ دینے اور دفاع سمیت صنعتوں کی ایک وسیع رینج پر زیادہ قریبی تعاون کرنے پر اتفاق کیا جبکہ سعودی مملکت نے پاکستان کو تقریباً 5 بلین ڈالر کے قرضے اور موخر ادائیگیوں پر تیل بھی دیا. تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اور دیگر اہم عرب ریاستوں کی روس اور چین کی قیادت میں اقتصادی اتحاد”برکس“میں گہری دلچسپی رکھتی ہیں اور عرب ممالک چند سالوں سے ماسکو اور بیجنگ کے قریب آرہے ہیں ‘ان کا کہنا ہے کہ مستقبل میں مشرق وسطی اورجنوبی ایشیاءکے درمیان تعلقات میں اضافہ نظرآرہا ہے ماہرین کے مطابق روس اور چین پہلے ہی پاکستان اور بھارت پر تجارتی تعلقات بڑھانے کے لیے زوردے رہے ہیں اگر ان کوششوں میں بااثرسعودی اور دیگر عرب ملک شامل ہوجاتے ہیں تو دنیا کی تجارت اور طاقت کے توازن کو ایک نیا رخ ملے گا . 

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کا کہنا ہے کہ سعودی عرب پاکستان اور سعودی عرب سعودی عرب کے درمیان باہمی دفاعی معاہدے پاکستان کے درمیان اور سعودی عرب کے ان کا کہنا ہے کہ اور پاکستان کے قطر پر اسرائیل اسرائیلی حملے سعودی عرب اور ہے کہ پاکستان تجزیہ نگاروں دفاعی معاہدہ اسرائیل کے باہمی دفاع پاکستان کی کی جانب سے معاہدے کو یہ معاہدہ اس معاہدے معاہدے کی تجزیہ کار معاہدے پر کہ قطر پر ہے کہ قطر کے مطابق انہوں نے کے دوران رہے ہیں ہے لیکن حملے کے سکتا ہے کر سکتا کرتا ہے کے ساتھ رہا ہے کر رہا کے بعد ہیں اس کہا کہ ہے اور کے پاس کے لیے

پڑھیں:

برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔

ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔

عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔

خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔

ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:

- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements

End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq

— Kim Johnson (@KimJohnsonMP) July 23, 2026

فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔

خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • پاک ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز، ٹرافی کی رونمائی کردی گئی
  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل