پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدہ: کیا سعودی عرب کے بعد دیگر عرب ممالک بھی حصہ بنیں گے؟ WhatsAppFacebookTwitter 0 18 September, 2025 سب نیوز

اسلام آباد (آئی پی ایس )پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے دفاعی معاہدے کو بعض مبصرین عرب خطے کے لیے اہم قرار دے رہے ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان یہ معاہدہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب مشرقِ وسطی اور جنوبی ایشیا دونوں خطوں میں کشیدگی عروج پر ہے۔پاکستانی وزارتِ خارجہ کے مطابق دفاعی معاہدہ دونوں ممالک کے مشترکہ عزم کی نمائندگی کرتا ہے کہ کسی بھی جارحیت کی صورت میں مشترکہ دفاع کیا جائے گا اور کسی ایک ملک کے خلاف جارحیت دونوں کے خلاف جارحیت تصور کی جائے گی۔

گزشتہ دو برس کے دوران غزہ جنگ، پڑوسی ممالک پر حملے اور قطر پر اسرائیل کے حالیہ حملے نے خطے کی صورت حال کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ دوسری جانب مئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان چار روزہ جھڑپ نے دونوں ایٹمی ہمسایوں کو مکمل جنگ کے دہانے پر پہنچا دیا تھا۔ایسے موقع پر وزیرِاعظم شہباز شریف نے بدھ کو سعودی عرب کا دورہ کیا تھا، جہاں انہوں نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ہمراہ ریاض کے الیمامہ پیلس میں ایک اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

اس معاہدے نے نہ صرف دونوں اسلامی برادر ممالک کے تعلقات کو نئی بلندیوں پر پہنچا دیا ہے کہ بلکہ خطے میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی سیاسی اور دفاعی اہمیت کو بھی اجاگر کیا ہے۔واضح رہے کہ وسطی ایشیائی اور عرب ریاستوں کا دفاع علاقائی اور عالمی طاقتوں سے مضبوط دفاعی تعاون سے جڑا ہے اور پاکستان نہ صرف اس خطے کی اہم دفاعی طاقت ہے بلکہ اسلامی دنیا کی واحد نوکلیئر پاور بھی ہے۔

قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق واشنگٹن کے اسٹِمسن سینٹر سے وابستہ سینئر تجزیہ کار اسفند یار میر نے معاہدے کو دونوں ممالک کے لیے ایک اہم موڑ قرار دیا۔ ان کے مطابق پاکستان نے سرد جنگ کے دوران امریکا کے ساتھ دفاعی معاہدے کیے تھے جو بعد ازاں ختم ہو گئے جب کہ چین کے ساتھ وسیع تعاون کے باوجود کوئی باضابطہ دفاعی معاہدہ موجود نہیں۔

سڈنی یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے محقق محمد فیصل کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ متحدہ عرب امارات اور قطر جیسے خلیجی شراکت داروں کے ساتھ مستقبل میں دوطرفہ دفاعی تعاون کے لیے بھی بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔ ان کے بقول اس سے مشترکہ فوجی تربیت، دفاعی پیداوار اور سعودی عرب میں پاکستانی دستوں کی ممکنہ توسیع کے امکانات کھلیں گے۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے رواں برس جون میں ایران پر حملہ کیا تھا جس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان 12 روز تک جنگ جاری رہی۔ اسرائیلی کارروائیوں کا سلسلہ ایران تک ہی نہ رکا بلکہ اس نے 9 ستمبر کو غزہ جنگ کے ثالث ملک قطر پر بھی فضائی حملہ کیا، جس کے بعد خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک نے مشترکہ دفاعی نظام فعال کرنے کا اعلان کیا تھا۔ محمد فیصل کا کہنا ہے کہ ان حالات میں خلیجی ممالک امریکی سیکیورٹی ضمانت پر انحصار کم کرتے ہوئے پاکستان، ترکی اور مصر جیسے علاقائی ممالک کو فطری شراکت دار کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرریکوڈک منصوبے سے طویل المدتی سماجی و اقتصادی خوشحالی آئے گی، وفاقی وزیرخزانہ ریکوڈک منصوبے سے طویل المدتی سماجی و اقتصادی خوشحالی آئے گی، وفاقی وزیرخزانہ پاکستان اور چین کی دوستی وقت کی آزمائش پر پوری اتری: صدر آصف علی زرداری ڈریپ کو ایک بین الاقوامی معیار کی ریگولیٹری اتھارٹی بنانے کیلئے پر پرعزم ہیں،وزیر صحت مصطفی کمال شفاف اور فوری تحقیقات کیلئے ایف آئی اے و نادرا کے درمیان ڈیٹا شیئرنگ پر اتفاق اسلام آباد ہائیکورٹ، توشہ خانہ 2میں بریت کیس فوری سننے کیلئے درخواست سماعت کیلئے مقرر بانی پی ٹی آئی عمران خان کا ایکس اکاونٹ کون ہینڈل کر رہا ہے؟، تحقیقات جاری TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: دفاعی معاہدہ کے ساتھ کے بعد

پڑھیں:

ٹرمپ کے بدلتے پینترے

امریکا ایران معاہدے کے حوالے سے فریقین کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ بعض معاملات پر دونوں جانب سے سخت گیر موقف کے باعث مذاکرات کی تان بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات، غیر لچکدار رویے اور نت نئی شرائط پیش کرنے کی وجہ سے تادم تحریر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ نیز مذاکرات کا عمل ہنوز جاری ہے۔

دونوں جانب سے تجاویز اور شرائط کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سر توڑ کوشش میں مصروف ہے کہ کسی صورت امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے اور حتمی معاہدہ طے پا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، سروں پر منڈلاتے جنگ کے بادل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے ابھی چند روز قبل فیلڈ مارشل نے ایران کا ہنگامی دورہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے مجوزہ امن معاہدے کے نکات پر بات چیت کی۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے فیلڈ مارشل کے تہران کے دورے کو نمایاں طور پر شائع کیا جس کے مطابق فیلڈ مارشل کے تہران دورے نے مذاکرات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

 ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو تین نکات پر اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ کے دو اہم نکات پر مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر جنگ کے آغاز سے پہلے کی طرح مکمل ایرانی کنٹرول پر بھی اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کرے، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیا دیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔

دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ اہم بیان دیا ہے کہ ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کو تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے ایران کی اعلانیہ پیش کش کے بعد صدر ٹرمپ کا افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی پر زور دینے کا جواز باقی نہیں رہتا، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

ہمارے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، اس امر کا عکاس ہے کہ اسرائیل امریکا ایران ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے نیتن یاہو کی کوشش اور خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ان کی مرضی کے مطابق ہو اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم نہ پڑنے پائے۔ اسی باعث وہ صدر ٹرمپ کو بہکاتے اور اکساتے رہتے ہیں اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی سازشی چالوں کے فریب میں آ کر ایسے دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے ہیں جن سے امن مذاکرات چار قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پرنالہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔

 ابھی امن مذاکرات حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے پھر معاہدہ ابراہیمی کا نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور دوبارہ جنگ ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز صبح شام بدلتے بیانات مطالبات اور کڑی شرائط معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • مصر کے وزیرِ خارجہ کا اسحاق ڈار کو ٹیلیفون، خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان