جنرل سکریٹری نے کہا کہ حالات نہایت تشویشناک ہیں کیونکہ وہ ادارہ، جس پر آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کرانے کی ذمہ داری ہے، خود انتخابی عمل کو نقصان پہنچانے میں شریک ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے الیکشن کمیشن پر سنگین الزام لگاتے ہوئے کہا کہ یہ آئینی ادارہ انتخابی عمل کو تباہ کرنے میں پیش پیش ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ کانگریس کے رکن پارلیمان اور قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کی پریس کانفرنس دیکھیں اور سمجھیں کہ ملک میں کیا ہو رہا ہے۔ پرینکا گاندھی نے زور دیا کہ "ہم سب کو آئین اور جمہوریت کے دفاع کے لئے متحد ہونا ہوگا"۔ پرینکا گاندھی نے کہا کہ حالات نہایت تشویشناک ہیں کیونکہ وہ ادارہ، جس پر آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کرانے کی ذمہ داری ہے، خود انتخابی عمل کو نقصان پہنچانے میں شریک دکھائی دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ وقت عوامی بیداری اور اتحاد کا ہے تاکہ ملک کو آئین سے ہٹانے کی کوششوں کو روکا جا سکے۔

انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سب کو راہل جی کی پریس کانفرنس دیکھنی چاہیئے تاکہ پتہ چلے کہ ہمارے ملک میں اصل میں کیا چل رہا ہے اور کس طرح الیکشن کمیشن انتخابی عمل کو برباد کرنے میں شامل ہے، ہمیں سب کو مل کر اپنے آئین، جمہوریت اور ملک کے لئے لڑنا ہوگا۔ خیال رہے کہ راہل گاندھی نے ایک پریس کانفرنس کے دوران الیکشن کمیشن کے کردار پر براہ راست سوال اٹھاتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر ووٹ چوروں کو تحفظ دینے کا الزام عائد کیا۔

راہل گاندھی نے کہا کہ ان کی پارٹی کے حامی ووٹروں کے نام جان بوجھ کر ووٹر لسٹ سے ہٹائے جا رہے ہیں، جو جمہوریت کی کھلی توہین ہے۔ انہوں نے کہا کہ گیانیش کمار کو ووٹ چوروں کو تحفظ دینا بند کرنا چاہیئے، یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ عوامی رائے کا احترام کیا جائے۔ راہل گاندھی نے مزید کہا کہ ایک ہفتے کے اندر الیکشن کمیشن کو چاہیئے کہ وہ کرناٹک کی سی آئی ڈی کے ساتھ مکمل معلومات شیئر کرے تاکہ اصل حقائق سامنے آئیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: انتخابی عمل کو پرینکا گاندھی الیکشن کمیشن راہل گاندھی گاندھی نے نے کہا کہ انہوں نے

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن