آم کی برآمدات میں جعلسازی ،سنگین انکشافات پر تحقیقات کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی غذائی تحفظ کے اجلاس میں آم کی برآمدات میں جعلسازی اور ناقص پالیسیوں کا انکشاف ہوا۔ جعلی سرٹیفکیٹس اور فود سیفٹی اتھارٹی کی غفلت پر برآمد کنندگان نے شکایات کیں۔ چیئرمین کمیٹی نے معاملے کی تحقیقات کے لیے تین رکنی کمیٹی قائم کر دی۔
کراچی میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی غذائی تحفظ کے اجلاس میں آم کی برآمدات سے متعلق جعلسازی کے سنگین انکشافات سامنے آ گئے۔ کراچی میں منعقدہ اجلاس کے دوران برآمد کنندگان نے فود سیفٹی اتھارٹی کی کارکردگی اور پالیسیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
ایکسپورٹرز کا کہنا تھا کہ اتھارٹی کی غفلت اور ناقص پالیسیوں کے باعث رواں سیزن میں آم کا برآمدی ہدف مکمل ہونا ممکن نظر نہیں آتا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ دو ہزار گز کے رقبے پر قائم ایک پلانٹ سے یومیہ سترہ کنٹینرز کی ہاٹ واٹر ٹریٹمنٹ دکھا کر جعلی فائٹو سینیٹری سرٹیفکیٹس جاری کیے جا رہے ہیں۔
اجلاس میں وزارت غذائی تحفظ کے کسی اعلیٰ عہدیدار کی عدم شرکت اور درآمدی اجناس پر فیومگیشن کے بغیر ریلیز آرڈر جاری ہونے پر کمیٹی نے سخت تحفظات کا اظہار کیا۔ چیئرمین قائمہ کمیٹی سینیٹر مسرور احسن نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی۔
اجلاس میں ایکسپورٹرز نے مجوزہ ایس او پیز پر عملدرآمد نہ ہونے اور ٹریٹمنٹ کے لیے مخصوص پلانٹس کو نوازنے کی شکایت بھی کی۔ چیئرمین کمیٹی نے ڈی پی پی کے سربراہ کے طور پر نان ٹیکنیکل کسٹمز افسر کی تقرری پر وفاقی وزیر اور سیکرٹری سے بازپرس کا عندیہ دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ دنیا بھر میں چاول اور مکئی کو کیڑوں سے پاک کرنے کے جدید طریقے اپنائے جا چکے ہیں، لیکن پاکستان میں اب تک اس اہم شعبے میں بنیادی اصلاحات نہیں لائی جا سکیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اجلاس میں
پڑھیں:
ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔
سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔