وزیر اعظم کے زیر صدارت اجلاس، نیشنل ٹیرف کمیشن کی ہنگامی بنیادوں پر تنظیم نو کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
ویب ڈیسک:وزیراعظم شہباز شریف نے نیشنل ٹیرف کمیشن کی قانونی، انتظامی اور دیگر اداراجاتی اختیارات و فرائض کی ہنگامی بنیادوں پر تنظیم نو کی ہدایت کردی۔
وزیر اعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق شہباز شریف کی زیر صدارت نیشنل ٹیرف کمیشن کی کارکردگی پر جائزہ اجلاس ہوا،اجلاس میں وزیراعظم نے ہدایت دی کہ نیشنل ٹیرف کمیشن کی حالیہ کارکردگی کی تھرڈ پارٹی نظر ثانی کی جائے تاکہ اس کو مزید فعال بنایا جائے , نیشنل ٹیرف کمیشن کی نئی ٹیرف رجیم کے تقاضوں کی بخوبی انجام دہی کے لیے جدید خطوط پر تنظیم نو ناگزیر ہے، نیشنل ٹیرف کمیشن کے پاس ملکی کاروبار، درآمدات و برآمدات مارکیٹ کے متعلق تمام زمینی حقائق اکٹھے کرنے کی موثراستعداد ہونی چاہیے، نیشنل ٹیرف کمیشن کی خودکار اور موثر تحقیقی استعداد ملکی کاروبار کو درپیش مسائل حل کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔
لاہور میں 229 ٹریفک حادثات؛ 280 افراد زخمی
شہباز شریف نے کہا کہ حکومت، نیشنل ٹیرف کمیشن کی تربیت و وسائل کی کمی اور اسکے کام کو جدید تقاضوں سے ہم اہنگ کرنے کیلئے پرعزم ہے،وزیر اعظم نے نیشنل ٹیرف کمیشن کے اپیلیٹ ٹریبونل کو فوری طور پر فعال کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ جاری کردہ نئی ہدایات پر پیشرفت کی بریفنگ اگلے ماہ دی جائے۔
اجلاس میں وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیرِ اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک اور متعلقہ اعلی سرکاری عہدیداروں نے شرکت کی۔
موٹر سائیکل اور گاڑیوں کی ٹرانسفر فیس میں 10 فیصد اضافہ
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: نیشنل ٹیرف کمیشن کی وفاقی وزیر
پڑھیں:
دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن(Establishment Division) نے دفتری نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ ماحول کو بہتر بنانے کے لیے نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام افسران اور اہلکاروں کو مقررہ دفتری اوقات، بائیومیٹرک حاضری اور لباس کے ضوابط پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
جاری کردہ سرکلر کے مطابق تمام ملازمین کے لیے صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کے سرکاری اوقاتِ کار پر مکمل عمل درآمد لازمی ہوگا، جبکہ مقررہ وقت پر دفاتر میں حاضری یقینی بنانے کے لیے بائیومیٹرک حاضری کے نظام پر سختی سے عمل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
سرکلر میں سرکاری ملازمین کے لیے ڈریس کوڈ بھی واضح کیا گیا ہے۔ ہدایات کے مطابق افسران اور اہلکار یا تو لاؤنج سوٹ پہنیں یا پھر شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ زیب تن کریں تاکہ دفاتر میں پیشہ ورانہ اور باوقار ماحول برقرار رکھا جا سکے۔
مزیدپڑھیں:آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دفتری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے راہداریوں میں شور شرابے اور بلند آواز میں گفتگو سے بھی گریز کرنے کی ہدایت کی ہے، تاکہ سرکاری امور کی انجام دہی کے دوران پرسکون اور منظم ماحول برقرار رہے۔
سرکلر میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تمام ہدایات فوری طور پر نافذ العمل ہیں اور متعلقہ افسران کو ان پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔