کچی پیاز کھانے کے حیران کُن فوائد
اشاعت کی تاریخ: 8th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کچی پیاز صرف سالن یا سلاد کا ذائقہ بڑھانے تک محدود نہیں، بلکہ یہ صحت کے لیے ایک قیمتی خزانے کی حیثیت رکھتی ہے۔
اس میں موجود قدرتی اینٹی آکسیڈنٹس، اینٹی بیکٹیریل خصوصیات، وٹامنز اور منرلز انسانی جسم پر کئی مثبت اثرات مرتب کرتے ہیں۔ فلاوونائڈز جیسے مرکبات دل کی شریانوں کو صاف رکھنے میں مدد دیتے ہیں، جبکہ کچی پیاز بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کو کم کرنے میں بھی مؤثر سمجھی جاتی ہے، جو دل کے دورے کے خطرے کو نمایاں حد تک کم کر سکتی ہے۔ یہ خصوصاً ٹائپ 2 ذیابیطس کے مریضوں کے لیے فائدہ مند مانی جاتی ہے۔
پیاز میں موجود سلفر مرکبات اور کوئرسیٹن بلڈ شوگر کو متوازن رکھنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ، کچی پیاز میں وٹامن C، زنک اور دیگر اینٹی آکسیڈنٹس شامل ہوتے ہیں جو جسمانی قوتِ مدافعت کو مضبوط بناتے ہیں۔
یہ وائرل اور بیکٹیریل انفیکشنز سے تحفظ فراہم کرتی ہے اور جسم کا درجہ حرارت معتدل رکھنے میں معاون ہوتی ہے۔ خاص طور پر گرمیوں میں کچی پیاز کا استعمال ہیٹ اسٹروک سے بچاؤ میں مدد دیتا ہے۔
کچی پیاز میں موجود فائبر آنتوں کی صفائی میں کردار ادا کرتا ہے، جبکہ اس کی پری بایوٹک خصوصیات آنتوں میں مفید بیکٹیریا کی افزائش کو فروغ دیتی ہیں۔ اینٹی آکسیڈنٹس دماغ میں آکسیڈیٹیو تناؤ کو کم کر کے یادداشت اور ذہنی کارکردگی کو بہتر بناتے ہیں۔
تحقیقات سے یہ بھی پتا چلا ہے کہ پیاز کا استعمال ہڈیوں کی مضبوطی میں مدد دیتا ہے، خاص طور پر خواتین میں۔ اس کے اندر موجود سلفر مرکبات اور کوئرسیٹن جیسے اجزا بعض اقسام کے کینسر (خصوصاً آنتوں، معدے اور پروسٹیٹ کینسر) کے خلیات کی نشوونما کو روکنے میں بھی مفید ہو سکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے
فائل فوٹو۔جناح اسپتال کراچی کے واش روم میں بچے کی پیدائش کے معاملے پر تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹرکو جمع کروا دی۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا متاثرہ خاتون رات ساڑھے 9 بجے گائنی وارڈ میں آئی، گائنی وارڈ میں کسی نے بھی خاتون کو طبی امداد نہیں دی۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق خاتون کا الٹرا ساؤنڈ نہیں کروایا گیا اور چہل قدمی کا مشورہ دیا گیا۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق کنسلٹنٹ اور آر ایم او ڈیوٹی پر موجود نہیں تھے، مریضوں کے ساتھ آنے والے مرد گائنی وارڈ کے احاطےمیں موجود تھے۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق میڈیکل آفسر کو محکمہ صحت بھیجنے اور ڈیوٹی پر موجود پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹرز کی 3 ماہ مزید ٹریننگ کی تجویز ہے۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق رپورٹ میں سیکیورٹی گارڈز کی ڈیوٹی پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ کمیٹی کی جانب سے بنائی گئی رپورٹ سیکریٹری اور وزیر صحت کو دے دی گئی۔