حرمین شریفین کی انتظامیہ کے مطابق مسجد الحرام میں خانہ کعبہ کی سالانہ تطہیر کے روح پرور اور تقدس سے لبریز عمل کی تفصیلات جاری کی گئی ہیں جو خوشبو، روحانیت اور شوقِ عبادت سے معمور 3 مراحل پر مشتمل ہے۔

اس مبارک عمل کا پہلا مرحلہ تیاری پر مشتمل ہوتا ہے جس میں 20 لیٹر آب زمزم کو 80 ملی لیٹر خالص عود کے تیل کے ساتھ آمیزش دے کر ایک خوشبودار محلول تیار کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: خانہ کعبہ کی تاریخ کو واضح کرتے 13 حصے کون سے ہیں؟

دوسرا مرحلہ غسل کہلاتا ہے جس میں خانہ کعبہ کو 540 ملی لیٹر طائف شہر کے گلاب کے پانی، 11 لیٹر مخصوص خوشبو اور 3 ملی لیٹر خالص مشک سے دھویا جاتا ہے تاکہ اس مقدس مقام کی فضاؤں میں پاکیزگی اور روحانی تازگی بھر دی جائے۔

تیسرے اور آخری مرحلے میں 500 ملی لیٹر گلاب کا تیل خانہ کعبہ پر لگایا جاتا ہے جبکہ 500 گرام اعلی درجے کا عود جلایا جاتا ہے جس سے پورا حرم معطر اور نورانی ماحول میں ڈھل جاتا ہے۔

ادھر خانہ کعبہ سے متعلق 2 اہم رسومات ہر سال مقررہ تواریخ پر انجام دی جاتی ہیں۔ پہلی رسم غلاف کعبہ کی تبدیلی ہے جو ہر سال 9 ذوالحجہ کو حج کے رکن اعظم یعنی یوم عرفہ کے موقعے پر فجر کی نماز کے بعد انجام دی جاتی ہے۔ اور یہ اس وقت کیا جاتا ہے جب حجاج میدان عرفات کی طرف روانہ ہو چکے ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیں: تپتی دوپہر میں بھی خانہ کعبہ کا فرش ٹھنڈا کیوں رہتا ہے؟

دوسری رسم خانہ کعبہ کی تطہیر کا عمل ہے جو سال میں 2 بار یعنی 15 محرم الحرام اور 15 شعبان المعظم کو ادا کیا جاتا ہے

اس موقعے پر خانہ کعبہ کی دیواروں کو عطر، عود اور گلاب کے پانی سے دھویا جاتا ہے اور اس میں اعلیٰ حکومتی شخصیات اور حرمین شریفین کی انتظامیہ کے اراکین شریک ہوتے ہیں جو اس فریضے کو نہایت محبت سے انجام دیتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

خانہ کعبہ خانہ کعبہ کو غسل عطر عود گلاب معطر خانہ کعبہ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: خانہ کعبہ کو غسل گلاب خانہ کعبہ کی ملی لیٹر جاتا ہے

پڑھیں:

جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت

تقریب سے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی، معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد، مولانا سید عروج زیدی اور مولانا سید فرخ عباس سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: میثم عابدی

جامعہ کراچی میں آئی ایس او ڈسٹرکٹ پروفیشنل اور دفترِ مشیر امورِ طلبہ کے زیر اہتمام سالانہ یومِ حسینؑ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، جس میں جامعہ کے اساتذہ، طلبہ، علمائے کرام اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی رہتی دنیا تک حق و باطل کے درمیان امتیاز کی علامت بنی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی کا مقصد انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی سے آشنا کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج جمہوری اسلامی ایران امریکا اور اسرائیل کے خلاف جس استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہا ہے، وہ تعلیماتِ حسینی کا عملی مظہر ہے۔ تقریب کے مقررین میں معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ کربلا شعور، بصیرت اور حق شناسی کا راستہ ہے، حضرت امام حسینؑ نے اپنی لازوال قربانی سے دینِ اسلام کو نئی حیات عطا کی جبکہ سیدالشہداءؑ سے محبت درحقیقت رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی تاریخِ انسانیت کی عظیم ترین قربانی ہے۔

معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے دینِ اسلام کی سربلندی اور حق کی بقا کے لیے عظیم قربانی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ حسینیت کا راستہ ہی پاکستان میں امن، اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتا ہے۔ اسی موقع پر مولانا سید عروج زیدی نے کہا کہ واقعۂ کربلا پوری انسانیت کے لیے ایک ہمہ گیر نمونۂ عمل ہے، جو انسان کو بیداری، حق شناسی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ تقریب کے درمیان شیعہ اور سنی شرکاء نے مولانا سید فرخ عباس کی اقتدا میں باجماعت نمازِ ظہرین ادا کی۔ شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ یوم حسینؑ میں مختلف طلبہ تنظیموں کے رہنما بھی شریک تھے۔

متعلقہ مضامین

  • حکومت نے قرضوں پر مارک اپ کی شرح 11.89 فیصد سالانہ مقرر کردی
  • رانا ثنا اور امیر مقام کی برطانوی بزنس مین سے ملاقات، راجہ وسیم نے غلاف کعبہ بطور تحفہ پیش کیا
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • مانچسٹر، پاکستانی قونصل خانہ کے اوقات میں اضافہ
  • خیبر پی کے میں بلدیاتی انتخابات 2 مراحل میں ہونے کا امکان 
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری