Jasarat News:
2026-07-24@09:19:12 GMT

شام، ابراہام معاہدے اور گولان پہاڑی

اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اور تم ان لوگوں کی طرف ہرگز نہ جھکو جنہوں نے ظلم کیا، ورنہ تمہیں بھی آگ آ پکڑے گی۔ (ہود: 113) قرآن نے بارہا مسلمانوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ باطل کے ساتھ مصالحت نہ کریں اور نہ ہی ظلم و استبداد کے سامنے خاموش تماشائی بنیں، کیونکہ ظلم کے ساتھ خاموشی، گناہ میں شرکت کے مترادف ہے۔ اْمّتِ مسلمہ ایک ایسا جسم ہے، جس کے کسی ایک حصے کو چوٹ لگے تو پورا جسم تڑپ اٹھتا ہے۔ مگر افسوس کہ آج یہی اْمّت، اپنے وجود پر لگنے والے زخموں کو مصلحت کی پٹیوں سے ڈھانپ رہی ہے، اور اپنے مظلوم بھائیوں کے لہو سے سیاست کی شطرنج کھیل رہی ہے۔
قبلۂ اوّل کی حرمت، فلسطین کی جدوجہد اور اسلامی وحدت کا تقاضا یہی ہے کہ مسلم قیادتیں ہر اس معاہدے اور سمجھوتے کو رد کریں جو صہیونیت کی بالادستی کو تسلیم کرنے کے مترادف ہو۔ مگر موجودہ منظرنامہ ایک ایسے اخلاقی بحران کی نشاندہی کرتا ہے جس میں ضمیر کی آوازیں خاموش اور مفادات کی صدائیں بلند ہو چکی ہیں۔ یہ مضمون اسی فکری و اخلاقی بحران پر ایک تفصیلی نگاہ ہے۔ شام جیسے ملک کی طرف سے ابراہام معاہدوں کی حمایت اور گولان پہاڑی پر خاموشی، محض سیاسی حکمت ِ عملی نہیں، بلکہ ایک فکری و تہذیبی انحراف کا آئینہ ہے، جو ملّت ِ اسلامیہ کے لیے ایک بیداری کا لمحہ ہے۔ سیاست اگر اصولوں سے عاری ہو جائے تو وہ محض چالاکی کا کھیل بن جاتی ہے، اور اگر کسی ملّت کی قیادت بے ضمیر ہو جائے تو وہ ملّت خود فریب میں مبتلا ہو جاتی ہے۔ شام وہی ملک جہاں خلافت ِ اْمیہ کی عظمت نے جنم لیا، جہاں دمشق کی فضائوں سے اسلام کی روشنی پھیلی، آج اپنی تاریخ، عقیدے، اور وحدتِ ملّت کے برعکس ایسے فیصلوں کی راہ پر گامزن ہے جو اْمّتِ مسلمہ کی اجتماعی روح کو چور چور کر رہے ہیں۔ شام کی نئی حکومت کی جانب سے ابراہام معاہدوں کی حمایت اور گولان پہاڑی کے مسئلے پر خاموش مفاہمت ایسے اقدامات ہیں جو نہ صرف سیاسی بصیرت کے فقدان کی علامت ہیں بلکہ ایک اخلاقی و تہذیبی زوال کا مظہر بھی۔ ابراہام معاہدہ دراصل اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا منصوبہ ہے جس کے تحت اسرائیل کو مشرقِ وسطیٰ کی ایک جائز ریاست تسلیم کر لیا جاتا ہے۔ امریکا کی سرپرستی میں یہ معاہدہ چند عرب ریاستوں کے ذریعے نافذ کیا گیا، جس کی روح میں فلسطینی مزاحمت کو دبانا، قبلۂ اوّل کی اہمیت کو مٹانا، اور صہیونی عزائم کو تقویت دینا شامل ہے۔ شام، جو خود اسرائیلی جارحیت کا شکار رہا ہے، خاص طور پر جس کی گولان کی پہاڑیاں آج بھی اسرائیل کے قبضے میں ہیں، جب وہ ابراہام معاہدے کی حمایت کرے تو یہ سیاسی منافقت سے بڑھ کر تاریخی بے وفائی کا نشان بن جاتا ہے۔ یہی شام ماضی میں فلسطینی کاز کا علمبردار تھا، جہاں سے ’’القدس لنا‘‘ کی صدائیں اٹھتی تھیں۔ اب اگر یہی ملک صہیونی طاقتوں کے ساتھ مفاہمت کرے تو یہ ضمیر کے دیوالیہ پن کی بدترین مثال ہے۔
شام کی حمایت ایک علامتی اعلان ہے کہ اسلامی وحدت صرف کتابی نعرہ رہ گئی ہے اور اب مسلمان ممالک قومی مفاد کی آڑ میں استعماری منصوبوں کا حصّہ بننے لگے ہیں۔ جب ایک کے بعد ایک مسلم ریاست اسرائیل کو تسلیم کرے، تو فلسطینی مزاحمت تنہا ہوتی چلی جاتی ہے۔ شام کی حمایت اس تنہائی کو مزید گہرا کرے گی۔ اسرائیل اس حمایت کو ایک سیاسی فتح سمجھ کر اپنے قدم عرب دنیا میں اور مضبوطی سے جما لے گا۔ اس کا براہِ راست اثر قبلۂ اوّل پر پڑے گا، جسے محض ایک سیاحتی مقام بنا دیا جائے گا۔ یہ وقت علماء، مفکرین اور نوجوان دانشوروں کے لیے آزمائش کا وقت ہے کہ وہ اسلام کی اصل روح عدل، حریت، مزاحمت اور وفاداری کو اجاگر کریں اور سیاسی چالاکیوں کے پردے چاک کریں۔
’’اگر تمہارے دل میں اْمّت کے زخموں کا درد نہیں، تو تمہاری مسکراہٹ بھی ایک دھوکہ ہے‘‘۔ کبھی کچھ زمینیں صرف جغرافیہ نہیں ہوتیں، وہ ضمیر ِ ملّت کا حصّہ بن جاتی ہیں؛ ان کا سودہ فقط سرحدوں کا نہیں، بلکہ غیرت، وفا اور خونِ شہیداں کا سودا ہوتا ہے۔
گولان پہاڑی شام کی وہ سر زمین جو 1967ء کی جنگ کے بعد اسرائیل کے قبضے میں چلی گئی۔ آج شام کی نئی حکومت کی خاموشی کے باعث ایک خطرناک سمجھوتے کی علامت بن چکی ہے۔ دنیا نے اس قبضے کو کبھی تسلیم نہیں کیا، مگر آج کی سیاسی مصلحت نے شام کو اس سر زمین سے عملاً دستبردار کرا دیا ہے۔ شام کی خاموشی اسرائیل کو نہ صرف گولان پہاڑی پر مزید حق جتانے کی اجازت دے گی بلکہ اسے پورے خطے میں مزاحمت کے خاتمے کا اشارہ بھی ملے گا۔ غزہ پہلے ہی مصر، اسرائیل اور سمندر سے گھرا ہوا ہے۔ شام کی حمایت مزاحمت کے حلقے سے ایک اور ملک کی کمی کو ظاہر کرتی ہے۔ گولان پہاڑی کا سودا صرف زمین کا نہیں بلکہ اسلامی حمیت، مزاحمت کے اخلاص، اور اْمّت کی غیرت کا سودا ہے۔
اے شام! جب تْو نے گولان پہاڑی کی مٹی کو سوداگروں کے حوالے کیا، تو غزہ کی ماؤں نے اپنے بیٹوں کو قبروں میں دفناتے وقت پوچھا ہوگا: یہ خون کس قیمت پر بیچا گیا؟ غزہ کے وہ بچّے، مائیں، اور نوجوان جو صہیونی جارحیت کے خلاف ڈٹے رہے، اب ایک بار پھر تنہائی، بے بسی اور دھوکے کے سائے میں آ گئے ہیں۔ یہ وقت صرف نعرے بازی کا نہیں، بلکہ عمل، اتحاد اور بیداری کا ہے۔ فلسطین کا مسئلہ صرف فلسطین کا نہیں، بلکہ پوری ملّت ِ اسلامیہ کا اجتماعی ضمیر ہے۔ جو قومیں اپنے شہیدوں کے خون کی قیمت پر سیاسی مفاد اٹھاتی ہیں، وہ تاریخ میں کبھی سرخرو نہیں ہوتیں۔ ’’گولان پہاڑی کا سودا ایک ایسی دستاویز ہے جس پر خون سے نہیں، ضمیر کی مردنی سے دستخط ہوئے ہیں‘‘۔
وقت آ چکا ہے کہ ملّت ِ اسلامیہ کے نوجوان، مفکرین اور اہل ِ علم سیاسی حقیقتوں کو بے نقاب کریں، اسلامی اخوت کی روح کو زندہ کریں، اور ان معاہدوں کے خلاف آواز بلند کریں جو ہمیں دشمنوں کے قدموں میں گرانے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ شام کا فیصلہ صرف شام کا نہیں، بلکہ پوری اْمّت کی آئندہ نسلوں کے مقدر کا فیصلہ ہے۔ ’’کیا وہ اْمّت، جو اپنے شہیدوں کے لہو کی قدر نہ کرے، حق کی پاسبانی کا دعویٰ کر سکتی ہے؟‘‘ آج جب شام جیسے تاریخی اور مزاحمتی مرکز نے استعمار کے دباؤ میں آ کر اپنی سمت بدل لی ہے، تو یہ صرف ایک ملک کا فیصلہ نہیں، بلکہ اْمّت ِ مسلمہ کے اجتماعی شعور کا امتحان ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم جذباتی غفلت، لسانی تفرقے اور قومی خود غرضی سے باہر نکل کر اْمّت ِ واحدہ کے اس تصور کو عملی شکل دیں جس کی بنیاد نبی کریمؐ نے مدینہ کی گلیوں میں رکھی تھی۔
ہمیں سوچنا ہوگا کہ اگر قبلۂ اوّل کی حرمت، فلسطینی مزاحمت کا حق، اور شہیدوں کے خون کی قیمت ہم نے عالمی سیاست کی میز پر رکھ دی، تو ہم تاریخ میں اپنی کوئی جگہ نہ پا سکیں گے، نہ اللہ کے حضور، نہ آنے والی نسلوں کے سامنے۔ یہ وقت شعور کی بیداری، قومی غیرت کی واپسی، اور فکری و دینی استقامت کا ہے۔ ہمیں وہی زبان، وہی قلم، وہی سچائی، اور وہی مزاحمت دوبارہ زندہ کرنا ہوگی جو سید قطب شہید کی پھانسی گاہ پر بولی گئی، جو شہید اسماعیل ہنیہ کی آنکھوں میں چمکتی تھی اور جو غزہ کے بچّوں کی مٹھیوں میں بند کنکریوں میں اب بھی سانس لیتی ہے۔ اب فیصلہ اْمّت کے باشعور افراد کے ہاتھ میں ہے! وہ اہل ِ علم، اہل ِ قلم، اور اہل ِ درد، جو صرف تقریر نہیں، تحریر نہیں، بلکہ کردار کی طاقت سے وقت کی کج روی کو سیدھا کر سکتے ہیں۔
ہمیں اپنے ربّ کے اس فرمان کو یاد رکھنا ہوگا: اے ایمان والو! اللہ کے لیے قائم رہنے والے اور انصاف کے ساتھ گواہی دینے والے بنو۔ (المائدہ: 8)۔ اگر ہم آج بھی خاموش رہے، تو تاریخ ہم پر خاموش نہیں رہے گی۔ اور اگر ہم نے سچ کا ساتھ نہ دیا، تو جھوٹ ہمارے بچوں کا مقدر بن جائے گا۔ اے اْمّتِ مسلمہ! اب جاگنے کا وقت ہے، بصیرت کا چراغ جلانے کا وقت ہے، اور وفا کے عہد کی تجدید کا وقت ہے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کا وقت ہے کی حمایت کا نہیں کا سودا کے ساتھ شام کی بلکہ ا کے لیے

پڑھیں:

ماہرینِ صحت کی دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 24 جولائی2026ء) ماہرینِ صحت نے دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عادت نہ صرف متوازن غذا کی جانب اہم قدم ہے بلکہ بھوک پر قابو پانے، توانائی برقرار رکھنے اور مجموعی صحت کو بہتر بنانے میں بھی مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق صحت مند طرزِ زندگی کا مقصد صرف تیزی سے وزن کم کرنا نہیں بلکہ ایسی پائیدار غذائی عادات اپنانا ہے جن پر طویل عرصے تک آسانی سے عمل کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ دوپہر کے کھانے میں متوازن سلاد شامل کرنے سے جسم کو فائبر، وٹامنز، منرلز اور دیگر ضروری غذائی اجزا بیک وقت حاصل ہوتے ہیں، جو بہتر صحت کے لیے نہایت اہم ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ایک مکمل اور متوازن سلاد صرف سبز پتوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس میں ثابت مونگ دال، چنے، کھیرا، ٹماٹر، پیاز، گاجر، شملہ مرچ، کینوا، ایووکاڈو، مالٹے کے قتلے، انار کے دانے اور کچے آم جیسے غذائیت سے بھرپور اجزا بھی شامل کیے جا سکتے ہیں۔

(جاری ہے)

ذائقے کے لیے نمک، کالی مرچ، لیموں کا رس یا سرکہ استعمال کیا جا سکتا ہے، جبکہ پروٹین کی ضرورت پوری کرنے کے لیے گرل کیا ہوا پنیر، سویا یا دیگر صحت بخش پروٹین ذرائع شامل کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ماہرین نے کہا کہ اگر ایک ہی قسم کا سلاد روزانہ کھایا جائے تو وقت کے ساتھ اکتاہٹ پیدا ہو سکتی ہے، اس لیے مختلف سبزیوں، پھلوں اور دیگر اجزا میں تبدیلی کرتے رہنا چاہیے تاکہ ذائقے کے ساتھ غذائی تنوع بھی برقرار رہے۔

طبی ماہرین کے مطابق دوپہر کے کھانے میں سلاد شامل کرنے سے زیادہ دیر تک پیٹ بھرنے کا احساس رہتا ہے، غیر ضروری اسنیکس اور بار بار کھانے کی خواہش میں کمی آتی ہے، جبکہ دوپہر کے کھانے کے بعد محسوس ہونے والی سستی بھی کم ہو سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں روزمرہ سرگرمیوں کے لیے جسمانی توانائی اور چستی برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ وزن میں کمی کا عمل ہر فرد میں مختلف ہو سکتا ہے، تاہم متوازن غذا کو مستقل معمول بنانے سے جسمانی ساخت میں مثبت تبدیلیاں آ سکتی ہیں، کپڑوں کی فٹنگ بہتر محسوس ہو سکتی ہے اور مجموعی صحت میں بتدریج بہتری آتی ہے۔

ماہرین نے کہا کہ صحت بخش غذائی عادات نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب کرتی ہیں اور انسان کے اعتماد میں اضافہ کرتی ہیں۔ ان کے مطابق صحت مند طرزِ زندگی کا مطلب پسندیدہ کھانوں سے مکمل پرہیز نہیں بلکہ اعتدال، توازن اور مستقل مزاجی کے ساتھ غذائیت سے بھرپور خوراک کو روزمرہ معمول کا حصہ بنانا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • فکر اقبالؒ اورامن عالم میں پاکستان کاکردار
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر پھر مرکز نگاہ
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • آزاد کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں تیز، نواز شریف آج میرپور میں جلسے سے خطاب کریں گے
  • ماہرینِ صحت کی دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم