شام، ابراہام معاہدے اور گولان پہاڑی
اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اور تم ان لوگوں کی طرف ہرگز نہ جھکو جنہوں نے ظلم کیا، ورنہ تمہیں بھی آگ آ پکڑے گی۔ (ہود: 113) قرآن نے بارہا مسلمانوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ باطل کے ساتھ مصالحت نہ کریں اور نہ ہی ظلم و استبداد کے سامنے خاموش تماشائی بنیں، کیونکہ ظلم کے ساتھ خاموشی، گناہ میں شرکت کے مترادف ہے۔ اْمّتِ مسلمہ ایک ایسا جسم ہے، جس کے کسی ایک حصے کو چوٹ لگے تو پورا جسم تڑپ اٹھتا ہے۔ مگر افسوس کہ آج یہی اْمّت، اپنے وجود پر لگنے والے زخموں کو مصلحت کی پٹیوں سے ڈھانپ رہی ہے، اور اپنے مظلوم بھائیوں کے لہو سے سیاست کی شطرنج کھیل رہی ہے۔
قبلۂ اوّل کی حرمت، فلسطین کی جدوجہد اور اسلامی وحدت کا تقاضا یہی ہے کہ مسلم قیادتیں ہر اس معاہدے اور سمجھوتے کو رد کریں جو صہیونیت کی بالادستی کو تسلیم کرنے کے مترادف ہو۔ مگر موجودہ منظرنامہ ایک ایسے اخلاقی بحران کی نشاندہی کرتا ہے جس میں ضمیر کی آوازیں خاموش اور مفادات کی صدائیں بلند ہو چکی ہیں۔ یہ مضمون اسی فکری و اخلاقی بحران پر ایک تفصیلی نگاہ ہے۔ شام جیسے ملک کی طرف سے ابراہام معاہدوں کی حمایت اور گولان پہاڑی پر خاموشی، محض سیاسی حکمت ِ عملی نہیں، بلکہ ایک فکری و تہذیبی انحراف کا آئینہ ہے، جو ملّت ِ اسلامیہ کے لیے ایک بیداری کا لمحہ ہے۔ سیاست اگر اصولوں سے عاری ہو جائے تو وہ محض چالاکی کا کھیل بن جاتی ہے، اور اگر کسی ملّت کی قیادت بے ضمیر ہو جائے تو وہ ملّت خود فریب میں مبتلا ہو جاتی ہے۔ شام وہی ملک جہاں خلافت ِ اْمیہ کی عظمت نے جنم لیا، جہاں دمشق کی فضائوں سے اسلام کی روشنی پھیلی، آج اپنی تاریخ، عقیدے، اور وحدتِ ملّت کے برعکس ایسے فیصلوں کی راہ پر گامزن ہے جو اْمّتِ مسلمہ کی اجتماعی روح کو چور چور کر رہے ہیں۔ شام کی نئی حکومت کی جانب سے ابراہام معاہدوں کی حمایت اور گولان پہاڑی کے مسئلے پر خاموش مفاہمت ایسے اقدامات ہیں جو نہ صرف سیاسی بصیرت کے فقدان کی علامت ہیں بلکہ ایک اخلاقی و تہذیبی زوال کا مظہر بھی۔ ابراہام معاہدہ دراصل اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا منصوبہ ہے جس کے تحت اسرائیل کو مشرقِ وسطیٰ کی ایک جائز ریاست تسلیم کر لیا جاتا ہے۔ امریکا کی سرپرستی میں یہ معاہدہ چند عرب ریاستوں کے ذریعے نافذ کیا گیا، جس کی روح میں فلسطینی مزاحمت کو دبانا، قبلۂ اوّل کی اہمیت کو مٹانا، اور صہیونی عزائم کو تقویت دینا شامل ہے۔ شام، جو خود اسرائیلی جارحیت کا شکار رہا ہے، خاص طور پر جس کی گولان کی پہاڑیاں آج بھی اسرائیل کے قبضے میں ہیں، جب وہ ابراہام معاہدے کی حمایت کرے تو یہ سیاسی منافقت سے بڑھ کر تاریخی بے وفائی کا نشان بن جاتا ہے۔ یہی شام ماضی میں فلسطینی کاز کا علمبردار تھا، جہاں سے ’’القدس لنا‘‘ کی صدائیں اٹھتی تھیں۔ اب اگر یہی ملک صہیونی طاقتوں کے ساتھ مفاہمت کرے تو یہ ضمیر کے دیوالیہ پن کی بدترین مثال ہے۔
شام کی حمایت ایک علامتی اعلان ہے کہ اسلامی وحدت صرف کتابی نعرہ رہ گئی ہے اور اب مسلمان ممالک قومی مفاد کی آڑ میں استعماری منصوبوں کا حصّہ بننے لگے ہیں۔ جب ایک کے بعد ایک مسلم ریاست اسرائیل کو تسلیم کرے، تو فلسطینی مزاحمت تنہا ہوتی چلی جاتی ہے۔ شام کی حمایت اس تنہائی کو مزید گہرا کرے گی۔ اسرائیل اس حمایت کو ایک سیاسی فتح سمجھ کر اپنے قدم عرب دنیا میں اور مضبوطی سے جما لے گا۔ اس کا براہِ راست اثر قبلۂ اوّل پر پڑے گا، جسے محض ایک سیاحتی مقام بنا دیا جائے گا۔ یہ وقت علماء، مفکرین اور نوجوان دانشوروں کے لیے آزمائش کا وقت ہے کہ وہ اسلام کی اصل روح عدل، حریت، مزاحمت اور وفاداری کو اجاگر کریں اور سیاسی چالاکیوں کے پردے چاک کریں۔
’’اگر تمہارے دل میں اْمّت کے زخموں کا درد نہیں، تو تمہاری مسکراہٹ بھی ایک دھوکہ ہے‘‘۔ کبھی کچھ زمینیں صرف جغرافیہ نہیں ہوتیں، وہ ضمیر ِ ملّت کا حصّہ بن جاتی ہیں؛ ان کا سودہ فقط سرحدوں کا نہیں، بلکہ غیرت، وفا اور خونِ شہیداں کا سودا ہوتا ہے۔
گولان پہاڑی شام کی وہ سر زمین جو 1967ء کی جنگ کے بعد اسرائیل کے قبضے میں چلی گئی۔ آج شام کی نئی حکومت کی خاموشی کے باعث ایک خطرناک سمجھوتے کی علامت بن چکی ہے۔ دنیا نے اس قبضے کو کبھی تسلیم نہیں کیا، مگر آج کی سیاسی مصلحت نے شام کو اس سر زمین سے عملاً دستبردار کرا دیا ہے۔ شام کی خاموشی اسرائیل کو نہ صرف گولان پہاڑی پر مزید حق جتانے کی اجازت دے گی بلکہ اسے پورے خطے میں مزاحمت کے خاتمے کا اشارہ بھی ملے گا۔ غزہ پہلے ہی مصر، اسرائیل اور سمندر سے گھرا ہوا ہے۔ شام کی حمایت مزاحمت کے حلقے سے ایک اور ملک کی کمی کو ظاہر کرتی ہے۔ گولان پہاڑی کا سودا صرف زمین کا نہیں بلکہ اسلامی حمیت، مزاحمت کے اخلاص، اور اْمّت کی غیرت کا سودا ہے۔
اے شام! جب تْو نے گولان پہاڑی کی مٹی کو سوداگروں کے حوالے کیا، تو غزہ کی ماؤں نے اپنے بیٹوں کو قبروں میں دفناتے وقت پوچھا ہوگا: یہ خون کس قیمت پر بیچا گیا؟ غزہ کے وہ بچّے، مائیں، اور نوجوان جو صہیونی جارحیت کے خلاف ڈٹے رہے، اب ایک بار پھر تنہائی، بے بسی اور دھوکے کے سائے میں آ گئے ہیں۔ یہ وقت صرف نعرے بازی کا نہیں، بلکہ عمل، اتحاد اور بیداری کا ہے۔ فلسطین کا مسئلہ صرف فلسطین کا نہیں، بلکہ پوری ملّت ِ اسلامیہ کا اجتماعی ضمیر ہے۔ جو قومیں اپنے شہیدوں کے خون کی قیمت پر سیاسی مفاد اٹھاتی ہیں، وہ تاریخ میں کبھی سرخرو نہیں ہوتیں۔ ’’گولان پہاڑی کا سودا ایک ایسی دستاویز ہے جس پر خون سے نہیں، ضمیر کی مردنی سے دستخط ہوئے ہیں‘‘۔
وقت آ چکا ہے کہ ملّت ِ اسلامیہ کے نوجوان، مفکرین اور اہل ِ علم سیاسی حقیقتوں کو بے نقاب کریں، اسلامی اخوت کی روح کو زندہ کریں، اور ان معاہدوں کے خلاف آواز بلند کریں جو ہمیں دشمنوں کے قدموں میں گرانے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ شام کا فیصلہ صرف شام کا نہیں، بلکہ پوری اْمّت کی آئندہ نسلوں کے مقدر کا فیصلہ ہے۔ ’’کیا وہ اْمّت، جو اپنے شہیدوں کے لہو کی قدر نہ کرے، حق کی پاسبانی کا دعویٰ کر سکتی ہے؟‘‘ آج جب شام جیسے تاریخی اور مزاحمتی مرکز نے استعمار کے دباؤ میں آ کر اپنی سمت بدل لی ہے، تو یہ صرف ایک ملک کا فیصلہ نہیں، بلکہ اْمّت ِ مسلمہ کے اجتماعی شعور کا امتحان ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم جذباتی غفلت، لسانی تفرقے اور قومی خود غرضی سے باہر نکل کر اْمّت ِ واحدہ کے اس تصور کو عملی شکل دیں جس کی بنیاد نبی کریمؐ نے مدینہ کی گلیوں میں رکھی تھی۔
ہمیں سوچنا ہوگا کہ اگر قبلۂ اوّل کی حرمت، فلسطینی مزاحمت کا حق، اور شہیدوں کے خون کی قیمت ہم نے عالمی سیاست کی میز پر رکھ دی، تو ہم تاریخ میں اپنی کوئی جگہ نہ پا سکیں گے، نہ اللہ کے حضور، نہ آنے والی نسلوں کے سامنے۔ یہ وقت شعور کی بیداری، قومی غیرت کی واپسی، اور فکری و دینی استقامت کا ہے۔ ہمیں وہی زبان، وہی قلم، وہی سچائی، اور وہی مزاحمت دوبارہ زندہ کرنا ہوگی جو سید قطب شہید کی پھانسی گاہ پر بولی گئی، جو شہید اسماعیل ہنیہ کی آنکھوں میں چمکتی تھی اور جو غزہ کے بچّوں کی مٹھیوں میں بند کنکریوں میں اب بھی سانس لیتی ہے۔ اب فیصلہ اْمّت کے باشعور افراد کے ہاتھ میں ہے! وہ اہل ِ علم، اہل ِ قلم، اور اہل ِ درد، جو صرف تقریر نہیں، تحریر نہیں، بلکہ کردار کی طاقت سے وقت کی کج روی کو سیدھا کر سکتے ہیں۔
ہمیں اپنے ربّ کے اس فرمان کو یاد رکھنا ہوگا: اے ایمان والو! اللہ کے لیے قائم رہنے والے اور انصاف کے ساتھ گواہی دینے والے بنو۔ (المائدہ: 8)۔ اگر ہم آج بھی خاموش رہے، تو تاریخ ہم پر خاموش نہیں رہے گی۔ اور اگر ہم نے سچ کا ساتھ نہ دیا، تو جھوٹ ہمارے بچوں کا مقدر بن جائے گا۔ اے اْمّتِ مسلمہ! اب جاگنے کا وقت ہے، بصیرت کا چراغ جلانے کا وقت ہے، اور وفا کے عہد کی تجدید کا وقت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کا وقت ہے کی حمایت کا نہیں کا سودا کے ساتھ شام کی بلکہ ا کے لیے
پڑھیں:
امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
اسلام ٹائمز: یہ کہا جا سکتا ہے کہ امام خمینیؒ نے عالم اسلام میں ایک ایسی فکری اور سیاسی بیداری کو جنم دیا، جسکے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کو اپنی شناخت، اپنی قوت اور اپنے مستقبل پر اعتماد کرنا سکھایا، وحدت اور بیداری کا پیغام دیا اور ظلم و استبداد کے مقابلے میں حق و عدالت کی آواز بلند کرنے کا حوصلہ عطا کیا۔ یہی وہ میراث ہے، جس نے انہیں بیسویں صدی کی مؤثر ترین اسلامی شخصیات کی صف اول میں لا کھڑا کیا اور جسکی بازگشت آج بھی عالم اسلام کے مختلف گوشوں میں سنائی دیتی ہے۔ تحریر: مجتبیٰ شجاعی
بیسویں صدی کی تاریخ میں ایسی عظیم اور غیر معمولی شخصیات نے جنم لیا، جنہوں نے اپنے افکار، کردار اور جدوجہد کے ذریعے دنیا کی سیاسی، سماجی اور فکری سمتوں کا رُخ موڑ دیا اور زمانے کی تقدیر بدل دی۔ حضرت امام خمینیؒ انہی نابغۂ روزگار اور درخشاں شخصیات میں شمار ہوتے ہیں، جنہوں نے نہ صرف ایران کی سیاسی تاریخ کو ایک نیا رخ عطا کیا، بلکہ پورے عالم اسلام کی فکری، ثقافتی اور سیاسی زندگی پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کیے۔ ان کی قیادت میں برپا ہونے والا اسلامی انقلاب محض ایک سیاسی تبدیلی نہ تھا بلکہ ایک ایسی فکری اور تہذیبی تحریک تھی، جس نے عالم اسلام میں دین، سیاست، آزادی، بیداری اور اجتماعی شعور کے بارے میں نئی بحثوں کو جنم دیا۔
بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینیؒ نے جب اپنی تحریک کا آغاز کیا، اس وقت عالم اسلام کا بیشتر حصہ سیاسی استبداد، بیرونی طاقتوں کے اثر و نفوذ، معاشی پسماندگی اور تہذیبی بحران کا شکار تھا۔ نوآبادیاتی دور کے اثرات ابھی تک مسلم معاشروں پر نمایاں تھے اور بہت سی اقوام اپنی تاریخی شناخت اور فکری خود اعتمادی سے محروم دکھائی دیتی تھیں۔ ایسے ماحول میں اسلامی انقلاب کی کامیابی نے مسلم دنیا کو یہ پیغام دیا کہ اسلام صرف عبادات اور انفرادی زندگی تک محدود مذہب نہیں، بلکہ ایک زندہ اور متحرک نظام حیات ہے، جو معاشرے کی تنظیم، ریاست کی تشکیل اور اجتماعی مسائل کے حل کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
انقلاب اسلامی کی کامیابی کا سب سے بڑا اثر یہ تھا کہ اس نے مسلمانوں میں خود اعتمادی اور خود شناسی کے ایک نئے احساس کو جنم دیا۔ ایک طویل عرصے تک یہ تصور عام رہا تھا کہ ترقی اور جدیدیت کا راستہ صرف مغربی نمونوں کی تقلید سے ہو کر گزرتا ہے، لیکن امام خمینیؒ نے اس نظریئے کو عملاً چیلنج کیا۔ انہوں نے امت مسلمہ کو اپنی تہذیبی میراث، دینی اقدار اور داخلی صلاحیتوں پر اعتماد کرنے کی دعوت دی۔ ان کا پیغام یہ تھا کہ مسلمان اگر اپنی فکری بنیادوں سے وابستہ رہیں تو وہ نہ صرف اپنی آزادی اور وقار کا تحفظ کرسکتے ہیں بلکہ ترقی اور استحکام کی نئی منازل بھی طے کرسکتے ہیں۔
اسی فکری بیداری کے ساتھ امام خمینیؒ نے وحدت اسلامی کے تصور کو بھی غیر معمولی اہمیت دی۔ ان کے نزدیک عالم اسلام کو درپیش اکثر مسائل کی جڑ باہمی انتشار اور فرقہ وارانہ تقسیم تھی۔ وہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ فقہی اور مسلکی اختلافات کو دشمنی کا سبب بنانے کے بجائے مسلمانوں کو اپنے مشترکہ عقائد، مشترکہ تاریخ اور مشترکہ مقاصد پر توجہ مرکوز کرنی چاہیئے۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے اسلامی وحدت کو اپنی سیاسی اور فکری جدوجہد کا بنیادی ستون قرار دیا اور امت مسلمہ کو ایک وسیع تر اسلامی اخوت کے تصور سے روشناس کرایا۔
وحدت اسلامی کے اس تصور کے ساتھ ساتھ امام خمینیؒ نے مظلوم اقوام کی حمایت کو بھی اپنی فکر کا اہم حصہ بنایا۔ ان کے نزدیک ظلم خواہ کسی بھی شکل میں ہو اور مظلوم کسی بھی خطے، مذہب یا مسلک سے تعلق رکھتا ہو، اس کی حمایت اور مدد ایک انسانی اور اسلامی فریضہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فلسطین کا مسئلہ ان کی فکر میں مرکزی حیثیت اختیار کر گیا۔ انہوں نے فلسطینی عوام کی جدوجہد کو صرف ایک قومی مسئلہ نہیں بلکہ پورے عالم اسلام کا مشترکہ مسئلہ قرار دیا۔ "یومِ القدس" کا اعلان دراصل اسی سوچ کا مظہر تھا، جس کے ذریعے انہوں نے مسئلہ فلسطین کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی کوشش کی۔
امام راحل حضرت امام خمینیؒ کی قیادت اور انقلاب اسلامی کے تجربے نے دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں کو بھی متاثر کیا۔ مختلف ممالک میں سرگرم دینی اور سیاسی حلقوں نے انقلاب اسلامی کو ایک ایسی مثال کے طور پر دیکھا، جس نے عوامی طاقت، مذہبی قیادت اور سیاسی عزم کے امتزاج سے ایک مضبوط نظام کو شکست دی۔ اگرچہ ہر ملک کے حالات اور تقاضے مختلف تھے، تاہم انقلاب اسلامی نے یہ احساس ضرور پیدا کیا کہ عوامی شعور اور نظریاتی استقامت کے ذریعے بڑی سیاسی تبدیلیاں ممکن ہیں۔
فکری سطح پر حضرت امام خمینیؒ کا ایک اہم کارنامہ دین اور سیاست کے تعلق کو ازسرنو موضوعِ بحث بنانا تھا۔ جدید دور میں یہ تصور بڑی حد تک رائج ہوچکا تھا کہ مذہب کو صرف انفرادی اور روحانی معاملات تک محدود رہنا چاہیئے، لیکن امام خمینیؒ نے اسلام کی جامعیت پر زور دیتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کیا کہ دین انسانی زندگی کے تمام شعبوں کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ ان کے اس نظریئے نے مسلم دنیا میں حکومت اسلامی، عوامی شرکت، دینی قیادت اور ریاست کے اسلامی تشخص کے بارے میں وسیع علمی مباحث کو جنم دیا۔
سیاسی میدان میں امام خمینیؒ کی فکر کا ایک نمایاں پہلو استعمار اور عالمی بالادستی کے خلاف مزاحمت تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ سیاسی آزادی اسی وقت معنی خیز ہوسکتی ہے، جب اس کے ساتھ فکری، ثقافتی اور معاشی آزادی بھی موجود ہو۔ ان کے نزدیک کسی بھی قوم کی عزت اور خود مختاری کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ اپنی داخلی صلاحیتوں پر اعتماد کرے اور بیرونی طاقتوں کے تسلط سے آزاد رہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا استقلال اور خود انحصاری کا پیغام دنیا کے مختلف مسلم معاشروں میں وسیع پذیرائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔
ثقافتی اعتبار سے بھی امام خمینیؒ نے مسلم معاشروں میں اسلامی شناخت کے احیاء میں نمایاں کردار ادا کیا۔ انہوں نے بارہا اس بات کی نشاندہی کی کہ تہذیبی خود فراموشی اور فکری مرعوبیت کسی بھی قوم کو اس کی اصل طاقت سے محروم کر دیتی ہے۔ اس لیے وہ اسلامی اقدار، دینی تعلیمات اور تہذیبی ورثے کی حفاظت کو ترقی اور بیداری کے لیے ناگزیر قرار دیتے تھے۔ ان کے یہ افکار خصوصاً نوجوان نسل میں ایک نئے فکری رجحان کا باعث بنے اور انہیں اپنی تہذیبی شناخت پر فخر کرنے کا حوصلہ ملا۔
بانی انقلاب کی شخصیت صرف ایک سیاسی رہبر تک محدود نہیں تھی بلکہ وہ ایک ممتاز فقیہ، عارف، فلسفی اور مفکر بھی تھے۔ ان کی علمی اور فکری کاوشوں نے انہیں عالم اسلام کے دانشور طبقے میں ایک منفرد مقام عطا کیا۔ ان کی فقہی، عرفانی اور سیاسی تصانیف مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوئیں اور دنیا بھر کے علمی مراکز میں ان پر تحقیق کا سلسلہ جاری رہا۔ اس طرح ان کے افکار محض سیاسی حلقوں تک محدود نہیں رہے، بلکہ علمی اور فکری دنیا میں بھی وسیع اثرات کے حامل ثابت ہوئے۔
4 جون 1989ء میں حضرت امام خمینیؒ کی رحلت نے پورے عالم اسلام کو سوگوار کر دیا۔ ان کے جنازے میں لاکھوں انسانوں کی شرکت اس حقیقت کا واضح ثبوت تھی کہ امام خمینیؒ کسی مخصوص طبقہ، کسی مخصوص مسلک یا صرف ایک ملک کے رہنما نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی اسلامی شخصیت کی حیثیت اختیار کرچکے تھے۔ آج ان کی رحلت کے کئی عشروں بعد بھی ان کے افکار، نظریات اور سیاسی تصورات عالم اسلام کی فکری اور سیاسی زندگی میں زندہ ہیں۔ استقلال، وحدت اسلامی، دفاع مظلوم، عوامی شرکت اور اسلامی تشخص جیسے موضوعات اب بھی مسلم دنیا کے اہم مباحث میں شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ معاصر عالم اسلام کی سیاسی و فکری تاریخ کا مطالعہ امام خمینیؒ کے کردار اور اثرات کے جائزے کے بغیر نامکمل تصور کیا جاتا ہے۔
مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ امام خمینیؒ نے عالم اسلام میں ایک ایسی فکری اور سیاسی بیداری کو جنم دیا، جس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کو اپنی شناخت، اپنی قوت اور اپنے مستقبل پر اعتماد کرنا سکھایا، وحدت اور بیداری کا پیغام دیا اور ظلم و استبداد کے مقابلے میں حق و عدالت کی آواز بلند کرنے کا حوصلہ عطا کیا۔ یہی وہ میراث ہے، جس نے انہیں بیسویں صدی کی مؤثر ترین اسلامی شخصیات کی صف اول میں لا کھڑا کیا اور جس کی بازگشت آج بھی عالم اسلام کے مختلف گوشوں میں سنائی دیتی ہے۔ (مضمون نگار صحافی اور ریسرچ اسکالر ہیں)