حکومت کاروباری برادری کے ساتھ مشاورت پر مبنی پالیسی سازی جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے، وزیر خزانہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
پاکستان بزنس کونسل کے اعلیٰ سطح وفد نے سی ای او احسن ملک اور نئے نامزد سی ای او جاوید قریشی کی قیادت میں وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب سے ملاقات کی۔ ملاقات میں معاشی پالیسیوں، ٹیکس اصلاحات اور کاروباری مشاورت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیر خزانہ نے پاکستان بزنس کونسل میں قیادت کی تبدیلی کا خیر مقدم کرتے ہوئے نئی ٹیم کو حکومتی سطح پر مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کاروباری برادری کے ساتھ مشاورت پر مبنی پالیسی سازی کو مسلسل جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔
مزید پڑھیں: برآمدات پر مبنی ترقی ہی پاکستان کے معاشی استحکام کا واحد راستہ ہے، وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب
سینیٹر محمد اورنگزیب نے پاکستان بزنس کونسل کے تحقیقی کردار اور شعبہ جاتی ڈیٹا شیئرنگ کو سراہتے ہوئے اسے پالیسی سازی میں نہایت معاون قرار دیا۔ انہوں نے وفد کو آگاہ کیا کہ پالیسی سازی کے عمل کو مؤثر بنانے کے لیے ٹیکس پالیسی آفس کو ایف بی آر سے نکال کر وزارتِ خزانہ میں ضم کر دیا گیا ہے، تاکہ مشاورت کے ادارہ جاتی ڈھانچے کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ وفاقی بجٹ 26-2025 کی تیاری کے لیے اس سال غیر معمولی طور پر جلد مشاورتی عمل کا آغاز کیا گیا، تاکہ مختلف چیمبرز، تجارتی تنظیموں اور فورمز کی تجاویز کو بجٹ سازی میں بہتر طور پر شامل کیا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایف بی آر پاکستان بزنس کونسل سینیٹر محمد اورنگزیب کاروباری برادری وفاقی وزیر خزانہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایف بی ا ر پاکستان بزنس کونسل سینیٹر محمد اورنگزیب کاروباری برادری وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب پاکستان بزنس کونسل پالیسی سازی کے لیے
پڑھیں:
اسلام آباد میں دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقات میں توسیع، نیا شیڈول جاری
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وفاقی دارالحکومت میں دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقات کار میں توسیع کا فیصلہ کر لیا گیا ہے، یہ فیصلہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت ہونے والے کفایت شعاری سے متعلق اجلاس میں کیا گیا۔
اجلاس میں طے پایا کہ اسلام آباد میں دکانیں اور شاپنگ مالز اب رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ شادی ہالز کو رات 10 بجے تک اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت ہوگی۔
اسی طرح ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں بھی نرمی کرتے ہوئے انہیں رات 11 بجے تک کھلا رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز کو مقررہ اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے تاکہ شہریوں کو سہولت فراہم کی جا سکے۔
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ فارمیسیوں، اسپتالوں اور پیٹرول پمپس کو ان پابندیوں سے مکمل استثنیٰ حاصل ہوگا اور وہ معمول کے مطابق اپنی خدمات جاری رکھ سکیں گے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق نئے اوقات کار کا مقصد توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہے، جبکہ اس فیصلے پر عملدرآمد سے متعلق مزید ہدایات جلد جاری کی جائیں گی۔
مزید پڑھیں۔ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (بدھ) کا دن کیسا رہے گا ؟