ٹیکس پالیسی سازی کو مزید مؤثر بنانے کیلیے ایف بی آر سے وزارت منتقل کیا گی: وزیر خزانہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
ویب ڈیسک: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ٹیکس پالیسی سازی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ٹیکس پالیسی آفس کو ایف بی آر سے وزارت خزانہ منتقل کیا گیا ہے۔
پاکستان بزنس کونسل کے وفد سے ملاقات میں وزیر خزانہ نے پالیسی سازی میں مشاورتی عمل کے تسلسل کی یقین دہانی کراتے ہوئے کونسل میں قیادت کی تبدیلی کا خیر مقدم کیا اور نئی ٹیم کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی۔
گاڑی کا چالان، وزیراعلیٰ پنجاب کے صاحبزادے جنید صفدر کا ردعمل سامنے آگیا
پاکستان بزنس کونسل کے وفد نے سی ای او احسن ملک اور نئے نامزد سی ای او جاوید قریشی کے ہمراہ وفاقی وزیر برائے خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب سے ملاقات کی، جس میں وزیر خزانہ نے بتایا کہ حکومت کاروباری برادری کے اہم اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت پر مبنی پالیسی سازی کے عمل کو مسلسل جاری رکھنا چاہتی ہے۔ انہوں نے پاکستان بزنس کونسل کے مثبت کردار کو سراہا۔
وزیر خزانہ نے پالیسی معاملات میں کونسل کے تحقیقی کام اور مختلف شعبوں سے متعلق ڈیٹا کو نہایت مفید قرار دیا جو وقتاً فوقتاً حکومت کے ساتھ شیئر کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے پالیسی سازی کو مزید مؤثر اور مربوط بنانے کے لیے ٹیکس پالیسی آفس کو ایف بی آر سے نکال کر وزارتِ خزانہ میں منتقل کر دیا ہے۔
ڈی جی ریسکیو خیبرپختونخوا شاہ فہد کو عہدے سے ہٹا دیا گیا
انہوں نے بتایا کہ اس اقدام کا مقصد پاکستان بزنس کونسل جیسے فورمز کے ساتھ مشاورت کے ادارہ جاتی عمل کو فروغ دینا ہے۔ حکومت کاروباری و صنعتی طبقے کی آرا اور تجاویز کو نہایت اہمیت دیتی ہے۔ اسی ویژن کے تحت وفاقی بجٹ 2025-26 کے لیے مشاورتی عمل کا آغاز اس سال غیر معمولی طور پر جلد کر دیا گیا، تاکہ مختلف چیمبرز، تجارتی تنظیموں اور کاروباری فورمز سے موصول ہونے والی تجاویز پر تفصیل سے غور کیا جا سکے اور انہیں بجٹ سازی میں بہتر طور پر شامل کیا جا سکے۔
لیاری سانحہ؛ گورنر سندھ کا متاثرہ مکینوں کو 80 گز کے متبادل پلاٹس دینے کا اعلان
Ansa Awais Content Writer.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: پاکستان بزنس کونسل ٹیکس پالیسی پالیسی سازی کونسل کے
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔