لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن)جنگی محاذ پر بھارت کو منہ توڑ جواب دینے کے باوجود آبی محاذ پر خطرات بدستور منڈلا رہے ہیں۔
 نجی ٹی وی دنیا نیوز کے مطابق  آبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پانی کے تحفظ کیلئے فوری، سنجیدہ اور عملی اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں، پانی صرف قدرتی نعمت نہیں بلکہ قوم کی لائف لائن ہے اور اب اسے بچانے کا وقت ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ بھارت کی آبی جارحیت کا خطرہ ختم نہیں ہوا اور اگر اندرونی طور پر مؤثر حکمت عملی نہ اپنائی گئی تو یہ بحران فوڈ سکیورٹی سمیت قومی سلامتی کیلئے بھی سنگین چیلنج بن سکتا ہے، انہوں نے واضح کیا کہ ملک میں ڈیمز کی کمی، حکومتی عدم توجہی اور پانی کے ضیاع نے صورتحال کو مزید بگاڑ دیا ہے، زرعی، صنعتی اور گھریلو سطح پر پانی کے بے جا استعمال پر قابو پانا ضروری ہے۔
آبی ماہرین نے برسات کے پانی کو ذخیرہ کرنے، جدید واٹر مینجمنٹ سسٹمز اپنانے اور قومی سطح پر بیداری مہم چلانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ڈیمز کی تعمیر، مؤثر واٹر پالیسی اور ٹیکنالوجی کا استعمال ہی اس لائف لائن کو بچا سکتا ہے۔

کے پی حکومت کا ضم اضلاع کے متعلق وفاقی کمیٹی پر تحفظات کا اظہار

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

پڑھیں:

میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت

لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔

منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔

میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔

برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں

مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا