اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن )پاکستان سے متعلق بھارتی میڈیا کا ایک اور جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب ہو گیا ۔

تفصیلات کے مطابق بھارتی چینل نے گزشتہ دنوں دعویٰ کیا  تھا کہ پاکستانی پاسپورٹ سے’’اسرائیل کے لیے ناقابل استعمال‘‘ کی شق ختم کردی گئی ہے۔جبکہ   پاکستان کی وزارت خارجہ نے  پاسپورٹ سے ’’اسرائیل کیلئے ناقابل استعمال‘‘ کی شق کے خاتمے سے متعلق بھارتی میڈیا کے پروپیگنڈے کو مسترد کردیا۔

’’جیو نیوز ‘‘ کے مطابق  بھارت کے جھوٹے پروپیگنڈے کو بے نقاب کرتے ہوئے پاکستان کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ  پاکستانی پاسپورٹ میں ایسی کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور پاسپورٹ میں’اسرائیل کے لیے ناقابل استعمال‘ کی شق بدستور برقرار ہے۔

شہر قائد میں اگلے 3 روز درجۂ حرارت میں اضافے کا امکان

اس حوالے سے ڈی جی پاسپورٹس کا کہنا تھا کہ قومی پاسپورٹ پراب بھی درج ہےکہ یہ ’’اسرائیل کےعلاوہ تمام ممالک کے لیے قابل استعمال ہے۔‘‘

علاوہ ازیں وزارت اطلاعات کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کا اسرائیل سے متعلق مؤقف بالکل واضح اور دو ٹوک ہے،  پاکستان نےنہ کبھی اسرائیل کو تسلیم کیا نہ ہی کسی قسم کا فوجی تعاون زیرِ غور ہے۔ 

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

پڑھیں:

سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔

ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ