ٹرمپ ایشیا کا دورہ ایشیا کے دوران ملائیشیا آمد، ایئرپورٹ پر رقص کرتے ہوئے ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایشیا کے اپنے دورے کے پہلے مرحلے پر ملائیشیا پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ آسیان (ASEAN) سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے۔
صدر ٹرمپ اپنے دورے کے دوران ملائیشیا کے ساتھ تجارتی معاہدے پر دستخط کریں گے اور تھائی لینڈ و کمبوڈیا کے درمیان تاریخی امن معاہدے کی نگرانی بھی کریں گے۔
کوالالمپور پہنچنے پر جہاز سے اترنے کے بعد صدر ٹرمپ کو ایئرپورٹ پر انہیں خوش آمدید کرنے والے فنکاروں کے ہمراہ رقص کرتے دیکھا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور ملائیشیا کا پائیدار اقتصادی تعلقات کو مزید فروغ دینے کا عزم، وزیراعظم کا دورہ مکمل، مشترکہ اعلامیہ جاری
روانگی سے قبل ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ اس دورے میں شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن سے ملاقات کے لیے بھی تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں امید ہے کہ چین کے صدر شی جن پنگ کے ساتھ جنوبی کوریا میں ہونے والی ملاقات انتہائی مثبت ثابت ہوگی اور چین مزید محصولات سے بچنے کے لیے تجارتی معاہدہ کرے گا۔
یہ اجلاس تاریخ کا سب سے بڑا آسیان اجلاس قرار دیا جا رہا ہے، جس میں 12 ہزار مندوبین شریک ہیں، جبکہ 20 ہزار سے زائد سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ اجلاس کے باعث کوالالمپور کے بڑے حصے کو بند کر دیا گیا ہے۔
آسیان 11 رکنی علاقائی بلاک ہے جس میں برونائی، کمبوڈیا، انڈونیشیا، لاؤس، ملائیشیا، میانمار، فلپائن، سنگاپور، تھائی لینڈ، ویتنام اور تازہ ترین رکن مشرقی تیمور شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: ٹرمپ ایشیا کے اہم دورے پر روانہ، چین اور جنوبی کوریا کے صدور سے ملاقات کریں گے
ملائیشیا کے بعد ٹرمپ جاپان جائیں گے، جہاں وہ نئی خاتون وزیراعظم سَناے تاکایچی سے ملاقات کریں گے۔ انہوں نے جاپانی رہنما کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ سابق وزیراعظم شنزو آبے کی پالیسیوں کو مؤثر انداز میں آگے بڑھا رہی ہیں۔
دورے کا سب سے اہم مرحلہ جنوبی کوریا میں ہوگا، جہاں ٹرمپ صدر لی جے میونگ سے ملاقات، کاروباری رہنماؤں سے خطاب اور امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان کے ساتھ عشائیہ کریں گے۔
جمعرات کو ٹرمپ اور شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی ملاقات عالمی منڈیوں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے، اور ماہرین کو امید ہے کہ اس سے تجارتی جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
دنیا بھر میں لاکھوں افراد بے خوابی اور نیند کی مختلف خرابیوں کا شکار ہیں، تاہم چینی سائنسدانوں نے ایک ایسے قدرتی مالیکیول کی نشاندہی کی ہے جو دماغ میں نیند کی خواہش کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں بے خوابی اور دیگر نیند کے مسائل کے لیے نئی، محفوظ اور مؤثر ادویات کی تیاری میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
چینی اکیڈمی آف سائنسز اور دیگر تحقیقی اداروں کے سائنسدانوں کی یہ تحقیق معروف سائنسی جریدےنیچر نیورو سائنس (Nature Neuroscience) میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹرپٹامین (Tryptamine یا TrpA) نامی قدرتی مالیکیول دماغ کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ جسم کو آرام اور نیند کی ضرورت ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ مناسب نیند انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اسی دوران دماغ یادداشت کو منظم کرتا، نئی معلومات محفوظ بناتا اور روزمرہ سرگرمیوں کے دوران جمع ہونے والے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں بے خوابی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی اور جسمانی گھڑی (سرکیڈین ردھم) کی خرابی کے باعث لاکھوں افراد مناسب نیند سے محروم رہتے ہیں۔
تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے رات کو متحرک رہنے والے چوہوں اور دن میں سرگرم رہنے والے سوروں پر تجربات کیے۔ خصوصی فلوروسینٹ سینسر کی مدد سے جانوروں کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار مختلف اوقات میں ریکارڈ کی گئی۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جتنا زیادہ وقت جانور جاگتے رہے، ان کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار بھی اتنی ہی بڑھتی گئی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ مالیکیول جسم میں بڑھنے والے سلیپ پریشر یعنی نیند کی قدرتی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید تحقیق سے پتا چلا کہ جاگنے کے دوران متحرک مخصوص اعصابی خلیے ٹرپٹامین خارج کرتے ہیں، جو بعد ازاں GPR139 نامی ریسیپٹر سے جڑ کر دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو نیند کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سائنسدانوں نے تجرباتی طور پر ایسے مرکبات بھی استعمال کیے جو GPR139 ریسیپٹر کو متحرک کرتے ہیں۔ نتائج کے مطابق ان مرکبات سے نہ صرف نیند کا دورانیہ بڑھا بلکہ اس کے معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی تحقیقات میں یہی حیاتیاتی نظام انسانوں میں بھی ثابت ہو جاتا ہے تو بے خوابی اور دیگر نیند کی خرابیوں کے علاج کے لیے ایسی نئی ادویات تیار کی جا سکیں گی جو موجودہ ادویات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مؤثر اور کم مضر اثرات کی حامل ہوں گی۔