وزیراعظم شہباز شریف: مسلسل قرضے معیشت کو کمزور کرتے ہیں، برابری اور تعاون ضروری
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
وزیراعظم شہباز شریف نے ریاض میں منعقدہ فیچر انیشیٹو انویسٹمنٹ کانفرنس میں کہا کہ مسلسل قرضوں کا بوجھ ملکی معیشت کو کمزور کرتا ہے اور انسانیت کو درست سمت میں آگے بڑھانے کے لیے برابری اور تعاون لازمی ہے۔
انہوں نے مباحثے کے دوران کہا کہ پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہے اور ہم اپنی سابقہ غلطیوں سے سیکھ کر ترقی کی راہ پر گامزن ہیں۔ انہوں نے سعودی ولی عہد کے ترقیاتی وژن کا خیرمقدم کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں بھی مختلف شعبوں میں اصلاحات جاری ہیں، اور ایف بی آر کو مکمل ڈیجیٹائز کرنے سے کرپشن میں خاطر خواہ کمی آئی ہے۔
وزیراعظم نے ملک کی نوجوان آبادی اور موسمیاتی چیلنجز پر بھی روشنی ڈالی، کہا کہ پاکستان دنیا کے ان 10 ممالک میں شامل ہے جو شدید موسمیاتی تبدیلی سے متاثر ہیں، اور حالیہ قدرتی آفات سے اربوں ڈالر کا نقصان ہوا ہے، جس کے لیے بحالی کے عمل کے لیے مزید فنڈز کی ضرورت ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ مسلسل قرضوں سے معیشت کمزور ہوتی ہے، اور آگے بڑھنے کے لیے ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا ہوگا۔ انہوں نے زرعی شعبے میں اے آئی (Artificial Intelligence) کے استعمال کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ اس سے جدت اور پیداواری صلاحیت بڑھانے میں مدد مل رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔