بھارتی جریدہ جھوٹا: پاکستان نے کبھی اسرائیل کو تسلیم کیا نہ فوجی تعیناتی پر بات: عطا تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
اسلام آباد (نیٹ نیوز) وزیراطلاعات و نشریات نے غزہ میں پاک فوج کی تعیناتی اور اسرائیل کو تسلیم کرنے سے متعلق بھارتی پروپیگنڈے کو بے نقاب کردیا۔ وزارت اطلاعات ونشریات نے بھارتی میڈیا کے ہتھکنڈوں کا پردہ ایک بار پھر چاک کر دیا۔ انہوں نے بتایا کہ بھارتی جریدے فرسٹ پوسٹ نے جھوٹا دعویٰ کیا کہ پاکستانی عسکری قیات کا سی آئی اے اور موساد کے ساتھ معاہدہ ہوا اور فرسٹ پوسٹ نے معاہدے کے تحت 20ہزار پاکستانی فوجی غزہ بھیجنے کا بھی جھوٹا دعویٰ کیا۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان نے نہ کبھی اسرائیل کو تسلیم کیا، اور نہ کسی فوجی تعیناتی پر بات ہوئی ہے۔ (آئی ایس پی آر) اور دفترِ خارجہ نے بھی غزہ میں کسی فوجی مشن کی تائید یا اعلان کبھی نہیں کیا۔ فرسٹ پوسٹ نے صحافتی اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک نجی اخبار کے جملے سیاق و سباق سے ہٹا کر پیش کیے۔ بھارتی رپورٹ میں شامل ’’انٹیلی جنس لیکس‘‘ اور دعوے من گھڑت اور گمراہ کن ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فرسٹ پوسٹ نے CNN-News18 جیسے حوالہ جات کا استعمال کیا جو ماضی میں غیر مصدقہ اطلاعات شائع کر چکا ہے۔ پاکستان کا فلسطینی خود ارادیت کی حمایت میں مؤقف واضح اور اصولی ہے۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ سفاک مودی کی ایما پر ریاست نواز گودی میڈیا مضحکہ خیز رپورٹنگ کرنے پر اتر آیا ہے۔
اسلام آباد (خبر نگار خصوصی) غزہ میں انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس کے حصے کے طور پر پاکستان کے ممکنہ دستوں کی تعیناتی کی خبر کے بعد، روایتی منفی سوچ رکھنے والے عناصر ایک بار پھر اپنے بدنیتی پر مبنی بیانیے کے ساتھ متحرک ہو گئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک بے بنیاد موازنہ یہ پیش کیا جا رہا ہے کہ اسرائیل پاکستان کے دستوں کو قبول کرسکتا ہے مگر ترکیہ کے نہیں، اور اس کے لیے ایسے غیر حقیقی دلائل تراشے جا رہے ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ اصل منطق بہت واضح ہے کہ ترکیہ چونکہ مشرق وسطیٰ کی جیو سٹرٹیجک بساط کا ایک براہ راست پاور پلیئر ہے، اس لیے اس کی تعیناتی سیاسی مفہوم بھی رکھتی ہے۔ اس کے برعکس پاکستان ایک قابلِ اعتماد، منصف اور ہمدرد فریق کے طور پر تمام اطراف کے نزدیک قابلِ قبول ہے۔ پاکستان کا کوئی خفیہ ایجنڈا نہیں بلکہ اس کی شمولیت صرف اور صرف اہلِ فلسطین کی انسانی امداد اور ریلیف کی نیت سے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فلسطینی اور عرب ممالک پاکستان کو خوش دلی سے قبول کرتے ہیں جبکہ اسرائیلی بھی پاکستان کے خلاف اپنی گہری دشمنی کے باوجود یہ جانتے ہوئے ممکنہ طور پر رضا مند ہو سکتے ہیں کہ پاکستانی فوج نہ صرف پیشہ ورانہ مہارت رکھتی ہے بلکہ موجودہ بحران کے اندر امن و خیر کی قوت بن سکتی ہے۔ پاکستانی فوج کی سرحد کے اتنے قریب موجودگی کو اسرائیل کی جانب سے برداشت کیے جانے میں ایک الوہی و تقدیری عنصر بھی شامل ہے، جسے سطحی تجزیہ نگار نظر انداز کر دیتے ہیں، مگر وہ لوگ بخوبی سمجھتے ہیں جو پاکستان کی تاریخی اساس، روحانی بیانیے اور اس کی تقدیر کے دھارے کو گہرائی سے جانتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: فرسٹ پوسٹ نے
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔