اسرائیل پر عدم اعتماد، امریکا نے جنگ بندی کی نگرانی کے لیے غزہ پر ڈرون پروازیں شروع کر دیں
اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT
امریکی فوج نے غزہ پٹی کے اوپر نگرانی کے لیے ڈرون پروازیں شروع کر دی ہیں تاکہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کی نگرانی کی جا سکے۔
نیویارک ٹائم کی رپورٹ کے مطابق یہ کارروائی اس بڑے منصوبے کا حصہ ہے جس کا مقصد دونوں فریقوں کو جنگ بندی کی شرائط پر کاربند رکھنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:غزہ میں ہلاک شدہ یرغمالیوں کی لاشیں اسرائیل لانے کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے، مارکو روبیو
امریکی حکام کے مطابق یہ ڈرون پروازیں اسرائیل کی اجازت سے کی جا رہی ہیں اور ان کا مقصد زمینی سرگرمیوں کی نگرانی ہے۔
2 اسرائیلی فوجی عہدیداروں اور ایک امریکی دفاعی اہلکار نے بتایا کہ یہ پروازیں جنوبی اسرائیل میں قائم نئے سول-فوجی رابطہ مرکز سے کنٹرول کی جا رہی ہیں، جسے گزشتہ ہفتے امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے فعال کیا۔
امریکا اس سے قبل بھی غزہ میں یرغمالیوں کی تلاش کے لیے جاسوسی مشن چلا چکا ہے، لیکن موجودہ مشن کا مقصد اسرائیلی آپریشنز سے زیادہ خودمختاری حاصل کرنا بتایا جا رہا ہے۔
یہ اسرائیل-حماس جنگ بندی امریکا، قطر اور مصر کی ثالثی سے عمل میں آئی تھی، تاہم حالیہ تشدد کے واقعات اور لاشوں کے تبادلے میں تاخیر کے باعث اس معاہدے پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:جنگ بندی کے بعد غزہ پر اسرائیلی حملوں میں 93 فلسطینی شہید
ذرائع کے مطابق امریکی حکومت میں خدشات پائے جاتے ہیں کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو ممکنہ طور پر معاہدے سے دستبردار ہو سکتے ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جمعے کے روز اس رابطہ مرکز کا دورہ کرتے ہوئے کہا کہ اتار چڑھاؤ اور مشکلات ضرور آئیں گی، لیکن ہمیں اس عمل میں پیش رفت کے بارے میں کافی امید ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کپتان ٹموتھی ہاکنز نے اسرائیلی چینل i24 کو بتایا کہ مرکز میں ایک ایسا آپریشن روم قائم کیا گیا ہے جہاں سے غزہ کی زمینی صورتحال کو حقیقی وقت میں مانیٹر کیا جا سکتا ہے۔
سابق امریکی سفیر ڈینیئل بی شیپیرو نے کہا کہ اگر امریکا اور اسرائیل کے درمیان مکمل شفافیت اور اعتماد ہوتا تو اس کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔ لیکن بظاہر امریکا کسی بھی قسم کے غلط فہمی کے امکان کو ختم کرنا چاہتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل امریکا امریکی وزیر خارجہ غزہ مارکو روبیو نیتن یاہو.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل امریکا امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نیتن یاہو مارکو روبیو کے لیے
پڑھیں:
اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔