امریکا نئی جنگ چھیڑنے کی کوشش کررہا ہے، وینز ویلا
اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراکس (انٹرنیشنل ڈیسک) وینزویلا کے صدر نکولاس مادورو نے امریکا پر الزام لگایا ہے کہ وہ ایک نئی جنگ چھیڑرہا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب واشنگٹن نے بحیرہ کیریبین کے خطے میں اپنی فوجی موجودگی بڑھاتے ہوئے وہاں ایک طیارہ بردار جہاز بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ مادورو نے سرکاری ذرائع ابلاغ سے گفتگو میں کہاکہ امریکا ایک طویل جنگ چھیڑرہا ہے۔ انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ دوبارہ کسی جنگ میں ملوث نہیں ہوں گے اور اب وہی ایک ایسی جنگ گھڑ رہے ہیں جسے ہم روکیں گے۔ اس سے قبل پینٹاگون نے اعلان کیا تھا کہ اس نے لاطینی امریکا میں منشیات اسمگل کرنے والے گروہوں سے نمٹنے کے لیے طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ اور اس کے ساتھ بحری بیڑے کو تعینات کیا ہے۔ اس اقدام سے امریکی عسکری نقل و حرکت میں اضافہ ہوا ہے، جس پر ممکنہ جنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ستمبر میں بحیرہ کیریبین میں ایک فوجی مہم شروع کی تھی، جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس کا ہدف منشیات فروش دہشت گرد ہیں۔ اس مہم میں ایف 35 جنگی طیاروں کے 10 یونٹ اور امریکی بحریہ کے 8 بحری جہاز شامل کیے گئے تھے۔ امریکی فضائی کارروائیوں میں اب تک کم از کم 10 کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے، جن میں 40 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان کے اہلِ خانہ اور متعلقہ حکومتوں کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر عام شہری اور ماہی گیر تھے۔ امریکا نے ٹرینیڈاڈ و ٹوباگو کے ساتھ وینزویلا کے ساحل کے قریب مشترکہ فوجی مشقوں کا اعلان بھی کیاہے۔ ٹرینیڈاڈ و ٹوباگو کی حکومت کے جاری کردہ بیان کے مطابق امریکی جنگی جہاز یو ایس ایس گراویلی 26 سے 30 اکتوبر کے درمیان ان کے ساحل پر پہنچے گا، جب کہ امریکی میرین کور کا بائیسواں ایکسپڈیئشنری یونٹ اسی مدت میں ٹرینیڈاڈ و ٹوباگو کی دفاعی افواج کے ساتھ مشترکہ تربیتی مشقیں کرے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔