نریندر مودی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا سامنا کرنے سے ہچکچانے لگے
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا سامنا کرنے سے گریز کرنے لگے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ڈائیلاگ پارٹنر ہونے کے باوجود نریندر مودی نے آسیان سمٹ کے لیے ملائشیا نہ جانے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ اجلاس میں آن لائن شرکت کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: مودی سرکار کو ایک اور جھٹکا، ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کا دورہ منسوخ کردیا
بھارتی وزارتِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ وزیراعظم مودی ورچوئل طور پر سمٹ میں شریک ہوں گے۔ اس سے قبل بھی وہ شرم الشیخ سمٹ میں خود شریک ہونے کے بجائے ایک جونیئر وزیر کو بھیج چکے ہیں۔
کانگریس کے رہنما جے رام رمیش نے کہا کہ مودی ملائشیا اس لیے نہیں گئے کیونکہ وہ صدر ٹرمپ کا سامنا نہیں کرنا چاہتے اور شرم الشیخ سمٹ میں شریک نہ ہونے کی بھی یہی وجہ تھی۔
یہ بھی پڑھیں: نریندر مودی نے ڈونلڈ ٹرمپ کی 4 فون کالز مسترد کردیں، جرمن اخبار کا دعویٰ
ان کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات مودی کے لیے سیاسی طور پر خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news آسیان سمٹ امریکا بھارت ڈونلڈ ٹرمپ رام رمیش شرم الشیخ نریندر مودی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا سیان سمٹ امریکا بھارت ڈونلڈ ٹرمپ شرم الشیخ ڈونلڈ ٹرمپ
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران پر امریکی جارحیت کے بعد عالمی توانائی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ برطانوی خام تیل 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات کا مربن خام تیل 108 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہونے لگا ہے، جو عالمی منڈی میں توانائی کی بڑھتی ہوئی بے یقینی کی عکاسی کرتا ہے۔ادھر قدرتی گیس کی قیمت بھی بڑھ کر 2.95 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو (MMBtu) ہو گئی ہے، جس سے عالمی توانائی مارکیٹ میں کشیدگی کے اثرات مزید نمایاں ہو رہے ہیں۔