پاکستان کو پولیو فری بنانے اور ہر بچے کو موذی مرض سے بچانے کیلیے پُرعزم ہیں، وزیرِ اعظم
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
اسلام آباد:وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کو پولیو فری بنانے اور ہر بچے کو موذی مرض سے بچانے کے لیے پُرعزم ہیں۔
انسداد پولیو کی ٹاسک فورس کا اجلاس وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت ہوا، جس میں انسداد پولیو اوور سائیٹ بورڈ کے صدر و صدر گلوبل ڈیویلپمنٹ ، گیٹس فاؤنڈیشن ڈاکٹر کرسٹوفر ایلیاس کی زیر قیادت پولیو اوور سائیٹ بورڈ کے اراکین نے شرکت کی۔
اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان سے پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں ۔ انہوں نے انسداد پولیو کی بھرپور کوششیں مزید تیز کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تمام تر مشکلات اور چیلنجز کے باوجود حکومت اپنے بین الاقوامی، صوبائی و مقامی تمام ٹیم کی مدد سے پاکستان سے انسداد پولیو کے ہدف کو جلد حاصل کر لے گی۔
انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کے ہر بچے کو پولیو جیسے موذی مرض سے بچانے اور پولیو فری پاکستان کا عزم کرتے ہیں۔ ہمیں پوری لگن اور سنجیدگی کے ساتھ اس امر کو یقینی بنانا چاہیے کہ ملک بھر کے ہر بچے کو ویکسین کی متعدد خوراکیں ملیں اور وہ پولیو سے محفوظ رہے ۔
شہباز شریف کا کہناتھا کہ فرنٹ لائن ورکرز کی لگن، حکومت پاکستان کے عزم اور پارٹنرز کے تعاون سے پاکستان نے پولیو کے خلاف اہم پیش رفت کی ہے۔ انسداد پولیو کے لیے صوبائی ، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کی حکومتوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کوششیں اور تعاون لائق تحسین ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ پولیو ورکرز کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے۔ صوبائی حکومتوں سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کو پولیو کے خاتمے کے لیے یکجان ہو کر مزید تیزی سے کام کرنا ہوگا ۔ ہم اپنے تمام شراکت داروں کے شکر گزار ہیں جو پولیو کے خاتمے کے حوالے سے حکومت کا بھرپور ساتھ دے رہے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ سعودی ولی عہد و وزیر اعظم محمد بن سلمان کا بھی شکر گزار ہوں جو کہ انسداد پولیو میں پاکستان کا ہر طرح سے ساتھ دے رہے ہیں۔
اجلاس میں انسداد پولیو کے حوالے سے وزیراعظم کو بریفنگ دیتے ہوئے حکام نے بتایا کہ پاکستان میں انسداد پولیو مہم میں بل گیٹس فاؤنڈیشن سمیت تمام شراکت داروں نے بہت اہم اور قابل تحسین کردار ادا کیا ہے۔ جنوبی خیبر پختون خوا کے علاقوں میں پولیو وائرس کے مکمل خاتمے کے لیےہر ڈسٹرکٹ میں درپیش مسائل کی نسبت سے مخصوص انسداد پولیو مہم تشکیل دی جا رہی ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزیر قومی صحت سید مصطفیٰ کمال ، وزیر مملکت برائے قومی صحت ڈاکٹر مختار احمد بھرتھ، انسداد پولیو پر وزیراعظم کی فوکل پرسن عائشہ رضا فاروق ، چاروں صوبوں ، گلگت بلتستان ، آزاد جموں و کشمیر کے چیف سیکرٹریز، اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری کے چیف کمشنر ، انسداد پولیو کے نیشنل کوآرڈینیٹر اور دیگر متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
Post Views: 6.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: انسداد پولیو کے نے کہا کہ ہر بچے کو کو پولیو خاتمے کے کے لیے
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔