راولپنڈی، جی ایچ کیو حملہ سمیت 9 مئی کے 12 کیسز کی سماعت آج ہو گی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
راولپنڈی:
9 مئی کے واقعات سے متعلق 12 اہم مقدمات کی سماعت آج انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی میں ہوگی۔
ان مقدمات میں جنرل ہیڈ کوارٹر (جی ایچ کیو) پر حملہ کیس بھی شامل ہے، تاہم یہ کیس کچہری سماعت کی بجائے عدالت میں سنا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق تمام مقدمات کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ کریں گے اور یہ سماعتیں راولپنڈی کی ضلع کچہری میں واقع انسداد دہشت گردی عدالت میں ہوں گی۔
عدالت کے اطراف سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
آج کی سماعت میں 9 مئی کے 11 مقدمات میں باقی رہ جانے والے ملزمان کو چالان کی نقول تقسیم کی جائیں گی۔
عدالتی ذرائع کا کہنا ہے کہ چالان کی تقسیم کا پراسس مکمل کیا جائے گا، جس کے بعد باقاعدہ فردِ جرم عائد کرنے کے مراحل کی طرف پیش رفت متوقع ہے۔
واضح رہے کہ جی ایچ کیو حملہ کیس کا کچہری سماعت گزشتہ دو ماہ سے تعطل کا شکار ہے، جس پر عدالت نے نوٹس لیتے ہوئے سماعت کو کچہری میں منتقل کیا ہے تاکہ کارروائی میں مزید تاخیر نہ ہو۔
یاد رہے کہ 9 مئی 2023 کو ملک بھر میں پرتشدد مظاہروں کے دوران حساس تنصیبات، عسکری اداروں، اور سرکاری املاک پر حملے کیے گئے تھے، جن کے خلاف انسداد دہشت گردی کے تحت کارروائیاں جاری ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کی سماعت
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔