یہ سزائیں دے دیں مگر ہم اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، یاسمین راشد
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
تحریک انصاف کی رہنما یاسمین راشد نے کہا ہے کہ ہم جیلوں میں اپنے لیے نہیں اس ملک کے لیے بیٹھے ہیں، ہمیں پتا ہے ہم بے گناہ ہیں، ہمیں پتا ہے یہ ہمیں سزائیں دیں گے، اس کے باوجود ہم اپنے موقف سے ایک قدم پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
نو مئی جلاؤ گھیراؤ کے مقدمات کی کوٹ لکھپت جیل میں سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو میں یاسمین راشد نے کہا کہ ڈھائی سال کے بعد ہم نے مذاکرات کے حوالے سے بات کی ہے، ہمارے ہزاروں کارکن پیشیوں پر آتے ہیں وہ سب ڈٹے ہوئے ہیں، میرے پاس جو ڈگریاں ہیں میں کسی بھی ملک میں جاسکتی تھی مگر پاکستان ہمارا ملک ہے ہم اسے نہیں چھوڑیں گے، ہم صرف آئین اور قانون کی حکمرانی کی بات کرتے ہیں ہم صرف عدالتوں کے ذریعے انصاف لے کر ہی باہر آئیں گے۔
قبل ازیں نو مئی تھانہ شادمان نذر آتش سمیت جلاؤ گھیراؤ کے چار مقدمات کا جیل ٹرائل ہوا۔ انسداد دہشت گردی عدالت کے ایڈمن جج منظر علی گل نے کوٹ لکھپت جیل میں سماعت کی۔ پراسکیوشن کے تین گواہان نے ایک مقدمے میں شہادت قلم بند کرائی۔ عدالت نے چار مقدمات کی مزید سماعت 7 جولائی تک ملتوی کردی۔
تھانہ شادمان نذر آتش کیس کا ریکارڈ پیش نہیں کیا گیا۔ ریکارڈ نہ ہونے کے باعث گواہان کے بیانات قلم بند نہیں ہوسکے۔ پراسکیوشن نے موقف پیش کیا کہ مقدمات کا ریکارڈ لاہور ہائیکورٹ بھجوا رکھا ہے، جناح ہاؤس کے قریب پولیس کی گاڑیاں جلانے کے تین مقدمات کا ٹرائل جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔