آپ انکوائری کا سامنا نہیں کریں گے تو مشکلات ہوں گی: عدالتی ریمارکس
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
---فائل فوٹوز
سندھ ہائی کورٹ نے سابق صدر عارف علوی کی بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت کے دوران اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ آپ انکوائری کا سامنا نہیں کریں گے تو اس طرح کی مشکلات ہوں گی، آپ اپنا اور دوسروں کا وقت ضائع کر رہے ہیں۔
سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ نے سابق صدر عارف علوی کے بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔
گزشتہ سماعت پر عدالت نے عدم پیشی پر تفتیشی افسر کو شوکاز جاری کیا تھا۔ تفتیشی افسر نے عدالت میں پیش ہو کر شوکاز کا جواب جمع کروا دیا۔
سرکاری وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ملزمان انکوائری کے لیے پیش ہی نہیں ہو رہے، درخواست گزاروں کو 2 بار نوٹس جاری کیے لیکن کوئی بھی پیش نہیں ہوا، عدالت عبوری ریلیف دے چکی ہے کہ 10 لاکھ روپے اکاؤنٹ سے نکال سکتے ہیں۔
درخواست گزار عارف علوی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ میرے موکل کو ان کے پیسے استعمال کرنے سے روکا جا رہا ہے۔
اس پر عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ آپ انکوائری کا سامنا نہیں کریں گے تو اس طرح کی مشکلات ہوں گی، آپ اپنا اور دوسروں کا وقت ضائع کر رہے ہیں۔
دورانِ سماعت سرکاری وکیل نے استدعا کی کہ تفتیشی افسر کو آئندہ سماعت پر پیش ہونے سے استثنیٰ دیا جائے جسے عدالت نے منظور کر لیا۔
عدالت نے درخواست پر آئندہ سماعت اگست کے دوسرے ہفتے تک ملتوی کر دی۔
عدالت نے میری کوئی بھی درخواست کو سنا ہی نہیں: وکیلبعد ازاں سابق صدر ڈاکٹر عارف علوی کے وکیل بیرسٹر علی طاہر نے سندھ ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کے دوران کہا کہ ہمیں آج تفتیشی افسر کی رپورٹ کی کاپی بھی نہیں دی گئی، عدالت نے میری کوئی بھی درخواست کو سنا ہی نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: تفتیشی افسر عارف علوی عدالت نے
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :