پاکستان بمقابلہ جنوبی افریقہ: صائم ایوب اور کوئنٹن ڈی کاک نے کونسے ناپسندیدہ ریکارڈ اپنے نام کرلیے؟
اشاعت کی تاریخ: 2nd, November 2025 GMT
پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلے گئے تیسرے اور آخری ٹی20 میچ میں دونوں ٹیموں کے بلے بازوں نے ایک ناپسندیدہ ریکارڈ اپنے نام کر لیا۔
پاکستان کے اوپنر صائم ایوب اور جنوبی افریقہ کے وکٹ کیپر بیٹر کوئنٹن ڈی کاک اب اپنی اپنی ٹیموں کی جانب سے ٹی20 انٹرنیشنلز میں سب سے زیادہ صفر پر آؤٹ ہونے والے کھلاڑی بن گئے ہیں۔
صائم ایوب، جو میچ میں 6 گیندوں پر بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہوئے، نے اپنے کیریئر کا 10واں ٹی20 انٹرنیشنل صفر درج کرایا۔ وہ عمر اکمل کے برابر آ گئے ہیں جنہوں نے 84 میچوں میں اتنی ہی بار صفر پر آؤٹ ہونے کا ریکارڈ بنایا تھا۔
سابق کپتان شاہد آفریدی اور بابر اعظم 8 آؤٹ کے ساتھ ان کے قریب ہیں۔
ٹی20 میں پاکستان کے سب سے زیادہ صفر پر آؤٹ ہونے والے بلے باز: صائم ایوب – 10 عمر اکمل – 10 شاہد آفریدی – 8 بابر اعظم – 8 کامران اکمل – 7 محمد نواز – 7 محمد حفیظ – 7دوسری جانب جنوبی افریقہ کے اسٹار بلے باز کوئنٹن ڈی کاک بھی شاہین شاہ آفریدی کی گیند پر دوسری ہی گیند پر بولڈ ہو کر اپنے ملک کے لیے سب سے زیادہ (8) صفر پر آؤٹ ہونے والے بیٹر بن گئے۔
جنوبی افریقہ کے سب سے زیادہ صفر پر آؤٹ ہونے والے کھلاڑی: کوئنٹن ڈی کاک – 8 اینڈائل فہلوکویو – 7 ٹیمبا باووما – 6 جے پی ڈومنی – 6 ریضا ہینڈرکس – 6 تبریز شمسی – 5 ریلی روسو – 5 اے بی ڈی ویلیئرز – 5میچ میں پاکستان نے 6 وکٹوں سے کامیابی حاصل کرتے ہوئے تین میچوں کی سیریز 2-1 سے اپنے نام کر لی۔
ہدف کے تعاقب میں پاکستان نے 140 رنز کا ہدف 19ویں اوور میں حاصل کر لیا۔ کپتان بابر اعظم نے شاندار بلے بازی کرتے ہوئے 68 رنز ناٹ آؤٹ (47 گیندوں، 9 چوکے) بنائے، جبکہ آغا سلمان نے 33 رنز کی قیمتی اننگز کھیلی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان جنوبی افریقہ صائم ایوب کرکٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان جنوبی افریقہ صائم ایوب کرکٹ صفر پر آؤٹ ہونے والے جنوبی افریقہ کے سب سے زیادہ صائم ایوب
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔