امریکہ اور جاپان کے درمیان نایاب معدنیات کی فراہمی کا معاہدہ طے پا گیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور جاپان کی نئی وزیر اعظم سانائے تاکائچی نے ٹوکیو میں اہم اور نایاب معدنیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد مربوط سرمایہ کاری اور منصفانہ مارکیٹ کے طریقوں کے ذریعے ترسیلِ رسد کو مضبوط بنانا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکہ اور جاپان کے مابین نایاب معدنیات کی فراہمی کا معاہدے طے پا گیا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور جاپان کی نئی وزیر اعظم سانائے تاکائچی نے ٹوکیو میں اہم اور نایاب معدنیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد مربوط سرمایہ کاری اور منصفانہ مارکیٹ کے طریقوں کے ذریعے ترسیلِ رسد کو مضبوط بنانا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے کہا کہ امریکہ اور جاپان اہم اور نایاب معدنیات کے لئے متنوع، مائع اور منصفانہ منڈیوں کی ترقی کو تیز کرنے کے لئے معاشی پالیسی اور مشترکہ سرمایہ کاری کے استعمال کے ذریعے اس کو پورا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ معاہدے کے چھ ماہ کے اندر دونوں ممالک ان منصوبوں کی حمایت کے لئے اقدامات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جو امریکہ، جاپان اور دیگر ہم خیال ممالک میں خریداروں کو ترسیل کے لئے حتمی مصنوعات تیار کرتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔