چین کی حکومت نے اپنی ویزا پالیسی میں ایک اور اہم قدم اٹھاتے ہوئے 74 ممالک کے شہریوں کے لیے 30 دن تک بغیر ویزا کے چین میں داخل ہونے کی سہولت فراہم کر دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد چین کی سیاحتی صنعت کو فروغ دینا، معیشت کو مستحکم کرنا اور عالمی سطح پر چین کے نرم اثر و رسوخ (سوفٹ پاور) کو بڑھانا ہے۔

چین کی نیشنل امیگریشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق، 2024 میں چین آنے والے غیر ملکی سیاحوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ تقریباً 20 ملین سیاحوں نے ویزا فری پالیسی کے تحت چین کا دورہ کیا، جو کہ مجموعی سیاحتی آمد کا تقریباً ایک تہائی حصہ ہے اور پچھلے سال کی نسبت دوگنا ہے۔

یہ بھی پڑھیے انڈونیشیا نے 20 ممالک کے لیے ویزا فری انٹری کا اعلان کردیا

تازہ فیصلے کے نتیجے میں چین کی معیشت کو مزید تقویت ملے گی اور عالمی سطح پر چین کی سیاحتی شہرت میں اضافہ ہوگا۔

چین کے حکام کا کہنا ہے کہ ویزا فری انٹری کی پالیسی سیاحت کے شعبے کو مضبوط بنانے، بین الاقوامی تعلقات کو بہتر بنانے اور چین کی نرم طاقت کو فروغ دینے کے لیے ایک حکمت عملی ہے۔

چینی حکومت اس بات کا دعویٰ کرتی ہے کہ اس قدم سے نہ صرف سیاحتی صنعت کو فائدہ پہنچے گا بلکہ عالمی سطح پر چین کی موجودگی اور اثر و رسوخ میں بھی اضافہ ہوگا۔

چین میں ویزا فری انٹری، کون سے 74 ممالک کے لیے؟

چین نے اس پالیسی میں شامل 74 ممالک کے شہریوں کو 30 دن تک چین میں ویزا فری انٹری دینے کی سہولت فراہم کی ہے۔ ان ممالک میں بیشتر وہ ہیں جو چین کے ساتھ تجارتی، ثقافتی یا سیاحتی تعلقات میں مزید تعاون کے خواہاں ہیں۔ ان ممالک کی فہرست میں شامل ہیں:

جنوبی کوریا جاپان امریکہ کینیڈا برطانیہ فرانس جرمنی اٹلی آسٹریلیا روس نیدرلینڈز سوئٹزرلینڈ آسٹریا سوئیڈن ناروے فن لینڈ بیلجیئم سپین پرتگال نیوزی لینڈ ملائیشیا سنگاپور تھائی لینڈ پاکستان بھارت نیپال سری لنکا میکسیکو ارجنٹائن برازیل چلی کولمبیا پیروا ہانگ کانگ میکاو امریکا کی ریاست ہوائی مراکش مصر جنوبی افریقہ کینیا کینیڈا سعودی عرب متحدہ عرب امارات بحرین قطر کویت عمان اردن لبنان شام یونان ترکی الجزائر تونس پولینڈ ہنگری سلوواکیہ چیک ری پبلک سلووینیا لیتوانیا ایسٹونیا لیٹوریا بلغاریہ رومانیہ کرغیزستان ازبکستان قازقستان تاجکستان قبرص مالدیپ فجی ساموآ پیسیفک جزائر ٹوگو چین کی ویزا فری پالیسی کے اثرات کیا ہوں گے؟

چین کی ویزا فری پالیسی سے نہ صرف سیاحت میں اضافہ ہوگا بلکہ اس کے ذریعے چینی معیشت میں بھی اہم تبدیلیاں آئیں گی۔ حکومت نے یہ قدم عالمی سطح پر چین کی سیاحتی پوزیشن کو مزید مستحکم کرنے کے لیے اٹھایا ہے۔

چینی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام چین کی دنیا بھر میں موجودگی اور سافٹ طاقت کو بڑھانے میں معاون ثابت ہوگا، خاص طور پر ان ممالک میں جہاں چینی ثقافت اور سیاحت کے حوالے سے دلچسپی بڑھ رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے بڑی خبر! دنیا کے کئی ممالک میں پاکستانیوں کے لیے انٹری فری

اس کے علاوہ، چینی کاروباری ادارے اور ہوٹلنگ انڈسٹری بھی اس پالیسی سے فائدہ اٹھا رہی ہے۔ پچھلے سال کے مقابلے میں غیر ملکی سیاحوں کی تعداد میں دوگنا اضافہ دیکھنے کو ملا ہے، جو چین کی معیشت میں بھرپور کردار ادا کر رہا ہے۔

چین کی ویزا فری پالیسی عالمی سطح پر ایک مضبوط پیغام دے رہی ہے کہ چین اب سیاحت، تجارت اور ثقافت میں عالمی رہنمائی کے لیے تیار ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

چین چین میں ویزا فری انٹری.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: چین چین میں ویزا فری انٹری عالمی سطح پر چین ویزا فری پالیسی ویزا فری انٹری ممالک کے چین میں کے لیے چین کی

پڑھیں:

برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف

وزیرِ اعظم شہباز شریف—فائل فوٹو

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ صنعتی مصنوعات کی پیداوار میں اضافے سے برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر پالیسی اقدامات ترجیح ہیں۔

وزیرِاعظم کی زیرِ صدارت سرمایہ کاری میں اضافے، شعبہ جاتی اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر جائزہ اجلاس ہوا جس میں متعلقہ وزارتوں کی جانب سے مختلف زیرِغور پالیسی تجاویز پر بریفنگ دی گئی۔

اجلاس میں وفاقی وزراء اسحاق ڈار، محمد اورنگزیب، احد چیمہ، عطاء تارڑ شریک ہوئے۔

پاکستان اے آئی میں عالمی سطح پر قدم رکھنے کیلئے تیار ہے: شہباز شریف

نوجوانوں کو جدید علم اور مہارتوں سے آراستہ کرنا وقت کی ضرورت ہے، اے آئی کے فوائد اور چیلنجز دونوں ہیں: شہباز شریف

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے صنعت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ توانائی کی ضروریات متبادل توانائی ذرائع سے پوری کرنے کے لیے بھر پور کام ہو رہا ہے۔

وزیرِ اعظم کا مزید کہنا ہے کہ توانائی بچانے اور سستی ٹرانسپورٹ کے لیے الیکٹرک وہیکلز پالیسی ضروری ہے۔

وزیرِاعظم شہباز شریف نے یہ بھی کہا کہ تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اور بہترین کارکردگی اولین ترجیح ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف