وفاقی وزیر کا خیبر پختونخوا میں حکومت کی تبدیلی کا اشارہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وفاقی وزیر برائے امور کشمیر، گلگت بلتستان اور سیفران انجینئر امیر مقام نے خیبر پختونخوا میں موجودہ حکومت کی تبدیلی کا اشارہ دے دیا۔
امیر مقام نےنجی ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ خیبر پختونخوا میں موجودہ حکومتی صورتحال میں تبدیلی خارج ازامکان نہیں، صوبے میں کچھ بھی کسی بھی وقت ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم تو ہر وقت کہتے ہیں اپوزیشن سے مذاکرات ہونے چاہئیں، پی ٹی آئی کو یہ ادراک ہو کہ پارلیمان میں گالیاں نہیں کردار ادا کرنا ہے تو بات ہو سکتی ہے، پی ٹی آئی رہنماؤں کے خط کو متعلقہ لوگ دیکھیں گے کہ کیا ہو سکتا ہے۔
(ن) لیگی رہنما نے کہا کہ 2018 میں نواز شریف نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اسمبلی میں میثاق معیشت کی پیشکش کی تھی، ایک طرف خط ہے اور دوسری طرف علیمہ خانم نے احتجاج کا بتایا ہے، پی ٹی آئی میں موجود گروپس میں یکسوئی نہیں ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی میں ہر ایک بندے کی اپنی اپنی تشریح ہے ان کے بیانات دیکھ لیں، پی ٹی آئی میں بہت دھڑے بندی ہے ہر ایک کا اپنا اپنا گروپ ہے۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پی ٹی آئی
پڑھیں:
ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
پشاور (بیورو رپورٹ) گورنر خیبرپی کے فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان سے ضم قبائلی اضلاع کیلئے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحالی کی درخواست کردی۔ وزیراعظم کو بھیجے گئے خط میں گورنر نے مطالبہ کیا کہ ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ میں توسیع کرتے ہوئے انضمام کے وقت قبائلی عوام سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ ضم قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ وفاقی ٹیکسوں کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف فراہم نہیں کیا جا سکتا۔ صوبائی حکومت پہلے ہی ضم شدہ اضلاع اور پاٹا پر عائد تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکس برقرار رہنے سے عوام کو مکمل ریلیف نہیں مل رہا۔ دریں اثناء گورنر فیصل کریم کنڈی سے پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر) پشاور کے ڈائریکٹر جنرل انجینئر سہیل امیر مروت نے گورنر ہاؤس پشاور میں ملاقات کی۔ ادارے کی تحقیق و ترقی (ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ)، جاری پی ایس ڈی پی منصوبوں، ادارے کی تحقیقی صلاحیتوں اور استعداد سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔