پارٹی سے کس نےنکلوایا؟ شیر افضل مروت نے نام بتا دیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
اسلام آباد (نیوزڈیسک) ایم این اے شیر افضل مروت نے دعویٰ کیا ہے کہ مجھے علیمہ خانمہ نے پارٹی سے نکلوایا، وہ سمجھتی ہیں پارٹی ان کے دم پر چل رہی ہے۔
تفصیلات کے مطابق رکن قومی اسمبلی شیرافضل مروت نے اے آر وائی کے پروگرام آف دی ریکارڈ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا بانی پی ٹی آئی تک رسائی ہوگی تو یقیناً مشاورت درست ہوسکے گی ، خط کے ذریعے اظہار کیا گیا پارٹی رہنماؤں اورقیادت پراعتماد کرنا ہوگا۔
شیر افضل کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی مذاکراتی کمیٹی اور دیگر رہنماؤں پر اعتماد کرنا چاہیے، ہر چیز کیلئے اڈیالہ جانےکی ضرورت نہیں، پارٹی رہنماؤں پر اعتماد کرنا چاہیے، ماضی میں جوغلطیاں ہوئی ہیں ان کااعتراف کرنا چاہیے۔
رکن قومی اسمبلی نے کہا کہ ہم ایک دوسرے کی بے توقیری کیوں کرتے ہیں، ہمیں ایک دوسرے کو اسپیس دینی چاہیے، سیاست کو دشمنی نہیں بنانا چاہیے، پی ٹی آئی میں فیصلہ سازی ایسی ہے، جسے تبدیل کرنے کیلئے سب کو راستہ پتہ ہے۔
انھوں نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کی رائے کس طرح تبدیل کرنی ہے، اکثر پارٹی لوگ جانتے ہیں، پارٹی میں بعض ایسے فیصلے بھی ہوئے ہیں، جو پی ٹی آئی دشمنی پر مبنی تھے، انتخابی نشان چھین لیا گیا تھا تو مولانا شیرانی کو چھوڑ کر کیوں پی ٹی آئی پی سے اتحاد کیا گیا،ایسے کئی فیصلوں کی مثالیں دے سکتا ہوں جو پارٹی دشمنی پر مبنی تھے۔
شیر افضل نے دعویٰ کیا کہ علیمہ خانم سمجھتی ہیں پارٹی ان کے دم پر چل رہی ہے، مجھے پارٹی سے علیمہ خانم نے نکلوایا ہے،علیمہ خانم نے اب علی امین گنڈاپور کیخلاف محاذ کھولا ہوا ہے، وہ ڈیڑھ سال سےمتحرک ہیں، انہوں نے پارٹی کو فتح کرلیا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ کس کو پارٹی میں آنا اور جانا ہے، کس کے خلاف مہم چلانی ہے، سب فیصلے وہ کرتی ہیں، اس وقت پی ٹی آئی میں ون سائیڈٹریفک چل رہی۔
مولانا فضل الرحمان کے حوالے سے رکن قومی اسمبلی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان بانی پی ٹی آئی کیلئے نکلیں گے یہ کبھی نہیں ہوسکتا، پتہ نہیں کون لوگ اس قسم کے خواب دیکھ رہے تھے میں نے تو روکا تھا، جب پی ٹی آئی والے مولانا کے گھر جاتے تھےاس وقت بھی اعتراض کیا تھا، میں نے کہا تھا مولانا فضل الرحمان بانی پی ٹی آئی کیلئے نہیں نکلیں گے۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی ا ئی شیر افضل
پڑھیں:
بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
اسلام آباد (ًؐنمائندہ خصوصی +نوائے وقت رپورٹ) وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق قومی اقتصادی کونسل کا 3 جون کو ہونے والا اجلاس ملتوی ہو گیا جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ وفاقی بجٹ پیش کرنے کی نئی تاریخ کا تعین نہیں ہو سکا، دوسری جانب ذرائع قومی اسمبلی کا بتانا ہے کہ وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی وجہ سامنے آگئی۔ پارلیمانی ذرائع کے مطابق حکومت بجٹ اجلاس سے قبل اہم قانون سازی کرنا چاہ رہی ہے، قانون سازی کے آئندہ وفاقی بجٹ سے متعلق اہم اثرات ہوں گے تاہم پیپلز پارٹی قانون سازی کے حق میں نہیں ہے۔ پارلیمانی ذرائع کا بتانا ہے کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے شگر ویلی میں اپنے خطاب میں واضح پیغام دیا ہے، پیپلز پارٹی مجوزہ ترامیم کی مخالفت کر رہی ہے۔ بجٹ اجلاس سے قبل ترامیم نہ ہو سکیں تو آئندہ مالی سال میں تبدیلیاں نہیں آسکیں گی۔ پارلیمانی ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ پیپلز پارٹی کو منانے کے لیے اہم شخصیات کو ٹاسک دے دیا گیا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری فی الحال گلگت بلتستان میں الیکشن مہم میں مصروف ہیں، بلاول بھٹو زرداری کو منانے کے بعد ہی بجٹ اجلاس کی نئی تاریخ دی جا سکے گی۔وزارت خزانہ میں پیپلز پارٹی اور حکومتی ٹیم کے درمیان اجلاس ختم ہو گیا۔ ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کے خدشات دور نہ کئے جا سکے۔ پی پی اور حکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہو گا۔