راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 جولائی 2025ء ) سابق وزیراعظم عمران خان نے تحریک کا آغاز کرتے ہوئے پی ٹی آئی کو 5 اگست تک اس میں تیزی لانے کی ہدایت کردی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پیٹرن انچیف تحریک انصاف کی ہمشیرہ نے بتایا کہ عمران خان نے تحریک کا آغاز کردیا ہے اور اس حوالے سے 5 اگست کی تاریخ دی ہے، عمران خان نے تحریک کو 5 اگست تک بلندی پر لے جانے کا پارٹی کو حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ آپ لوگ حکومت کے ساتھ اسمبلی اسمبلی کھیل رہے ہو، آپ لوگوں نے ان کے آگے گھٹنے ٹیک دیے ہیں، آپ کو عوام نے اسمبلی میں بھیجا ہے ،آپ عوام کے لیے جواب دہ ہیں، اگر آپ باز نہ آئے تو یہ لوگ پی ٹی آئی ممبران اسمبلی کو کرش کر دیں گے ، جو عہدے دار تحریک کا وزن نہیں اٹھا سکتا وہ الگ ہو جائے ورنہ میں باہر آ کر خود پارٹی سے نکال دوں گا ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ہمیں عمران خان سے ملاقات کرنے سے کوئی کرنل نہیں روک رہا بلکہ مریم نواز کے شوق پورے کرنے کیلئے اوپر سے سہولت کاری کی جاتی ہے، مریم نواز جو چاہتی ہیں اس کو پورا کیا جاتا ہے،پنجاب اسمبلی کے چھبیس ارکان معطل ہوئے کیوں کہ مریم نواز اپ سیٹ ہو گئی تھیں، ان کو خوش رکھنے کے لئیے عمران خان سے ملاقات پر پابندی بھی لگائی جاتی ہے، جیل حکام ان کو جوابدہ ہیں۔

علیمہ خان کا کہنا ہے کہ چھبیسویں ترمیم کے بعد صورتحال سامنے ہے، عدالتیں ضمانت کے کیس چھٹیوں میں بھی سن سکتی ہیں، لاہور ہائیکورٹ اور اسلام آباد ہائیکورٹ کب عمران خان کی ضمانت کا کیس لگاتی ہیں دیکھنا ہو گا، عمران خان کا پیغام مل چکا ہے اور انہوں نے پلان بھی بنا لیا ہے لیکن آپ میڈیا کو ابھی نہیں بتانا چاہ رہی، عمران خان کا پیغام ہم نے پارٹی کو دے دیا ہے، اب تحریک کا پلان تو پارٹی نے دینا ہے لیکن ہم بہنوں نے عمران خان کو بتا دیا ہے کہ اگر ہم بہنوں کو گرفتار کر لیا گیا تو ہمارے بچے موجود ہیں وہ پیچھے نہیں ہٹیں گے، میرا بیٹا شیر شاہ وطن واپس آ گیا ہے وہ کسی ڈیل کے ذریعے نہیں آیا۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے عمران خان نے تحریک تحریک کا

پڑھیں:

قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان

راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔

علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔

(جاری ہے)

انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔

علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔

متعلقہ مضامین

  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ
  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو  ہونے کا اندیشہ
  • 99 ووٹ لے کر بنگلہ دیش نے دنیا کو حیران کردیا، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدارت جیت لی
  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان