Jasarat News:
2026-07-24@06:25:11 GMT

برکس کا ابھرتا ہوا چیلنج

اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

عالمی سطح پر برکس (BRICS) گروپ کے بڑھتے ہوئے اثرات نے دنیا کی اقتصادیات پر امریکا کے اثر رسوخ کو چیلنج سے دوچار کردیا ہے، یہ گروپ دنیا کی نصف آبادی اور تقریباً 35 فی صد عالمی جی ڈی پی کی نمائندگی کرتا ہے، گزشتہ دنوں برکس نے ڈیویلپمنٹ بینک سے منسلک سرمایہ کاری کا نیا پلیٹ فارم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے جسے بڑی طاقتوں کی بلیک میلنگ سے بچنے کے لیے اسے ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے مقابل ایک متبادل سمجھا جا رہا ہے۔ نیو ڈیولپمنٹ بینک (NDB) کے تحت بننے والا ’’ملٹی لیٹرل گارنٹی فنڈ‘‘ رکن ممالک میں بنیادی ڈھانچے، ماحولیاتی اور پائیدار ترقی کے منصوبوں کے لیے سرمایہ کاری کو فروغ دے گا۔ یہ فنڈ فنانسنگ کے اخراجات اور نجی سرمایہ کاروں کے لیے خطرات کم کرے گا۔ یہ پلیٹ فارم ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے مقابل ایک متبادل کے طور پر کام کرے گا، جس سے مغربی مالیاتی اداروں پر انحصار میں کمی ہوگی۔ یہ فنڈ مقامی کرنسیوں میں فنانسنگ کو فروغ دے گا، جو ڈالر کی بالادستی کو کم کرے گا اور کرنسی کے خطرات سے بچائے گا۔ علاوہ ازیں برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو میں منعقدہ برکس (BRICS) سربراہ اجلاس میں جاری ہونے والے سخت پیغامات نے نہ صرف معیشت بلکہ عالمی نظام کے از سرِ نو تعین کی نشاندہی کی ہے۔ اس اجلاس میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی دوٹوک گفتگو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجارتی پالیسیوں پر تنقید نے اس بات کی طرف اشارہ دیا ہے کہ دنیا یک قطبی نظام سے کثیر قطبی دنیا کی طرف بڑھ رہی ہے۔ واضح رہے کہ دنیا کی اہم معیشتوں پر مشتمل برکس گروپ میں برازیل، روس، انڈیا، چین اور جنوبی افریقا شامل ہیں۔ 2009 میں برکس گروپ کی پہلی کانفرنس میں برازیل، روس، بھارت اور چین شامل تھے، بعد ازاں جنوبی افریقا بھی شامل ہوا۔ پچھلے سال مصر، ایتھوپیا، انڈونیشیا، ایران اور متحدہ عرب امارات کو بھی رکنیت دی گئی۔ سعودی عرب نے تاحال باضابطہ شمولیت اختیار نہیں کی، جب کہ 30 سے زائد ممالک برکس میں شمولیت یا شراکت داری میں دلچسپی ظاہر کر چکے ہیں۔ آٹھ ارب پر مشتمل دنیا کی مجموعی آبادی میں تین ارب تیس کروڑ افراد برکس گروپ سے وابستہ ممالک میں رہتے ہیں، اور ان ممالک کی قومی پیداوار 26 ٹرلین ڈالر ہے۔ برکس کی اصطلاح سب سے پہلے برطانیہ کے ایک ماہر معیشت، جم اونیل نے وضع کی تھی، جم اونیل نے سال 2001 میں ایک تحقیق میں’’برکس‘‘ کی اصطلاح ایجاد کی تھی جب انہوں نے اس بات پر زور دیا تھا کہ برازیل، روس، بھارت اور چین کا ترقی کا بہت بڑا پوٹینشل ہے اور عالمی نظام میں اصلاح کی ضرورت ہے تاکہ ان ملکوں کو اس نظام میں شامل کیا جائے۔ واضح رہے کہ برکس ممالک ماحولیاتی تحفظ اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بھی تعاون کر رہے ہیں، جبکہ روس اور چین مغربی سیاسی بالادستی کے خلاف کھل کر بیانیہ قائم کر رہے ہیں۔ روس کی کوشش ہے کہ برکس کے ارکان کو اس پر مائل کیا جائے کہ بین الاقوامی لین دین کا ایک ایسا متبادل نظام بنایا جائے جو مغربی پابندیوں کے زیر اثر نہ ہو۔ اس صورتحال پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برکس کو دھمکی دی ہے کہ امریکا ان تمام ممالک پر اضافی 10 فی صد ٹیرف عائد کرے گا جو ترقی پذیر ممالک کے گروپ برکس کی ’’امریکا مخالف پالیسیوں‘‘ کی حمایت کریں گے۔ امریکی صدر کی اس دھمکی پر برکس سربراہ اجلاس میں نوٹس لیتے ہوئے ایک مشترکہ اعلامیے میں گروپ نے عالمی تجارتی نظام کو لاحق خطرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹیرف میں اضافے سے عالمی تجارت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ برکس کی حالیہ پیش رفت اور مالیاتی اقدامات سے بظاہر یہ تاثر ضرور مل رہا ہے کہ یہ گروپ موجودہ مغربی سرمایہ دارانہ نظام، خاص طور پر امریکا کی قیادت میں چلنے والے معاشی ڈھانچے کے لیے ایک بڑا چیلنج بننے جارہا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ برکس اگرچہ معاشی سطح پر مضبوط ہو چکا ہے، لیکن وہ ابھی تک ایک مکمل سیاسی اور عسکری اتحاد میں تبدیل نہیں ہوا، امریکا کی عسکری برتری آج بھی مسلمہ ہے وہ کوئی فیصلہ کرتا ہے، تو دنیا اس پر عمل کرتی ہے، چاہے وہ ایران ہو یا اسرائیل۔ ایک ایسے تناظر میں جب G7 اور G20 جیسے فورمز اندرونی اختلافات کی وجہ سے کمزور ہورہے ہیں، برکس کی پیش رفت ایک مثبت اشارہ ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: دنیا کی برکس کی کے لیے کرے گا

پڑھیں:

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

عالمی منڈی میں جمعہ کو خام تیل (Crude Oil)کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھی گئی، تاہم مجموعی طور پر ہفتہ وار بنیادوں پر تیل کی قیمتیں نمایاں اضافے کی جانب بڑھتی رہیں۔ بحیرۂ احمر میں آئل ٹینکروں پر حملوں اور قازقستان سے تیل کی برآمدات میں رکاوٹ نے عالمی منڈی میں سپلائی سے متعلق خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔

کاروباری سیشن کے دوران برینٹ خام تیل (Brent Crude) کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد عبور کرتے ہوئے 100.12 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو مئی کے بعد پہلی مرتبہ اس سطح پر پہنچی ہے۔ اسی طرح ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 92 ڈالر فی بیرل جبکہ اماراتی مربن آئل (Murban Crude) 107.30 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہوا۔

مارکیٹ میں تیزی کی ایک بڑی وجہ یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے بحیرۂ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان حملوں کے بعد سرمایہ کاروں میں خدشات بڑھ گئے ہیں کہ اگر باب المندب کی اہم بحری گزرگاہ متاثر ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی ترسیل شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ یہ راستہ آبنائے ہرمز کے بعد دنیا میں خام تیل کی نقل و حمل کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) نے خبردار کیا ہے کہ مستقبل میں ایسے کسی بھی حملے کی ذمہ داری ایران پر عائد کی جائے گی۔ دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان بھی کر رکھا ہے، جبکہ مختلف اطلاعات کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں باب المندب کی صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے۔

مزیدپڑھیں:پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ

ادھر قازقستان (Kazakhstan) کی وزارتِ توانائی نے بتایا کہ مشتبہ یوکرینی ڈرون حملوں کے بعد ملک کی ایک اہم برآمدی تنصیب عارضی طور پر بند ہونے سے خام تیل کی پیداوار کم کر دی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق کیسپین پائپ لائن کنسورشیم (Caspian Pipeline Consortium – CPC) نے ٹرمینل پر حملوں کے باعث قازقستان سے خام تیل کی وصولی عارضی طور پر معطل کر دی ہے۔ یہ پائپ لائن عالمی سطح پر یومیہ خام تیل کی تقریباً دو فیصد سپلائی سنبھالتی ہے، جبکہ ایک ذریعے کے مطابق قازقستان کے سب سے بڑے آئل فیلڈ کی پیداوار بھی نصف سے کم کر دی گئی ہے۔

توانائی کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی اور قازقستان سے سپلائی میں رکاوٹ کے باعث عالمی تیل مارکیٹ غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے، جس کے نتیجے میں آنے والے دنوں میں خام تیل کی قیمتوں پر اضافے کا دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • پیٹرول کی قیمتیں روزانہ بدلنے کا نظام، عوام خوش یا پریشان؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم