UrduPoint:
2026-07-24@04:29:56 GMT

صدر ٹرمپ کی ٹیرفس کی دھمکیاں اور برکس رہنماؤں کا اجلاس

اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT

صدر ٹرمپ کی ٹیرفس کی دھمکیاں اور برکس رہنماؤں کا اجلاس

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 07 جولائی 2025ء) ترقی پذیر ممالک کے وسیع تر ہوتے گروپ برکس کے رہنماؤں نے اتوار کے روز برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو میں ملاقات کی، جس میں کثیرالجہتی سفارت کاری کے لیے بلاک کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

اپنے افتتاحی کلمات میں برازیل کے صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا نے کہا، "ہم کثیرالجہتی کے بے مثال خاتمے کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔

"

انہوں نے کہا، "اگر بین الاقوامی طرز حکمرانی 21ویں صدی کی نئی کثیر قطبی حقیقت کی عکاسی نہیں کرتی ہے، تو پھر یہ برکس پر منحصر ہے کہ وہ اس کی تجدید میں مدد کرے۔"

انہوں نے نیٹو فوجی اتحاد پر بھی تنقید کی اور الزام لگایا کہ اس نے گزشتہ ماہ کے اواخر میں جی ڈی پی کے 5 فیصد دفاعی اخراجات کا ہدف مقرر کرنے کے بعد اسلحے کی عالمی دوڑ کو ہوا دی ہے۔

(جاری ہے)

ٹرمپ کی برکس ممالک کو امریکی ڈالر کی جگہ اپنی کرنسی استعمال کرنے کے خلاف وارننگ

برکس کی ٹرمپ کے ٹیرفس پر تنقید

برکس ممالک نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب "اندھا دھند" ٹیرفس کے نفاذ کی پالیسی کی مذمت کی ہے۔

بلاک کے رہنماؤں نے "یکطرفہ ٹیرفس اور نان ٹیرفس اقدامات میں اضافے کے بارے میں شدید خدشات کا اظہار کیا، جو تجارت کو مسخ کرنے کے ساتھ ہی عالمی تجارتی تنظیم کے قوانین سے مطابقت نہیں رکھتے ہیں۔

" ان کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات "عالمی اقتصادی ترقی کے امکانات کو متاثر کر رہے ہیں۔"

برکس اجلاس: چین اور بھارت کی تعلقات کو فروغ دینے کی کوشش

ٹرمپ کی ٹیرس سے متعلق نئی دھمکی

ادھر امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ممالک واشنگٹن کے ساتھ ٹیرفس سے متعلق معاہدہ نہیں کرتے ہیں تو یکم اگست سے ان پر 50 فیصد تک ٹیرف عائد کیا جا سکتا ہے۔

اتوار کو امریکی صدر نے برکس گروپ پر بھی تنقید کی اور اس گروپ میں شامل ممالک پر 10 فیصد اضافی ٹیرف عائد کرنے کا عزم ظاہر کیا۔

ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل نیٹ ورک پر ایک پوسٹ میں لکھا، " کوئی بھی ملک جو خود کو برکس کی امریکہ مخالف پالیسیوں سے ہم آہنگ کرتا ہے، اس پر 10 فیصد اضافی ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ اس پالیسی میں کوئی بھی رعایت نہیں ہو گی۔

"

البتہ صدر ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں "امریکہ مخالف پالیسیوں" کے حوالے سے کوئی وضاحت یا تشریح پیش نہیں کی۔

برکس سربراہی کانفرس کے اختتام پر پوٹن کا دنیا کو پیغام

چینی اور روسی صدر برکس اجلاس سے کیوں غائب ہیں؟

برکس بلاک کو ابتدا میں برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ نے تشکیل دیا تھا، جس میں گزشتہ برس مصر، ایتھوپیا، ایران، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور انڈونیشیا بھی رکن کے طور پر شامل ہوئے اور اس کے سائز میں اضافہ ہوا۔

یہ دنیا کی تقریباً نصف آبادی پر مشتمل گروپ ہے۔

سن 2012 میں چین کے سربراہ بننے کے بعد سے یہ پہلا موقع ہے، جب صدر شی جن پنگ نے برکس سربراہی اجلاس میں شرکت نہیں کی ہے۔

شی جن پنگ نے اپنے وزیر اعظم لی کیانگ کو بیجنگ کی نمائندگی کے لیے بھیجنے کا انتخاب کیا۔ البتہ چین کی وزارت خارجہ نے یہ نہیں بتایا کہ شی جن پنگ ریو ڈی جنیرو میں ہونے والی ملاقات میں کیوں شامل نہیں ہوئے۔

چین اور بھارت کا متنازعہ سرحد پر گشت کے معاہدے پر اتفاق

روسی صدر ولادیمیر پوٹن بھی اس اجلاس سے دور رہ رہے، تاہم انہوں نے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے اس میں شرکت کی۔

یوکرین پر حملے میں کردار کے لیے پوٹن بین الاقوامی فوجداری عدالت کو مطلوب ہیں۔ برازیل اس عدالت کا ایک رکن ہے اور پوٹن کے ملک میں داخل ہونے کی صورت میں انہیں گرفتار کرنے کا وہ پابند ہو گا۔

پوٹن نے برکس سربراہی اجلاس میں کیا کہا؟

ٹیلیویژن پر نشر ہونے والے ریمارکس میں روسی صدر نے کہا کہ "ہر چیز اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ لبرل عالمگیریت کا ماڈل متروک ہوتا جا رہا ہے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ "کاروباری سرگرمیوں کا مرکز ابھرتی ہوئی مارکیٹوں کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔" انہوں نے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ قدرتی وسائل، لوجسٹکس، تجارت اور مالیات سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو تیز کریں۔

برکس میں توسیع کا اعلان، چھ نئے ممالک شامل

برکس کی پہلگام حملے کی مذمت

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اجلاس میں کہا کہ برکس کو تیزی سے کثیر قطبی دنیا میں گلوبل ساؤتھ کی قیادت کرنی چاہیے۔

مودی نے اپریل میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے پہلگام میں سیاحوں پر ہونے والے حملے کے بارے میں بھی بات کی، جس کی وجہ سے بھارت اور پاکستان کے درمیان مئی کے اوائل میں مختصر سی لڑائی ہو گئی تھی۔

برکس کانفرنس: نگاہیں عالمی جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں پر

برکس کے مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا، "ہم 22 اپریل 2025 کو جموں و کشمیر میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، جس کے دوران 26 افراد ہلاک اور بہت سے زخمی ہوئے تھے۔"

اس میں مزید کہا گیا، "ہم دہشت گردوں کی سرحد پار نقل و حرکت، دہشت گردی کی مالی معاونت اور محفوظ پناہ گاہوں سمیت دہشت گردی کی تمام شکلوں اور مظاہر سے نمٹنے کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔"

ادارت: جاوید اختر

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے انہوں نے ٹرمپ کی کے لیے نے کہا

پڑھیں:

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں میڈیا انڈسٹری، پیکا قوانین اور صحافیوں کے فلاحی امور سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں سینیٹر عبدالشکور، سینیٹر سید وقار مہدی، سینیٹر پرویز رشید اور سینیٹر جان محمد نے شرکت کی۔

کمیٹی کو این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔

چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات

کمیٹی نے فلم "بلھا" میں حضرت بابا بلھ شاہ کے امن کے پیغام کی مبینہ غلط ترجمانی کا بھی نوٹس لیا، اور مشاہدہ کیا کہ فلم نے معروف صوفی بزرگ کی پرامن تعلیمات کو مرکزی کردار کے ذریعے تشدد اور بندوقوں سے جوڑ کر مسخ کیا ہے۔ اراکین نے اس بنیاد پر سوال اٹھایا کہ سینٹرل بورڈ آف فلم سنسرز نے اس فلم کی منظوری کس طرح دی۔ اگرچہ سنسر بورڈ کے چیئرمین نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ فلم پنجاب اور سندھ کے سنسر بورڈز سے بھی منظور شدہ ہے، تاہم کمیٹی نے اس توجیہہ کو مسترد کر دیا۔ اراکین نے سنسر بورڈ کے ارکان کی تقرری کے معیار پر بھی سوال اٹھایا اور وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ اس طرح کی تقرریوں کے لیے ایک شفاف اور میرٹ پر مبنی طریقہ کار وضع کرے۔

پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا

تفصیلی غوروخوض کے بعد، کمیٹی نے سفارش کی کہ فلم "بلھا" کے پروڈیوسرز کو کہا جائے کہ وہ اس کا نام تبدیل کریں اور وہ قابلِ اعتراض مکالمہ ہٹائیں جس میں مرکزی کردار نے خود کا موازنہ بابا بلھ شاہ سے کیا ہے، بصورت دیگر فلم کی ریلیز پر پابندی عائد کی جائے جس میں یوٹیوب سے اس کا ممکنہ اخراج بھی شامل ہو۔

کمیٹی کو وفاقی حکومت کے ملازمین ہاؤسنگ اتھارٹی (FGEHA) کی طرف سے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے لیے فلیٹس اور پلاٹوں کی الاٹمنٹ کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ میڈیا ورکرز کے کوٹے کے تحت الاٹمنٹ کا کام مکمل ہو چکا ہے جبکہ صحافیوں کے کوٹے سے متعلق مسائل ابھی تک حل طلب ہیں۔ اس طویل تاخیر پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے، کمیٹی نے اپنی سفارشات پر عمل درآمد کی نگرانی اور مسئلے کے حل کو آسان بنانے کے لیے سینیٹرز پرویز رشید، وقار مہدی اور عبدالشکور پر مشتمل ایک مانیٹرنگ سب کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا۔

سینیٹر سرمد علی نے وزارت اطلاعات و نشریات کو ہدایت کی کہ معاملے کا جائزہ لینے، موجودہ پالیسی پر نظرثانی کرنے اور ایک ماہ کے اندر الاٹمنٹس کا فیصلہ کرنے کے لیے ایک ہفتے کے اندر صحافیوں کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی کا نوٹیفیکیشن جاری کیا جائے۔ کمیٹی نے مستقبل کی ہاؤسنگ سکیموں میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے کوٹے میں اضافے کی بھی سفارش کی اور ایک مخصوص ہاؤسنگ لون سکیم متعارف کرانے یا موجودہ وفاقی حکومت کے ہاؤسنگ فنانس کے اقدامات کے تحت صحافیوں کو ترجیح دینے کی تجویز دی۔

پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (PID) نے بھی کمیٹی کو علاقائی اخبارات کے اشتہاری کوٹے کے بارے میں بریفنگ دی۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ موجودہ پالیسی کے تحت سرکاری اشتہارات کا 25 فیصد حصہ علاقائی اخبارات کے لیے مخصوص ہے۔ تاہم، اراکین نے اس پالیسی پر عمل درآمد نہ ہونے کی شکایات کا نوٹس لیا، خاص طور پر سندھ اور بلوچستان سے۔ قائم مقام چیئرمین نے پی آئی ڈی کو ہدایت کی کہ وہ 25 فیصد کوٹے کی سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنائے، جس میں عوامی سطح پر معلومات کی ترسیل میں ان کے اہم کردار کے اعتراف میں لسانی اخبارات بھی شامل ہوں۔

کمیٹی نے ریڈیو پاکستان کے پنشنرز کو درپیش مسائل پر بھی مزید تبادلہ خیال کیا۔ یہ بتایا گیا کہ 353 کمیوٹیشن کیسز تحال زیر التوا ہیں اور ریڈیو پاکستان وفاقی حکومت کے گران্ট-اِن-ایڈ کے ذریعے چل رہا ہے۔ حکام نے کمیٹی کو یہ بھی بتایا کہ وزیراعظم پہلے ہی ریڈیو پاکستان، پی ٹی وی اور اے پی پی سے متعلقہ بقایا مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے چکے ہیں۔ قائم مقام چیئرمین نے ہدایت کی کہ ریڈیو پاکستان کے پنشنرز کے مطالبات بھی وزیراعظم کی کمیٹی کے سامنے رکھے جائیں اور اس معاملے کے جلد از جلد حل کا مطالبہ کیا۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم