واشنگٹن(اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔07جولائی 2025)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہناہے کہ جو ممالک برکس کی امریکہ مخالف پالیسیوں کی حمایت کریں گے ان پر 10 فیصد اضافی ٹیرف یعنی درآمدی ٹیکس عائد کیا جائے گا،کسی ملک کو کوئی رعایت نہیں دی جائے گی، امریکی صدر نے دھمکی دی کہ جو ملک بھی برکس کی امریکا مخالف پالیسیوں پر چلے گا اس پر اضافی 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا،سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر صدر ٹرمپ نے لکھا کہ جو بھی ملک برکس کی امریکا مخالف پالیسیوں کے ساتھ کھڑا ہوگا اس پر 10 فیصد اضافی ٹیرف لاگو ہوگا اور اس پالیسی میں کوئی استثنا نہیں ہوگا۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس پالیسی سے کسی کو رعایت نہیں ملے گی اس معاملے کی طرف توجہ دینے کا شکریہ۔امریکی صدر نے مزید کہا کہ آج مختلف ممالک کو ٹیرف سے متعلق خطوط ارسال کردئیے جائیں گے۔

(جاری ہے)

صدر ٹرمپ نے تصدیق کی کہ امریکہ آج سے مختلف ممالک کو خطوط بھیجنا شروع کرے گا جن میں ہر ملک کے لیے مخصوص ٹیرف کی شرح اور تجارتی معاہدوں کی تفصیلات درج ہوں گی۔

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹیکس اخراجات سے متعلق بگ بیوٹی فل بل پر دستخط کردئیے تھے۔دفاعی اخراجات میں اضافہ اور امیگریشن پر سخت اقدامات کو قانون کا حصہ بن گیاتھا۔وائٹ ہاؤس میں بگ فل بیوٹی دستخط کی تقریب منعقد کی گئی جس میں اعلیٰ حکومتی عہدیداروں، فوجی افسران اور ارکانِ کانگریس نے شرکت کی تھی۔صدر ٹرمپ نے سینیٹ اور ایوان نمائندان سے منظور ہونے والے ٹیکس اور اخراجات سے متعلق بگ بیوٹی فل بل پر دستخط کرکے ٹیکس میں کمی، دفاعی اخراجات میں اضافہ اور امیگریشن پر سخت اقدامات کو قانون کا حصہ بنا دیاگیاتھا۔

یوم آزادی کی تقریب سے خطاب میں امریکی صدر نے کہاتھا کہ بگ بیوٹی فل بل کسی ملک کی تاریخ کا بہترین بل تھا۔ ہم امریکہ کو پھر سے عظیم ترین ملک بنائیں گے۔بگ بیوٹی فل بل کسی بھی ملک کی تاریخ کا بہترین قانون ہے جو معاشی ترقی کو آگے لے کر جاتا تھا۔انہوں نے کہاتھاکہ امریکی سٹاک مارکیٹ آج بلندترین سطح پر ہے۔ امریکہ کو عظیم ترین بنائیں گے۔

امریکی فضائیہ نے چند روز قبل کامیاب آپریشن کیا۔ ہم نے امریکہ کی طاقت کو بحال کیا، بائیڈن دور میں 21ملین افراد غیر قانونی طور پر امریکا میں داخل ہوئے۔ اب ہمارے بارڈرز پہلے سیزیادہ محفوظ ہیں۔تقریب سے خطاب میں امریکی صدرکامزید کہناتھا کہ نے ایران پر حملے سے متعلق دوبارہ بات کرتے ہوئے کہا کہ چند روز قبل امریکی فضائیہ نے ایران میں کامیاب آپریشن کیا۔ ہم نے امریکہ کی طاقت کو بحال کیا تھا۔
.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے بگ بیوٹی فل بل امریکی صدر برکس کی

پڑھیں:

بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر

اسلام ٹائمز: یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مذکورہ تنظیم عملاً ہر قسم کی سیاسی یا جماعتی سرگرمیوں سے دور رہی ہے۔ تاہم اس اقدام کو بحرین میں شیعہ اداروں کے خلاف جاری دباؤ اور کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اپنے قیام کے آغاز سے ہی یہ تنظیم ایک ثقافتی، سماجی اور دینی پلیٹ فارم کے طور پر معروف رہی ہے، جو بنیادی طور پر سماجی اور تربیتی امور پر توجہ دیتی رہی ہے۔ خصوصی رپورٹ:

بحرینی حکام نے سنہ 2026 کے حکم نامہ نمبر (19) کے تحت جمعیۃ التوعیۃ الاسلامیۃ (اسلامی آگاہی سوسائٹی) کو تحلیل کرنے کا فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ یہ ادارہ بحرین میں شیعہ آبادی کی سب سے نمایاں ثقافتی اور سماجی تنظیم سمجھا جاتا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مذکورہ تنظیم عملاً ہر قسم کی سیاسی یا جماعتی سرگرمیوں سے دور رہی ہے۔ تاہم اس اقدام کو بحرین میں شیعہ اداروں کے خلاف جاری دباؤ اور کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اپنے قیام کے آغاز سے ہی یہ تنظیم ایک ثقافتی، سماجی اور دینی پلیٹ فارم کے طور پر معروف رہی ہے، جو بنیادی طور پر سماجی اور تربیتی امور پر توجہ دیتی رہی ہے۔

یہ فیصلہ محض ایک انتظامی اقدام نہیں بلکہ اس کے سیاسی اور سماجی اثرات بھی ہیں۔ بحرین کے شیعہ معاشرے میں اس تنظیم کی اہمیت کے پیش نظر، اسے نشانہ بنانا وسیع حلقوں کی نظر میں شیعہ برادری کے خلاف محدودیت پسند پالیسیوں کا تسلسل سمجھا جا رہا ہے، خصوصاً گزشتہ برسوں میں اس طبقے کے خلاف کیے جانے والے متعدد اقدامات کے تناظر میں۔ یہ تنظیم، جو اس سے قبل بھی مختلف سخت اور غیر منصفانہ کارروائیوں کا نشانہ بن چکی ہے، 1972ء میں بحرین کے ممتاز دینی علماء کے ایک گروہ نے آیت اللہ شیخ عیسیٰ قاسم کی قیادت میں قائم کی تھی۔ بعد ازاں یہ بحرین اور خطے کی سب سے بڑی ثقافتی اور سماجی تنظیموں میں شمار ہونے لگی۔

اس تنظیم کی تحلیل کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ بحرینی حکام نے پہلی مرتبہ فروری 1984ء میں اس تنظیم کو بند کیا تھا اور یہ پابندی 2001ء تک برقرار رہی۔ بعد ازاں قومی منشور پر ہونے والے ریفرنڈم اور ملک میں نسبتاً سیاسی کشادگی کے دور میں اسے دوبارہ سرگرمیوں کی اجازت دی گئی۔ اس کے بعد جون 2016ء میں، شیعہ مذہبی شخصیات اور اداروں کے خلاف وسیع کارروائیوں کے دوران، حکام نے ایک مرتبہ پھر اس تنظیم کو تحلیل کرنے کا حکم جاری کیا۔ 9 جون 2022ء کو تحلیل کا فیصلہ منسوخ کر دیا گیا اور تنظیم نے اپنی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دیں، تاہم اس کی سرگرمیاں مسلسل مختلف پابندیوں کے حصار میں رہیں۔

ان پابندیوں میں قانونی و انتظامی کارروائیاں، تنظیم سے وابستہ ذمہ داران کے خلاف مقدمات، بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تحلیل اور بعض سرگرمیوں کی جبری معطلی شامل تھیں۔ بالآخر تنظیم کے سربراہ اور تین دیگر کارکنان کو بھی اسی ادارے میں اپنی سرگرمیوں کی بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا، جسے اپوزیشن اور مخالف حلقوں کے ساتھ سکیورٹی طرزِ عمل کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔ سنہ 2026 کے حکم نامہ نمبر (19) کے اجرا کے ساتھ اسلامی آگاہی سوسائٹی ایک بار پھر اپنی مسلسل بندشوں اور پابندیوں کی تاریخ کے نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ اس پیش رفت نے بحرین میں مذہبی آزادیوں کے بارے میں مزید سوالات کو جنم دیا ہے، حالانکہ حکومت خود کو رواداری اور پرامن بقائے باہمی کا داعی قرار دیتی ہے۔

اس تنظیم کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کی تاریخی ترتیب کا جائزہ لیا جائے تو حالیہ تحلیل کو محض ایک انتظامی یا قانونی اختلاف قرار دینا مشکل دکھائی دیتا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ 54 برس قبل اپنے قیام سے لے کر آج تک یہ ادارہ اپنی ثقافتی، سماجی اور دینی شناخت کے حوالے سے جانا جاتا رہا ہے۔ دوسری جانب، تنظیم کو بند کرنے کے اقدامات کو ملک کے سب سے بڑے سماجی طبقے کے حوالے سے حکومتی تنگ نظری کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ پالیسیاں معاشرے کو قابو میں رکھنے اور محدود کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں، جو باہمی اعتماد کو کمزور کرتی ہیں اور بحرین کے وسیع ترین عوامی طبقے کو سیاسی و سماجی طور پر حاشیے پر دھکیلنے کے رجحان کو مزید تقویت دیتی ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم