نیو دہلی:

آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمز) دہلی کی پہلی خاتون سربراہ ڈاکٹر بھارگوا نے بھارت کی سابق وزیراعظم اندراگاندھی پر قاتلانہ حملے کے بعد کئی گھنٹوں تک ان کی موت کی خبر چھپانے کی وجوہات سے پردہ اٹھا دیا ہے۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر سنیہ بھارگوا 1984 میں دہلی کے آل انڈیا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کی پہلی خاتون سربراہ بنی تھی اور ان کا شمار برصغیر کے اولین ریڈیالوجسٹس میں ہوتا ہے اور وہ مذکورہ اسپتال کی 70 سالہ تاریخ کی واحد خاتون سربراہ بھی ہیں۔

ڈاکٹر بھارگوا نے 90 سال کی عمر میں اپنی یادداشتیں 'دی ویمن ہو رن دا ایمز' تحریر کرنا شروع کی تھیں اور حال ہی میں شائع ہوئی ہیں، اس وقت ان کی عمر 95 برس ہے لیکن میڈیکل کمیونٹی کی سرگرم رکن ہیں۔

انہوں نے اپنی ڈائری میں اسپتال میں پیش آنے والے کئی تاریخی واقعات بھی بیان کیے ہیں اور وزرا، سیاست دانوں اور بااثر افراد کی جانب سے اپنے من پسند تعیناتیوں اور کاموں کے لیے ہونے والی سفارشیں اور دباؤ کا بھی ذکر کیا ہے۔

ڈاکٹر بھارگوا کو جب آل انڈیا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کی سربراہ کے لیے انتخاب کیا جا رہا تھااور ان کا پہلا ہی ان کے لیے کسی امتحان سے کم نہیں تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ 31 اکتوبر 1984 کو صبح کے وقت اسپتال میں اعلیٰ حکام کا اجلاس جاری تھا جہاں ڈاکٹر بھارگوا کی سربراہی کے احکامات کو حتمی شکل دی جا رہی تھی اور اس عہدے کے لیے ان کا انتخاب اس وقت کی وزیراعظم اندرا گاندھی نے کیا تھا۔

ڈاکٹر بھارگوا نے اپنے پہلے دن کے حوالے سے یاد داشت میں کہا کہ وہ اس اجلاس کا حصہ نہیں تھیں لیکن اس اپنے دفتر میں میڈیکل کیسز دیکھ رہی تھیں اور اسی دوران ان کے ایک ساتھی نے انہیں ہڑبھڑاتے ہوئے کال کی اور انہیں شعبہ حادثات میں فوری طور پر پہنچنے کے لیے کہا۔

ڈاکٹر بھاگوا جب شعبہ حادثات میں پہنچی تو وہاں اسٹریچر پر اسپتال کی سربراہی کے لیے ان کا انتخاب کرنے والی بھارت کی وزیراعظم اندراگاندھی تھی، ان کی زعفرانی ساڑھی خون سے بھری ہوئی تھی اور ان کی سانسیں نہیں چل رہی تھیں۔

ڈاکٹر بھاگوا نے بتایا کہ اس وقت میری توجہ اس بات پر نہیں تھی کہ ہمارے سامنے ملک کی وزیراعظم لیٹی ہوئی ہیں بلکہ میرے خیالات یہ تھے کہ ہمیں ان کی مدد کرنی ہے اور انہیں مزید کسی نقصان سے محفوظ رکھنا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت انہیں مشتعل ہجوم کی جانب سے شعبہ حادثات میں توڑ پھوڑ کا بھی خدشہ تھا کیونکہ عوام کی بڑی تعداد اسپتال کے باہر جمع ہونا شروع ہوگئی تھی۔

اس وقت خبریں چل رہی تھیں کہ اندرا گاندھی کو ان کے دو سکھ باڈی گارڈز نے آپریشن بلیو اسٹار کے بدلے کے طور پر گولی مار دی ہے۔

خیال رہے کہ جون 1984 میں اندرا گاندھی کی حکومت نے پنجاب کے شہر امرتسر میں سکھوں کے مقدس مذہبی مقام گولڈ ٹیمپل پر فوجی آپریشن کیا گیا تھا، اس آپریشن کو بلیو اسٹار کا نام دیا گیا اور اس کی وجہ دہشت گردوں کی گرفتاری بتائی گئی تھی۔

اندرا گاندھی کے قتل کے بعد بھارت میں بدترین فسادات پھوٹ پڑے تھے جو بھارت کی تاریخ کے چند بدترین واقعات میں سے ایک ہے۔

ڈاکٹر بھاگوا نے بتایا کہ انہیں اندرا گاندھی کو اسپتال کی چوتھی منزل میں منتقل کرنے کی جلدی تھی جہاں آپریشن تھیٹر تھا اور ایک سکھ ڈاکٹر اندراگاندھی کے قتل کے بارے میں حقائق سن کر کمرے سے بھاگ گئے۔

ڈاکٹر بھاگوا نے بتایا کہ اندرا گاندھی کی موت کی خبر اس وقت تک چھپانی پڑی جب تک ان کے بیٹے راجیو گاندھی وزیراعظم کی حیثیت سے حلف نہیں لیتے۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت تک یعنی اگلے 4 گھنٹوں تک ہمارا کام اس خبر کو چھپانا تھا اور ہمیں ان کی زندگی بچانے کی کوشش کا دکھاوا کرنا تھا حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ اندرا گاندھی کو جب آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز لایا گیا تھا تو وہ پہلے ہی دم توڑ چکی تھیں۔

ڈاکٹر بھارگوا نے بتایا کہ اندرا گاندھی کی آخری رسومات کی ادائیگی تک مزید دو  دن لگے اور اس دوران کا عمل ان کے لیے انتہائی پریشان کن تھا کیونکہ انہیں حنوط کرنے کے لیے جس کیمیکل کا انجکشن مختلف رگوں کے ذریعے دیا جاتا وہ باہر نکل آتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ بعد ازاں ایک میڈیکل رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ اندراگاندھی کے جسم میں تین درجن سے زائد گولیاں پیوست ہوگئی تھیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: آف میڈیکل سائنسز کہ اندرا گاندھی نے بتایا کہ گاندھی کی کے لیے ان آل انڈیا انہوں نے رہی تھی اور ان اور اس

پڑھیں:

ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟

ایران امریکا مذاکرات میں دُنیا پاکستان کے ثالثی کردار کی تعریف کر رہی ہے۔ یورپی یونین کی نائب صدر کاجا کالاس نے گزشتہ روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے کردار کی زبردست تعریف کی۔

اس سے قبل پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے دورہ واشنگٹن کے دوران جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی تو انہوں نے بھی پاکستان کے کردار کی کھل کر تعریف کی۔

لیکن اِس سب کے باوجود امریکا ایران تنازعے کا پائیدار حل نظر نہیں آ رہا جس کی بُنیادی وجہ دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان اور اسرائیل کی جانب سے غزہ اور اب لبنان میں نہ رُکنے والی جنگی جارحیت ہے، حالاں کہ ایرانی وزیرِخارجہ عباس عراقچی نے اس بات کو کھل کر دُہرایا کہ جنگ بندی معاہدے میں لبنان بھی شامل ہے۔

گزشتہ 10 روز میں کیا پیش رفت ہوئی؟

مختلف سفارتی ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان متعدد بالواسطہ رابطے اور مذاکرات ہوئے جن کے بنیادی نکات میں جنگ بندی پر عملدرآمد، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا تحفظ، پابندیوں میں ممکنہ نرمی، منجمد ایرانی اثاثوں کا معاملہ اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات کو دور کرنا شامل تھا۔

مغربی میڈیا کے مطابق فریقین ایک عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے تھے تاہم ایرانی حُکام ایسی خبروں کی تردید کر رہے ہیں۔ ایرانی حُکام اپنا مؤقف کھل کر بیان کر رہے ہیں کہ کسی بھی حتمی معاہدے کے اعلان سے قبل عملی اقدامات اور قابلِ تصدیق ضمانتیں ضروری ہیں، یہی وجہ ہے کہ مذاکرات جاری ہونے کے باوجود حتمی پیش رفت کا اعلان ابھی تک سامنے نہیں آیا۔

لبنان پر اسرائیلی جارحیت اور ایرانی وزیرِ خارجہ کا بیان

تازہ ترین اور شاید سب سے اہم پیش رفت ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے اس بیان کی صورت میں سامنے آئی جس میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی کسی بھی جنگ بندی کا اطلاق پورے خطے پر ہوگا۔

عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان سیز فائر کا اطلاق ’تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی‘ سے تعبیر ہے، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کسی ایک محاذ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی تو اسے تمام محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور اس کے نتائج کی ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوگی‘۔

پاکستان کی تازہ سفارتکاری کوششیں

گزشتہ 10 روز کے دوران پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے  تہران کے دورے، ایرانی قیادت سے ملاقاتیں اور پاکستانی حکام کی مسلسل رابطہ کاری نے یہ تاثر مضبوط کیا کہ اسلام آباد تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک اہم سفارتی چینل کے طور پر کام کر رہا ہے۔

اسی دوران پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ تہران نے سفارتی حلقوں کی خصوصی توجہ حاصل کی۔ متعدد مبصرین کے مطابق پاکستان صرف پیغامات منتقل نہیں کر رہا بلکہ اعتماد سازی اور مذاکراتی عمل کو برقرار رکھنے میں بھی کردار ادا کر رہا ہے۔

واشنگٹن میں اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی ملاقات

پاکستان کی سفارت کاری کی اہمیت اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات ہوئی۔اس ملاقات میں ایران، امریکا مذاکرات، علاقائی سلامتی، آبنائے ہرمز اور پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

امریکی قیادت کی جانب سے پاکستان کے کردار کو سراہا جانا اس بات کا اشارہ تھا کہ واشنگٹن اسلام آباد کو ایک مؤثر رابطہ کار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

یورپی یونین کی غیر معمولی تائید

یکم جون 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والے 8 ویں پاکستان، یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ نے پاکستان کی سفارتی حیثیت کو مزید تقویت دی۔

اجلاس کی صدارت پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کلاس نے مشترکہ  طور پر کی جس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ کاجا کالاس نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی پاکستانی کوششوں کو تعمیری اور بامعنی قرار دیا۔

اعلامیے میں خاص طور پر امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی اور اسلام آباد مذاکرات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یورپی یونین نے نہ صرف پاکستان کے کردار کو سراہا بلکہ آبنائے ہرمز میں آزاد اور محفوظ بحری آمدورفت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

یہ ایک غیر معمولی سفارتی پیش رفت ہے کیونکہ اس سے قبل پاکستان کی ثالثی کو زیادہ تر علاقائی تناظر میں دیکھا جا رہا تھا، جبکہ اب یورپی یونین بھی اسے باضابطہ طور پر تسلیم کر رہی ہے۔

’آبنائے ہرمز ‘ مذاکرات کا اصل مرکز

موجودہ بحران میں ’آبنائے ہرمز‘ صرف ایک بحری گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی سیاست اور معیشت کا مرکزی نقطہ بن چکی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک کو توانائی سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔اسی لیے ایران، امریکا، یورپی یونین اور پاکستان سب اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ ’آبنائے ہرمز‘ میں کشیدگی کم کرنا اور محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

اگرچہ جنگ بندی برقرار ہے، سفارتی رابطے بھی جاری ہیں لیکن اختلافی مسائل اب بھی باقی ہیں۔تاہم ایک حقیقت واضح ہے کہ ’ مذاکرات ٹوٹے نہیں بلکہ آگے بڑھے ہیں‘۔

امریکا، ایران، پاکستان اور یورپی یونین سب سفارتی راستے کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر آنے والے ہفتوں میں کوئی عبوری معاہدہ، توسیع شدہ جنگ بندی یا وسیع علاقائی سلامتی فریم ورک وجود میں آتا ہے تو پاکستان کو صرف ایک سہولت کار نہیں بلکہ اس پورے سفارتی عمل کے اہم معماروں میں شمار کیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل امریکا ایران پاکستان تہران سفارت کاری کاجا کالاس مذاکرات واشنگٹن یورپی یونین

متعلقہ مضامین

  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟