برکس گروپ نے دوسرے ممالک کو کمزور کرنے کیلئے کبھی کام نہیں کیا، کریملن کا ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT
اس سے قبل چین نے بھی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی برکس ممالک پر 10 فیصد مزید ٹیرف کی دھمکی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ ٹیرف کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی مخالفت کرتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے برکس ممالک پر 10 فیصد اضافی ٹیرف کے بیان پر کریملن نے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ برکس گروپ نے دوسرے ممالک کو کمزور کرنے کے لیے کبھی کام نہیں کیا۔ ماسکو سے کریملن کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ کی برکس ممالک پر 10 فیصد اضافی ٹیرف کے بیان کا نوٹس لیا ہے، امریکی صدر ٹرمپ کے ایسے بیانات دیکھے ہیں۔
کریملن نے مزید کہا کہ لیکن یہاں یہ بات بہت اہم ہے کہ برکس باہمی مفادات کی بنیاد پر تعاون اور عالمی نقطہ نظر میں ہم آہنگی والے ممالک کا اتحاد ہے۔ کریملن کا کہنا ہے کہ برکس ممالک کا یہ تعاون نہ کبھی کسی تیسرے ملک کے خلاف تھا، نہ ہے اور نہ ہی ہوگا۔ اس سے قبل چین نے بھی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی برکس ممالک پر 10 فیصد مزید ٹیرف کی دھمکی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ ٹیرف کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی مخالفت کرتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: برکس ممالک پر 10 فیصد
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔