نئے مالی سال کا شاندار آغاز، سٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی، نیا ریکارڈ قائم
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے دوسرے روز کے آغاز پر زبردست تیزی دیکھنے میں آئی جس کے باعث کے ایس ای 100 انڈیکس 2572 پوائنٹس کے اضافے کیساتھ ایک لاکھ 28 ہزار 199 پوائنٹس کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ کر اختتام پزیر ہوا۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں نئے مالی سال کا شاندار آغاز ہوا ہے، مارکیٹ میں زبردست تیزی کے نتیجے میں ایک نیا سنگ میل عبور ہوگیا ہے۔کاروباری ہفتے کے دوسرے روز کے آغاز پر سٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی دیکھنے میں آئی جس کے باعث کے ایس ای 100 انڈیکس 1100 پوائنٹس کا اضافہ ہوا جس کے بعد 100 انڈیکس ایک لاکھ 26 ہزار 669 پوائنٹس کیساتھ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا اور بعدازاں 100 انڈیکس ایک لاکھ 27 ہزار کو بھی چھو گیا۔ بعد ازاں سرمایہ کاروں کے اعتماد کی وجہ سے حصص کی خرید و فروخت میں تیزی کا رجحان جاری رہا اور کاروباری روز کے اختتام پر مجموعی طور پر ہنڈرڈ انڈیکس 2572 پوائنٹس کے اضافے کیساتھ ایک لاکھ 28 ہزار 199 پوائنٹس کی نئی بلند ترین سطح پرپہنچ گیا۔
واضح رہے کہ چین کی جانب سے پاکستان کے لیے 3 ارب 40 کروڑ کا قرض رول اوور کیے جانے سے گزشتہ مالی سال اختتام تک آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر 14 ارب ڈالر تک پہنچنے اور امریکا کے ساتھ متوقع تجارتی معاہدوں کے باعث پاکستان سٹاک ایکس چینج میں پیر کو بھی تیزی کا رحجان برقرار رہا تھا۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز بھی سٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی دیکھنے میں آئی تھی جس کے باعث 100 انڈیکس 1248 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ ایک لاکھ 25 ہزار 627 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر بند ہوا تھا۔ سٹاک مارکیٹ میں آج 27 ارب 97 کروڑ 2 لاکھ 58 ہزار 529 روپے مالیت کے 33 کروڑ 69 لاکھ 7 ہزار 385 شیئرز کا لین دین ہوا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سٹاک ایکسچینج میں میں زبردست تیزی پوائنٹس کی ایک لاکھ کے باعث
پڑھیں:
پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں 70 سے 80 فیصد کاروباری ادارے نئی سرمایہ کاری کے فیصلوں کو مؤخر کر رہے ہیں یا ان پر نظرثانی کر رہے ہیں۔ اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تازہ بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے میں یہ بات سامنے آئی، سروے میں پاکستان میں کاروباری اعتماد میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے۔ او آئی سی سی آئی کی جانب سے 2026ء کی دوسری سہ ماہی کے دوران کیے گئے بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے کی 29ویں لہر کے نتائج جاری کرتے ہوئے انکشاف کیا گیا کہ مجموعی کاروباری اعتماد 9فیصد پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 13 فیصد رہ گیا ہے، جو اس سے قبل 28ویں لہر میں مثبت 22 فیصد تھا۔ سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔
کاروباری اداروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نے سرمایہ کاری کے فیصلوں، پیداواری لاگت، خام مال کی دستیابی اور مستقبل کی منصوبہ بندی کو متاثر کیا ہے۔ شعبہ جاتی بنیادوں پر خدمات کے شعبے میں سب سے زیادہ کمی دیکھی گئی، جہاں اعتماد 20 پوائنٹس گر کر مثبت 14 فیصد رہ گیا۔ مینوفیکچرنگ کے شعبے میں بھی 7 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم ریٹیل سیکٹر واحد شعبہ رہا جہاں کاروباری اعتماد میں 3 پوائنٹس بہتری آئی اور یہ مثبت 20 فیصد تک پہنچ گیا۔ سرمایہ کاری کے رجحانات میں بھی نمایاں کمزوری سامنے آئی ہے۔ نیو انویسٹمنٹ انڈیکس 10 پوائنٹس کمی کے بعد صرف مثبت 2 فیصد رہ گیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کاروباری ادارے موجودہ غیر یقینی صورتحال میں نئی سرمایہ کاری سے گریز کر رہے ہیں۔ سروے کے مطابق بیشتر ادارے متاثرہ تجارتی راستوں پر انحصار کم کرنے، سپلائی چین کو متنوع بنانے اور آپریشنل خطرات کم کرنے پر توجہ دے رہے ہیں۔
سروے کے مطابق عالمی کاروباری صورتحال کا اشاریہ بھی 31 پوائنٹس تک گر گیا ہے، جبکہ تمام شعبوں سے وابستہ کاروباری اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ موجودہ تعطل چھ ماہ سے زیادہ عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔ آئندہ چھ ماہ کے حوالے سے 34 فیصد جواب دہندگان نے معاشی حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا، جبکہ گزشتہ سروے میں یہ شرح 22 فیصد تھی۔ کاروباری اداروں نے سیاسی عدم استحکام، ایندھن کی قیمتوں، مہنگائی، بلند ٹیکسز، کرنسی کے اتار چڑھاؤ اور پالیسیوں کے عدم تسلسل کو بڑے خطرات قرار دیا۔ ساختی خطرات کے حوالے سے 84 فیصد جواب دہندگان نے بڑھتی ہوئی مہنگائی کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا، 79 فیصد نے زیادہ ٹیکسز پر تشویش ظاہر کی، جبکہ 61 فیصد نے کرنسی کے عدم استحکام اور حکومتی پالیسیوں میں تسلسل کے فقدان کو کاروباری ترقی کیلئے اہم رکاوٹ قرار دیا۔
او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں، جو ملک میں بڑے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی نمائندگی کرتی ہیں، کے درمیان کاروباری اعتماد نسبتاً بہتر رہا اور معمولی اضافے کے ساتھ مثبت 28 فیصد تک پہنچ گیا۔ بڑے شہروں میں کاروباری اعتماد 12 پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 11فیصد رہا، جبکہ پشاور، کوئٹہ، راولپنڈی، ملتان، سیالکوٹ اور سکھر سمیت دیگر شہروں میں 3 پوائنٹس بہتری کے بعد اعتماد مثبت 22 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ قلیل مدتی معاشی دباؤ کے باوجود کئی ادارے جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے استعمال میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ خصوصاً او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں نے ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز، بنیادی کاروباری عمل اور افرادی قوت کی تربیت میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرنے کے حوالے سے زیادہ تیاری ظاہر کی ہے۔ واضح رہے کہ او آئی سی سی آئی کا بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے سال میں دو مرتبہ کیا جاتا ہے، جس میں شامل شرکاء پاکستان کی جی ڈی پی کے تقریباً 80 فیصد کی نمائندگی کرتے ہیں۔