data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

بیجنگ:مہنگی پروازوں سے تنگ ایک چینی شخص نے ایسا انوکھا فیصلہ کیا کہ سوشل میڈیا اور پولیس دونوں کو حیرت میں ڈال دیا۔

اپنے آبائی علاقے تک جانے کے لیے ہوائی جہاز کا ٹکٹ خریدنے کے بجائے اس شخص نے ایک ایسا راستہ چنا جس نے اسے جیل کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔ 8 گاڑیاں چوری کرنا، 7 شہروں سے گزرنا اور پولیس سے بچنے کے نت نئے حربے اپنانا ، یہ سب کچھ اس نے صرف فلائٹ کے پیسے بچانے کے لیے کیا۔

یہ غیرمعمولی واقعہ چین کے صوبہ لیاؤننگ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص ’’چِن‘‘کے ساتھ پیش آیا، جس کا اصل مقصد صرف گھر پہنچنا تھا،مگر اس نے جس طریقے کا انتخاب کیا، وہ نہ صرف مجرمانہ تھا بلکہ خطرناک بھی۔

یہ شخص وسطی چین کے صوبہ ہونان میں تھا، جہاں سے اسے اپنے گھر واپس جانا تھا۔ اس نے 31 مئی کو 1500 یوآن میں ایک فضائی ٹکٹ خریدا، مگر بعد میں اسے یہ رقم بہت زیادہ محسوس ہوئی۔ چِن، جو ماضی میں گاڑیوں کی چوری جیسے جرائم میں ملوث رہ چکا تھا، نے اپنی پرانی عادت کو دوبارہ اپناتے ہوئے فلائٹ منسوخ کرائی اور سفر کا نیا منصوبہ تیار کر لیا۔

رات کی تاریکی میں اس نے پہلی گاڑی چرائی اور سفر کا آغاز کیا۔ جب بھی کسی گاڑی کا ایندھن ختم ہوتا، وہ گاڑی کو سڑک کنارے چھوڑ کر نئی گاڑی کی تلاش میں نکل جاتا۔ یوں وہ ایک کے بعد ایک گاڑی چراتا رہا، حتیٰ کہ 7 شہروں سے گزرتے ہوئے مجموعی طور پر 8 گاڑیاں اس کے ہاتھ لگیں۔ چِن صرف گاڑیاں نہیں چراتا تھا، بلکہ ان میں موجود قیمتی اشیا بھی اٹھا لیتا، جنہیں فروخت کر کے کھانے پینے، سڑک ٹولز اور دیگر اخراجات پورے کرتا۔

چن کی مجرمانہ کہانی اُس وقت پولیس کے علم میں آئی جب اس نے ووہان سے ڈیڑھ لاکھ یوآن مالیت کی ایک گاڑی چرا لی۔ شوروم انتظامیہ نے فوری طور پر گاڑی کے لاپتا ہونے کی اطلاع پولیس کو دی، جس نے گاڑی کو ٹریک کرنا شروع کیا۔ لوکیشن ڈیٹا سے پتا چلا کہ چوری شدہ گاڑی شمال کی طرف بڑھ رہی ہے۔

ابھی چِن کی یہ مہم جاری ہی تھی کہ صوبہ ہیبے میں اس نے ایک اور گاڑی چرانے کی کوشش کی۔ اس بار مالک کی مزاحمت نے اُسے زخمی بھی کر دیا، تاہم وہ فرار ہو گیا، لیکن قانون کے ہاتھ بہت لمبے ہوتے ہیں۔ اگلے ہی روز پولیس نے ایک سڑک کنارے کھڑی گاڑی میں سوتے ہوئے اس شخص کو گرفتار کر لیا۔ یوں یہ حیرت انگیز اور مجرمانہ سفر اپنے انجام کو پہنچا۔

پولیس کے مطابق چِن نے جن 8 گاڑیوں کو چرایا، ان کی مجموعی مالیت 10 لاکھ یوآن سے زائد تھی۔ خوش قسمتی سے پولیس نے تمام گاڑیاں بھی حاصل کرلی ہیں، تاہم چِن کو اب عدالت اور سزاؤں کے کٹھن مرحلے کا سامنا کرے گا۔

اس حیرت میں ڈالنے والے واقعے نے چینی عوام اور سوشل میڈیا صارفین کو بھی گھما کر رکھ دیا ہے۔ کچھ لوگوں نے اسے ایک احمقانہ حرکت مظاہرہ قرار دیا، تو کچھ نے اس پر طنزیہ تبصرے کیے کہ اتنے پیسے بچا بھی لیے تو کس قیمت پر؟

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان

پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔

’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘  کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔

فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔

کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔

گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔

رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہوسکا، شہری رُل گئے
  • شانگلہ:چھت منہدم‘6بچے‘گاڑی کھائی میں جا گرنے پر 6مسافر گلگت میں جاںبحق
  • روس کے کیف سمیت مختلف یوکرینی شہروں پر شدید حملے، 18 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی
  • گلشن اقبال میں تیز رفتار ڈمپر الٹ گیا، شہری معجزانہ طور پر محفوظ، مشتعل افراد کا کلینر پر تشدد
  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • 5 جون تک پنجاب کے متعدد اضلاع میں آندھی، شدید ژالہ باری کا امکان، الرٹ جاری
  • روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر بڑی چوری، لاکھوں روپے مالیت کے زیورات غائب
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟