عوام کے لیے بُری خبر: بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 7 روپے 41 پیسے کا ریلیف ختم
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی جانب سے بجلی کے نرخوں میں دی گئی ریلیف مدت ختم ہونے کے بعد آج سے صارفین کو پھر گزشتہ سال کی گرمیوں والی قیمتوں پر بل ادا کرنا ہوگا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اپریل 2023 میں وزیراعظم نے بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 7 روپے 41 پیسے کی عارضی کمی کا اعلان کیا تھا، جسے عوام نے ایک بڑے ریلیف کے طور پر سراہا تھا۔ تاہم اب یہ سہولت ختم ہوگئی ہے اور میٹر دوبارہ پرانی قیمتوں کے مطابق چلیں گے۔
شہریوں نے حکومتی رویے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کمی کو مستقل کمی کا تاثر دیا گیا تھا، لیکن حقیقت میں یہ صرف ایک وقتی ایڈجسٹمنٹ تھی۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ بجلی کے نرخوں میں طویل مدتی اور مستقل بنیادوں پر کمی کی جائے۔
ادھر وفاقی وزیر برائے توانائی اویس لغاری کا کہنا ہے کہ حکومت نے صارفین کو مستقل ریلیف دیا ہے اور صرف فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز میں تبدیلی آتی ہے، بنیادی ٹیرف میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔
تاہم نیپرا کی جانب سے ہونے والی ایک حالیہ عوامی سماعت کے دوران صارفین نے سوال اٹھایا کہ آیا 7 روپے 41 پیسے کا ریلیف مستقل ہے یا ختم ہوچکا ہے؟ اس پر سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کے حکام نے واضح جواب دینے سے گریز کیا، جس پر ممبر نیپرا سندھ رفیق احمد شیخ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صارفین کے سوالات کا صاف اور سیدھا جواب دیا جائے۔
نیپرا حکام نے سی پی پی اے کے مبہم مؤقف پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے معاملے کی مزید وضاحت کا مطالبہ کیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بجلی مہنگی بری خبر عارضی ریلیف ختم نیپرا وزیراعظم پاکستان وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بجلی مہنگی عارضی ریلیف ختم نیپرا وزیراعظم پاکستان وی نیوز
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔