یوم عاشور پر مقبوضہ کشمیر میں پابندیاں بھارتی قیادت کی اسلام دشمنی کا ثبوت ہے: خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 8th, July 2025 GMT
سیالکوٹ(نامہ نگار +آئی این پی )وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ آج غزہ کے اندر بھی ایک کربلا بنا ہوا ہے اور عالم اسلام بندستور خاموش ہے،کوئی تو سدباب کرے،یوم عاشور پر مقبوضہ کشمیر میں پابندیاں بھارتی قیادت کی اسلام دشمنی کا ثبوت ہے، آج سے 2 ماہ قبل جو ان کے ساتھ ہوا مودی کے چمچے چاٹے ذلیل خوار ہوئے اور ان کا تکبر اور سندور اجڑا۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے سیالکوٹ میں عاشور کے جلوس میں شرکت کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ کربلا بہت بڑا سبق ہے کہ دین کی آن اور شان پر آل رسول قربان ہو گئی، کربلا کے میدان میں آل رسول کو تنہا چھوڑ دیا گیا۔ جب باطل اور حق و سچ کی قوتیں آمنے سامنے ہوئیں،حضرت امام حسینؓ نے اسلام کی حفاظت کیلئے اپنے خاندان کی قربانی دی۔انہوں نے کہا کہ آج بھی کربلا کی طرح عالم اسلام خاموش ہے، غزہ میں 70 ہزار مسلمان مرد اور بچے شہید ہو چکے ہیں، آج بھی 58 اسلامی ممالک میں کوئی احتجاج نہیں ہو رہا، غزہ کے مسلمانوں پر جو کربلا ٹوٹی ہے، اس کا کوئی تو سدباب کرے، حکمران طبقہ روزانہ ٹی وی پر منظر دیکھتا ہے، مسلمان خصوصا حکمران طبقہ اپنی ذمہ داری محسوس کرے۔ آج بھی اللہ اور رسول کے نام لیوا مسلمانوں کا یزیدیت کے ہاتھوں خون بہہ رہا ہے، آج سے چودہ سو سال قبل کربلا برپا کی گئی اور اس وقت بھی عالم اسلام خاموش تھا، آج بھی غزہ میں کربلا برپا ہے اور عالم اسلام خاموش ہے۔ان کا کہنا تھا کہ عالم اسلام کا حکمران طبقہ روانہ ٹی وی پر منظر دیکھتا ہے، آج بھی 1400 سال بعد امام حسین کی قربانی کی مثال قائم ہے، میں سمجھتا ہوں کہ اس سے بہتر مثال کربلا کی کہیں نہیں ملتی جو فلسطین عزہ کے لوگ اس یاد کو دہرا رہے ہیں۔ غزہ کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے دنیا بھر میں لاکھوں لوگ نکلے لیکن اس قسم کا مظاہرہ کسی بھی اسلامی ملک میں نظر نہیں آیا، پاکستان میں بھی نہیں۔یوم عاشور پر ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ تب کیا ہوا تھا اور آج کیا ہورہا ہے۔خواجہ محمد آصف نے کہا کہ اسلام کا دفاع اغیار کر رہے ہیں، مسلمان نہیں کر رہے، پاکستان سمیت دیگر مسلم ممالک سے چند آوازیں اٹھتی ہیں لیکن ڈیڑھ ارب مسلمان مصلحت کا شکار ہیں، فلسطینی بچے بوڑھے بھوک کی خاطر لائنوں میں کھڑے ہوتے ہیں اور ان پر فائرنگ کی جاتی ہے۔۔وزیر دفاع نے کہا کہ فلسطینی بچے بوڑھے بھوک کی خاطر لائنوں میں کھڑے ہوتے ہیں اور ان پر فائرنگ کی جاتی ہے، یوم عاشور کے حوالے سے اپیل کرتا ہوں کہ جذبے کو مدھم نہ ہونے دیں۔وزیر دفاع کا مزید کہنا تھا کہ غزہ کے لوگ قیامت کے دن سوال کریں گے کہ انہوں نے نواسہ رسول کی سنت پر عمل کیا لیکن امت نے ساتھ نہ دیا، یوم عاشور پر مقبوضہ کشمیر میں پابندیاں لگائی گئی ہیں، یہ بھارتی لیڈر شپ کی اسلام دشمنی کا ثبوت ہے۔ آج سے 2 ماہ قبل جو ان کے ساتھ ہوا مودی کے چمچے چاٹے ذلیل خوار ہوئے اور ان کا تکبر اور سندور اجڑا۔ وزیر دفاع نے کہا کہ انشاللہ تعالیٰ ان چیزوں کو ابدیت نہیں ہے، ابدیت صرف اللہ اور اسکے رسول کے دین کی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
ممبئی: سلمان خان بیان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے بھارت میں طلباء کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر تعلیمی نظام کے لیے نوجوانوں کی آواز سنی جانی چاہیے اور اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے۔
سلمان خان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدا میں یہ ایک پرامن تحریک تھی، تاہم بعد میں اس کا پرتشدد رخ اختیار کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران متاثر ہونے والے طلباء اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔
اداکار نے کہا کہ پیپر لیک جیسے معاملات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور انہیں فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ خوش آئند بات ہے کہ طلباء بہتر تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے متحد ہوئے، جبکہ والدین نے بھی ان کی جدوجہد میں بھرپور ساتھ دیا۔
سلمان خان بیان میں مزید کہا گیا کہ طلباء نے اپنے عزم، محنت اور خلوص سے ثابت کیا ہے کہ وہ تعلیم حاصل کر کے ملک کے روشن مستقبل میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے جذبے، ہمت اور تعلیم سے وابستگی کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی نسل مستقبل میں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔
بالی ووڈ اسٹار نے زور دیا کہ طلباء کے مطالبات کو سیاسی تنازع نہ بنایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست تعلیمی نظام اور طلباء کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بھی اس معاملے کا مثبت حل نکالے گی اور تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔
سلمان خان نے اپنے پیغام کے اختتام پر دعا کی کہ علم حاصل کرنے والے تمام طلباء اپنی منزل حاصل کریں اور ملک میں ایسا تعلیمی ماحول قائم ہو جہاں میرٹ، شفافیت اور انصاف کو اولین ترجیح دی جائے۔