سیالکوٹ(نامہ نگار +آئی این پی )وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ  آج غزہ کے اندر بھی ایک کربلا بنا ہوا ہے اور عالم اسلام بندستور خاموش ہے،کوئی تو سدباب کرے،یوم عاشور پر مقبوضہ کشمیر میں پابندیاں بھارتی قیادت کی اسلام دشمنی کا ثبوت ہے، آج سے 2 ماہ قبل جو ان کے ساتھ ہوا مودی کے چمچے چاٹے ذلیل خوار ہوئے اور ان کا تکبر اور سندور اجڑا۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے سیالکوٹ میں عاشور کے جلوس میں شرکت کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے  کیا ۔ وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ کربلا بہت بڑا سبق ہے کہ دین کی آن اور شان پر آل رسول قربان ہو گئی، کربلا کے میدان میں آل رسول کو تنہا چھوڑ دیا گیا۔  جب باطل اور حق و سچ کی قوتیں آمنے سامنے ہوئیں،حضرت  امام حسینؓ نے اسلام کی حفاظت کیلئے اپنے خاندان کی قربانی دی۔انہوں نے کہا کہ آج بھی کربلا کی طرح عالم اسلام خاموش ہے، غزہ میں 70 ہزار مسلمان مرد اور بچے شہید ہو چکے ہیں، آج بھی 58 اسلامی ممالک میں کوئی احتجاج نہیں ہو رہا، غزہ کے مسلمانوں پر جو کربلا ٹوٹی ہے، اس کا کوئی تو سدباب کرے، حکمران طبقہ روزانہ ٹی وی پر منظر دیکھتا ہے، مسلمان خصوصا حکمران طبقہ اپنی ذمہ داری محسوس کرے۔  آج بھی اللہ اور رسول کے نام لیوا مسلمانوں کا یزیدیت کے ہاتھوں خون بہہ رہا ہے، آج سے چودہ سو سال قبل کربلا برپا کی گئی اور اس وقت بھی عالم اسلام خاموش تھا، آج بھی غزہ میں کربلا برپا ہے اور عالم اسلام خاموش ہے۔ان کا کہنا تھا کہ عالم اسلام کا حکمران طبقہ روانہ ٹی وی پر منظر دیکھتا ہے، آج بھی 1400 سال بعد امام حسین کی قربانی کی مثال قائم ہے، میں سمجھتا ہوں کہ اس سے بہتر مثال کربلا کی کہیں نہیں ملتی جو فلسطین عزہ کے لوگ اس یاد کو دہرا رہے ہیں۔   غزہ کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے دنیا بھر میں لاکھوں لوگ نکلے لیکن اس قسم کا مظاہرہ کسی بھی اسلامی ملک میں نظر نہیں آیا، پاکستان میں بھی نہیں۔یوم عاشور پر ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ تب کیا ہوا تھا اور آج کیا ہورہا ہے۔خواجہ محمد آصف نے کہا کہ اسلام کا دفاع اغیار کر رہے ہیں، مسلمان نہیں کر رہے، پاکستان سمیت دیگر مسلم ممالک سے چند آوازیں اٹھتی ہیں لیکن ڈیڑھ ارب مسلمان مصلحت کا شکار ہیں، فلسطینی بچے بوڑھے بھوک کی خاطر لائنوں میں کھڑے ہوتے ہیں اور ان پر فائرنگ کی جاتی ہے۔۔وزیر دفاع نے کہا کہ فلسطینی بچے بوڑھے بھوک کی خاطر لائنوں میں کھڑے ہوتے ہیں اور ان پر فائرنگ کی جاتی ہے، یوم عاشور کے حوالے سے اپیل کرتا ہوں کہ جذبے کو مدھم نہ ہونے دیں۔وزیر دفاع کا مزید کہنا تھا کہ غزہ کے لوگ قیامت کے دن سوال کریں گے کہ انہوں نے نواسہ رسول کی سنت پر عمل کیا لیکن امت نے ساتھ نہ دیا، یوم عاشور پر مقبوضہ کشمیر میں پابندیاں لگائی گئی ہیں، یہ بھارتی  لیڈر شپ کی اسلام دشمنی کا ثبوت ہے۔   آج سے 2 ماہ قبل جو ان کے ساتھ ہوا مودی کے چمچے چاٹے ذلیل خوار ہوئے اور ان کا تکبر اور سندور اجڑا۔ وزیر  دفاع نے کہا کہ انشاللہ تعالیٰ ان چیزوں کو ابدیت نہیں ہے، ابدیت صرف اللہ اور اسکے رسول کے دین کی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔

جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔

انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔

یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت