ریو ڈی جنیرو(انٹرنیشنل ڈیسک) برکس ممالک نے ایران پر حالیہ حملوں کو بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے، تاہم اعلامیے میں امریکا یا اسرائیل کا نام براہ راست نہیں لیا گیا۔ برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو میں برکس تنظیم کا سترواں اجلاس منعقد ہوا، جس میں برازیل، روس، بھارت، چین، جنوبی افریقا سمیت دس ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔

اجلاس کے اختتام پر جاری کردہ مشترکہ اعلامیے میں واضح طور پر کہا گیا کہ 13 جون کے بعد ایران پر کیے گئے حملے عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی تھے، جو خطے میں امن و استحکام کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ تاہم بیان میں امریکا یا اسرائیل کا ذکر دانستہ طور پر شامل نہیں کیا گیا، جسے بعض مبصرین سفارتی احتیاط سے تعبیر کر رہے ہیں۔

برکس ممالک نے غزہ کی موجودہ صورتحال پر بھی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ غزہ میں فوری، مکمل اور غیر مشروط جنگ بندی کی جائے، اور اسرائیلی افواج کو فوری طور پر غزہ کی پٹی سے واپس بلایا جائے۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ فلسطینی عوام کو انسانی امداد تک مکمل رسائی دی جائے اور ان کے بنیادی حقوق کا احترام کیا جائے۔

اجلاس میں عالمی تجارتی ماحول پر بھی گفتگو ہوئی اور تجارتی ٹیکسوں میں حالیہ اضافے کو عالمی معیشت اور آزاد تجارتی نظام کے لیے خطرناک رجحان قرار دیا گیا۔ برکس کے رہنماؤں نے اس امر پر زور دیا کہ ترقی پذیر ممالک کو عالمی سطح پر تجارتی انصاف اور برابری کی بنیاد پر مواقع فراہم کیے جائیں۔

Post Views: 5.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے

واشنگٹن:

مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔

یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔

ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی، عالمی منڈی میں تشویش کی لہر
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی