data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی: سندھ میں محنت کش طبقے کے لیے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے تحت کم از کم ماہانہ اجرت کو نمایاں طور پر بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے۔

مجوزہ فیصلے کے مطابق صوبے بھر کے مزدوروں کو اب 40 ہزار روپے یا اس سے زائد تنخواہ دیے جانے کا امکان ہے۔ اس ضمن میں سندھ کم از کم اجرت بورڈ کے سیکریٹری کی جانب سے ایک سرکاری گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے، جس میں مختلف مہارت کے حامل محنت کشوں کے لیے نئی اجرتوں کا تعین کیا گیا ہے۔

مجوزہ اعداد و شمار کے مطابق نیم ہنر مند افراد کے لیے ماہانہ 41,280 روپے، ہنر مند مزدوروں کے لیے 48,910 روپے جبکہ اعلیٰ مہارت رکھنے والے محنت کشوں کے لیے 50,868 روپے کی کم از کم ماہانہ اجرت تجویز کی گئی ہے۔

یہ اقدام سندھ منیمم ویجز ایکٹ 2015ء کے تحت عمل میں لایا جا رہا ہے، جس کا مقصد مزدوروں کے معاشی حقوق کا تحفظ اور ان کی زندگی کے معیار میں بہتری لانا ہے۔ اس فیصلے پر عوامی اور صنعتی رائے لینے کے لیے 14 دن کا وقت دیا گیا ہے، جس کے دوران شہری، ادارے اور متعلقہ فریق اپنی تجاویز یا اعتراضات بورڈ کو جمع کرا سکتے ہیں۔

سیکریٹری اجرت بورڈ رفیق قریشی کے مطابق یہ نئی اجرتیں یکم جولائی 2025ء سے نافذ العمل ہوں گی۔ ان کا کہنا ہے کہ مجوزہ اضافہ 8.

1 فیصد ہے، جسے موجودہ معاشی حالات اور مہنگائی کے تناظر میں ایک مثبت اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ روزانہ کی اجرت کو بھی باقاعدہ بنیادوں پر طے کرتے ہوئے فی گھنٹہ کم از کم اجرت 192 روپے مقرر کی گئی ہے، تاکہ ڈیلی ویجز ملازمین کو بھی تحفظ حاصل ہو۔

اس حوالے سے ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ ان اجرتوں کا اطلاق صرف رجسٹرڈ نہیں بلکہ تمام اداروں پر، خواہ وہ رجسٹرڈ ہوں یا غیر رجسٹرڈ، لازمی طور پر ہوگا۔ یہ فیصلہ مزدوروں کو استحصال سے بچانے اور ایک منصفانہ محنتانہ نظام کے قیام کی جانب ایک قدم سمجھا جا رہا ہے۔

وزیرِ محنت شاہد تھہیم نے مجوزہ اجرتوں کے اعلان کے موقع پر کہا کہ خواتین محنت کشوں کو مردوں کے برابر تنخواہ دی جائے گی اور اس پر عمل نہ کرنے والے اداروں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ایک مزدور دوست پالیسی پر عمل پیرا ہے اور محنت کشوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا۔

شاہد تھہیم کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ مزدور کی محنت کا ہر قطرہ وقار اور عزت کے ساتھ منایا جائے۔ ہم ان کا پسینہ ضائع نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کی ترجیحات میں محنت کش طبقے کی بہتری سر فہرست ہے اور یہ تجاویز اسی سلسلے کی ایک کڑی ہیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے لیے

پڑھیں:

پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ

 ملک بھر میں فی تولہ سونےکی قیمت میں 4600 روپے کا اضافہ ہوا ہے۔آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق ایک تولہ سونا 4600 روپے اضافے کے بعد اب 4 لاکھ 76 ہزار 362 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔اس کے علاوہ10گرام سونے کی قیمت3944 روپےبڑھ کر 4 لاکھ8 ہزار 403 روپے ہوگئی ہے۔عالمی بازار میں سونے کی قیمت 46 ڈالر اضافے سے 4540 ڈالر فی اونس ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود