مردوں کی زلف تراشی کی قیمتوں میں عالمی فرق، پاکستان سستے ترین ممالک میں شامل
اشاعت کی تاریخ: 6th, July 2025 GMT
ورلڈ آف اسٹیٹسٹکس کی جانب سے جاری کردہ تازہ عالمی رپورٹ میں مردوں کی زلف تراشی کی اوسط قیمتوں کا تقابلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ اس رپورٹ سے واضح ہوتا ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک میں مردانہ حجامت کے نرخوں میں حیرت انگیز فرق پایا جاتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں زلف تراشی ایک مہنگی سہولت سمجھی جاتی ہے، جبکہ ترقی پذیر ممالک میں یہ نسبتاً سستے داموں دستیاب ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق ناروے اس فہرست میں سرفہرست ہے جہاں مردوں کی زلف تراشی کی اوسط قیمت 64.
دوسری جانب پاکستان دنیا کے اُن ممالک میں شامل ہے جہاں زلف تراشی نہایت کم خرچ میں انجام پاتی ہے۔ پاکستان میں اس خدمت کی اوسط قیمت صرف 4.44 ڈالر ہے۔ بھارت میں یہ قیمت 5.29 ڈالر، الجزائر میں 5.96 ڈالر، اور نائجیریا میں سب سے کم یعنی 1.83 ڈالر ریکارڈ کی گئی ہے۔
یہ اعداد و شمار نہ صرف عالمی معیشت میں موجود فرق کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ ہر ملک میں زندگی کے اخراجات، اجرتوں اور سہولیات تک رسائی کے معیار کو بھی واضح کرتے ہیں۔ زلف تراشی جیسی روزمرہ خدمت کے نرخوں میں اتنا نمایاں فرق اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا کے مختلف خطوں میں معیارِ زندگی کس قدر مختلف ہو سکتا ہے۔
اشتہار
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: ممالک میں زلف تراشی
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران پر امریکی جارحیت کے بعد عالمی توانائی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ برطانوی خام تیل 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات کا مربن خام تیل 108 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہونے لگا ہے، جو عالمی منڈی میں توانائی کی بڑھتی ہوئی بے یقینی کی عکاسی کرتا ہے۔ادھر قدرتی گیس کی قیمت بھی بڑھ کر 2.95 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو (MMBtu) ہو گئی ہے، جس سے عالمی توانائی مارکیٹ میں کشیدگی کے اثرات مزید نمایاں ہو رہے ہیں۔