پاکستان اور پولینڈ کا باہمی تعلقات کو مزید فروغ دینے پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 6th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
وارسا (آن لائن) پاکستان اور پولینڈ کے درمیان نویں دوطرفہ سیاسی مشاورت وارسا میں منعقد ہوئی، جس میں دونوں ممالک نے مختلف شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے اور باہمی تعلقات کو مزید مضبوط
بنانے پر اتفاق کیا۔ دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق پاکستانی وفد کی قیادت ایڈیشنل سیکریٹری برائے یورپ محمد ایوب نے کی، جبکہ پولش وفد کی سربراہی سیکریٹری آف اسٹیٹ ولاڈسلاو بارتوشیوسکی نے کی۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے سفیروں نے بھی مشاورت میں شرکت کی۔ مشاورت میں دوطرفہ تعلقات، تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، دفاع، تعلیم اور دیگر شعبہ جات میں تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں فریقین نے اعلیٰ سطحی دوروں، پارلیمانی روابط اور باہمی مکالمے کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔ علاوہ ازیں جنوبی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور یورپ کی بدلتی ہوئی صورت حال پر بھی سیر حاصل گفتگو کی گئی، اور اہم علاقائی و عالمی امور پر دونوں وفود میں نمایاں ہم آہنگی پائی گئی۔ فریقین نے اقوام متحدہ اور دیگر عالمی فورمز پر باہمی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔ دفتر خارجہ کے مطابق دوطرفہ سیاسی مشاورت کا اگلا دور 2026 میں اسلام آباد میں منعقد ہو گا، جو دونوں ممالک کے درمیان مستقل سفارتی روابط کے تسلسل کا مظہر ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم
احمد جواد، چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم۔پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے چیف آرگنائز احمد جواد نے کہا کہ انتخابات کے بعد حکومت کا تیسرا بجٹ ہے، اس بجٹ میں حکومت معاشی سمت واضح کرے۔
احمد جواد نے مزید کہا کہ اس وقت ریجن میں ہماری کاروباری لاگت 34 فیصد سے زیادہ ہے، توقع ہے آنے والا بجٹ گروتھ کی طرف ہوگا، موجودہ ٹیکسز میں کمی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں۔
احمد جواد نے کہا کہ کاروبار بند ہونے سے بزنس کمیونٹی کو بچا لیا جائے۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس بلوں کے یونٹ کو مسابقتی ریٹ پر لایا جائے تاکہ بلز برداشت ہوسکیں۔