data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

وارسا (آن لائن) پاکستان اور پولینڈ کے درمیان نویں دوطرفہ سیاسی مشاورت وارسا میں منعقد ہوئی، جس میں دونوں ممالک نے مختلف شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے اور باہمی تعلقات کو مزید مضبوط
بنانے پر اتفاق کیا۔ دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق پاکستانی وفد کی قیادت ایڈیشنل سیکریٹری برائے یورپ محمد ایوب نے کی، جبکہ پولش وفد کی سربراہی سیکریٹری آف اسٹیٹ ولاڈسلاو بارتوشیوسکی نے کی۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے سفیروں نے بھی مشاورت میں شرکت کی۔ مشاورت میں دوطرفہ تعلقات، تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، دفاع، تعلیم اور دیگر شعبہ جات میں تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں فریقین نے اعلیٰ سطحی دوروں، پارلیمانی روابط اور باہمی مکالمے کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔ علاوہ ازیں جنوبی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور یورپ کی بدلتی ہوئی صورت حال پر بھی سیر حاصل گفتگو کی گئی، اور اہم علاقائی و عالمی امور پر دونوں وفود میں نمایاں ہم آہنگی پائی گئی۔ فریقین نے اقوام متحدہ اور دیگر عالمی فورمز پر باہمی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔ دفتر خارجہ کے مطابق دوطرفہ سیاسی مشاورت کا اگلا دور 2026 میں اسلام آباد میں منعقد ہو گا، جو دونوں ممالک کے درمیان مستقل سفارتی روابط کے تسلسل کا مظہر ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت

نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔

7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔

نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاری

ترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔

شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔

متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔

ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان 
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار