اسرائیلی فوج کی بمباری سے 24 گھنٹوں میں 116 فلسطینی شہید
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
اسرائیلی فوج کی تازہ بمباری کے نتیجے میں 24 گھنٹوں کے دوران کم از کم 116 فلسطینی شہید ہوگئے۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق، یہ حملے اسپتالوں، اسکولوں اور خوراک تقسیم کرنے والے مراکز کو نشانہ بنا کر کیے گئے۔
اسرائیلی اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ فوج کو باقاعدہ احکامات دیے گئے ہیں کہ خوراک کے انتظار میں کھڑے لوگوں پر بھی گولیاں چلائی جائیں۔
دوسری جانب فلسطینی مزاحمتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ انہوں نے غزہ کے شہر خان یونس میں ایک اسرائیلی فوجی گاڑی اور اہلکاروں کو نشانہ بنایا ہے۔
مزید برآں، اسرائیلی فوج نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ یمن سے اسرائیل کی جانب میزائل داغے گئے ہیں، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
غزہ میں جاری جنگ کے دوران شہری علاقوں کو نشانہ بنانا انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے شدید تنقید کا باعث بن رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسرائیلی فوج
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔