اسرائیلی فوج کی بمباری سے 24 گھنٹوں میں 116 فلسطینی شہید
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
اسرائیلی فوج کی تازہ بمباری کے نتیجے میں 24 گھنٹوں کے دوران کم از کم 116 فلسطینی شہید ہوگئے۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق، یہ حملے اسپتالوں، اسکولوں اور خوراک تقسیم کرنے والے مراکز کو نشانہ بنا کر کیے گئے۔
اسرائیلی اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ فوج کو باقاعدہ احکامات دیے گئے ہیں کہ خوراک کے انتظار میں کھڑے لوگوں پر بھی گولیاں چلائی جائیں۔
دوسری جانب فلسطینی مزاحمتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ انہوں نے غزہ کے شہر خان یونس میں ایک اسرائیلی فوجی گاڑی اور اہلکاروں کو نشانہ بنایا ہے۔
مزید برآں، اسرائیلی فوج نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ یمن سے اسرائیل کی جانب میزائل داغے گئے ہیں، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
غزہ میں جاری جنگ کے دوران شہری علاقوں کو نشانہ بنانا انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے شدید تنقید کا باعث بن رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسرائیلی فوج
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔