Jasarat News:
2026-06-03@03:54:07 GMT

مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کروگے؟

اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

غزہ میں اسرائیل کی بدترین دہشت گردی جاری ہے، پناہ گاہوں اور امدادی قافلوں پر بمباری کے نتیجے میں روزانہ ستر، اسی افراد شہید ہورہے ہیں۔ گزشتہ روز بھی اسرائیلی بمباری سے 68 فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہوگئے۔ عرب میڈیا کے مطابق خان یونس میں امداد کے منتظر فلسطینیوں پر بھی فضائی حملے کیے گئے، اسرائیل کی جانب سے شمالی غزہ کے علاقے جبالیہ میں ایک پناہ گزین اسکول پر بمباری کی گئی، دیر البلاح میں الاقصیٰ شہدا اسپتال پر حملے میں درجنوں فلسطینی زخمی ہو گئے۔ دوسری جانب بچوں میں گردن توڑ بخار کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 35 ہوگئی ہے، نومولود بچے دودھ کے لیے بلبلا رہے ہیں، شیر خوار بچوں کی جان بچانے کے لیے انہیں دودھ کے بجائے دال کا شوربہ پلایا جارہا ہے، ایندھن کی بندش سے متعدد اسپتالوں میں ڈائیلائسز کی سہولت ختم ہوگئی، غذائی قلت کی وجہ سے اب تک 70 بچے شہید ہوچکے ہیں، غذائی قلت انسانی بحران کی شکل اختیار کر رہی ہے، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق غذائی قلت سے شہید ہونے والے زیادہ تر پانچ سال سے کم عمر کے بچے ہیں، اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسف نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر فوری امداد نہ پہنچائی گئی تو آئندہ مہینوں میں 71 ہزار سے زائد بچوں کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہو سکتا ہے، قوامِ متحدہ کی رپورٹس میں یہ بھی بتایاگیا ہے کہ غزہ کی تقریباً 50 فی صد آبادی قحط زدہ حالات میں زندہ رہنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یونیسف، ڈبلیو ایچ او اور ورلڈ فوڈ پروگرام نے عالمی برادری کو خبردار کیا ہے کہ اگر انسانی امداد کے راستے فوری طور پر نہ کھولے گئے تو یہ صورتحال نہ صرف مزید جانیں لے سکتی ہے بلکہ پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کر سکتی ہے۔ اس وقت غزہ کے اسپتال غذائی قلت سے متاثرہ بچوں سے بھرے ہوئے ہیں، جبکہ سرحد پر کھڑی امدادی گاڑیاں اسرائیل کی فوجی رکاوٹوں کے باعث اندر داخل نہیں ہو پا رہیں۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق غزہ کا یہ بحران اب صرف انسانی ہمدردی کا معاملہ نہیں، بلکہ عالمی ضمیر کا امتحان بن چکا ہے۔ المناک صورتحال یہ ہے کہ غزہ میں انسانی المیہ رونما ہورہا ہے اور پوری دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ اسرائیلی فوج نے ایران سے جنگ بندی کے بعد غزہ میں بڑے آپریشن کی تیاری شروع کر دی، صہیونی فوج نے شمالی غزہ کے گنجان آباد علاقوں کو فوری خالی کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ اسرائیلی فوج نے شمالی غزہ میں آپریشن مکمل کرنے کے بعد وسطی علاقوں تک پھیلانے کا بھی عندیہ دیا ہے۔ اسرائیلی اخبار ’’ہارٹز‘‘ نے وائٹ ہائوس کے سینئر حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیم کے اعلیٰ حکام رون دیرمر پر زور دیں گے کہ وہ غزہ پر حملے ختم کرنے اور باقی اسرائیلی قیدیوں کی واپسی کے لیے معاہدے پر آمادہ ہوں۔ دوسری جانب مصر کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ان کا ملک غزہ کے لیے ایک نئے معاہدے پر کام کر رہا ہے، جس میں 60 روزہ جنگ بندی کے بدلے کچھ اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی اور محصور علاقے میں انسانی امداد کی فوری فراہمی شامل ہے۔ مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے مقامی ٹی وی چینل ’آن ٹی وی‘ کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ’ہم ایک پائیدار حل اور مستقل جنگ بندی کی طرف بڑھنے کے لیے کام کر رہے ہیں، دریں اثناء جنگ بندی کے حوالے سے حماس نے ایک جامع منصوبہ پیش کیا ہے، حماس کے سینئر رہنما اسامہ حمدان کا کہنا ہے کہ حماس نے ایک جامع منصوبہ پیش کیا ہے، جس کا مقصد غزہ پر جاری حملے رکوانا، سرحدی راستے کھولنا اور علاقے میں تعمیر ِ نو کا آغاز کرنا ہے۔ تاہم، ان کے مطابق اسرائیل کی ہٹ دھرمی اس معاہدے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ اسامہ حمدان نے انکشاف کیا کہ نیتن یاہو نے چار ہفتے قبل ایک امن فارمولہ مسترد کر دیا، جو ثالثوں کی جانب سے پیش کیا گیا تھا۔ اس فارمولے میں 60 دن کے لیے جنگ بندی اور اس کے بعد مستقل سیز فائر اور انسانی امداد کی بحالی کا منصوبہ شامل تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ غزہ کا قیامت خیز منظر، عالمی برادری اور عالمی اداروں کے دامن پر ایک بد نماداغ ہے، انسانیت اور انسانی حقوق کے دعوؤں کی حقیقت کھل کر سامنے آگئی ہے، پوری دنیا کے احتجاج، جنگ بندی کے مطالبوں اور عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کے باوجود اسرائیلی جارحیت کے سد ِ باب کے لیے اگر اقدامات نہیں کیے جاتے تو اس کا صاف مطلب اس کے سوا کچھ نہیں کہ اس نسل کشی میں یہ سب برابر کے شریک ہیں، ایسے دوہرے معیارات کے ساتھ دنیا میں امن کے قیام کو خواب کبھی اور کسی طور شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا، مغرب کی اسی روش کے نتیجے میں جب رد عمل پیدا ہوتا ہے تو اس کو دہشت گردی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جنگ بندی کے اسرائیل کی غذائی قلت کے مطابق کے لیے کیا ہے غزہ کے

پڑھیں:

لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش

کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔

جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا  ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔

حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان