وزیراعظم کی نادہندگان سمیت تمام صنعتوں کی پیداوار ڈیجیٹائز کرکے ٹیکس نیٹ میں لانے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
اسلام آباد:
وزیراعظم شہباز شریف نے نادہندگان سمیت تمام صنعتوں کی پیداوار ڈیجیٹائز کرکے انہیں ٹیکس نیٹ میں لانے کی ہدایات دی ہیں۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی ڈیجیٹائزیشن اور دیگر اصلاحات کے حوالے سے ہفتہ وار جائزہ اجلاس وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ہوا، جس میں وزیراعظم نے سال 2024-25 میں وفاقی ٹیکس محصولات میں گزشتہ 10 سالوں کی نسبت 42 فیصد اضافے پر وزارت خزانہ اور ایف بی آر کی کاوشوں کو سراہا۔
اس موقع پر دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ مالی سال 2024-2025 میں اصلاحات اور ٹیکس قوانین کے نفاذ کے ذریعے گزشتہ سال کی نسبت کل 865 ارب روپے کی زائد محصولات وصول کی گئیں جو کہ 8 گنا کا تاریخ ساز اضافہ ہے۔ مالی سال 2024-25 میں ٹیکس کا مجموعی پیداوار سے تناسب (Federal Revenue to GDP Ratio) 11.
وزیراعظم نے کہا کہ نئے مالی سال میں محصولات کی وصولی اور دیگر معاشی اہداف کو حاصل کرنے بھی اسی مستعدی کا مظاہرہ کیا جائے اور اس میں کسی قسم کی اداراجاتی سستی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں تمام ادارے مکمل جانفشانی سے کام کریں۔ پاکستان کے روشن معاشی مستقبل کے لیے معاشی اہداف کے حصول میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
شہباز شریف نے کہا کہ محصولات کی وصولی اور معاشی اہداف کے تمام مراحل کی ذاتی طور پر نگرانی کر رہا ہوں ۔ انہوں نے ایف بی آر کے افسران کو ہدایت کی کہ محصولات کی وصولی اور اپنے فرائض کی ادائیگی میں ایف بی آر عوام سے عزت و تکریم کے ساتھ پیش آئے۔ملکی معیشت کی ترقی کے لیے تمام سرکاری ادارے ایف بی آر کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ٹریک اینڈ ٹریس ڈیجیٹل پروڈکشن سسٹم، اشیا کے پیداواری اور ترسیل کے مراحل میں شامل کیا جائے تاکہ تمام پیداوار کو ٹیکس نیٹ میں لایا جا سکے۔ ٹیکس نادہندہ اور تمام صنعتوں کے پیداواری عمل کو ڈیجیٹائز کر کے ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔
شہباز شریف نے ریٹیل کے شعبے میں ایف بی آر کے پوئنٹ آف سیل (Point of sale - POS) سسٹم کا دائرہ کار مزید وسیع کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے آئندہ مالی سال کے بجٹ کی منظوری پر اجلاس کے شرکا کو مبارکباد بھی دی۔
اجلاس میں وزیراعظم کو ایف بی آر میں اصلاحات کے حوالے سے اقدامات کی پیشرفت پر بریفنگ دی گئی۔ وزیراعظم نے کہا کہ کاروباری برادری اور ٹیکس دہندگان کو مکمل سہولیات فراہم کرنے کے لیے ایف بی آر تمام دروازے کھلے رکھے۔
وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ٹریک اینڈ ٹریس ڈیجیٹل پروڈکشن سسٹم کو اب تک، چینی، تمباکو اور فرٹیلائزر میں مکمل طور پر نافذ کر دیا گیا ہے اور سیمنٹ اور دیگر صنعتوں میں جلد مکمل نافذ ہو جائے گا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر و اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور چیئرمین ایف بی آر اور دیگر اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ٹیکس نیٹ میں شہباز شریف ایف بی آر مالی سال اور دیگر
پڑھیں:
جبری مشقت کے خلاف ناکافی اقدامات: امریکا کی انڈیا سمیت 60 ملکوں پر نئے ٹیرف عائد کرنے کی تجویز
امریکا نے جبری مشقت سے تیار ہونے والی مصنوعات کی درآمد روکنے میں ناکامی کے الزام پر پاکستان سمیت 60 معیشتوں پر نئے درآمدی محصولات (ٹیرف) عائد کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ مجوزہ اقدام کے تحت پاکستان پر 10 فیصد اضافی ٹیرف لگایا جا سکتا ہے، تاہم حتمی فیصلے سے قبل عوامی مشاورت اور سماعتوں کا عمل مکمل کیا جائے گا۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق مجوزہ ٹیرف کی شرح 10 سے 12.5 فیصد کے درمیان ہوگی۔ حتمی فیصلہ کرنے سے قبل اس تجویز پر عوامی رائے طلب کی جائے گی اور متعلقہ فریقین کو اپنے مؤقف پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ قانونی رکاوٹوں کے بعد اپنی تجارتی اور ٹیرف پالیسی کو ازسرِ نو ترتیب دینے کی کوشش کر رہی ہے۔
چند ماہ قبل واشنگٹن نے اپنے بڑے تجارتی شراکت داروں، جن میں چین، یورپی یونین اور جاپان شامل ہیں، کے خلاف تحقیقات شروع کی تھیں۔ ان تحقیقات کا مقصد یہ جاننا تھا کہ آیا یہ ممالک جبری مشقت سے تیار شدہ مصنوعات کی درآمد روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کر رہے ہیں یا نہیں، اور اس کا امریکی تجارت پر کیا اثر پڑ رہا ہے۔
منگل کو جاری بیان میں امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر نے کہا کہ 54 معیشتیں ایسی پائی گئیں جنہوں نے جبری مشقت سے تیار ہونے والی مصنوعات کی درآمد پر پابندی مؤثر انداز میں نافذ نہیں کی۔
اس فہرست میں چین، ویتنام، تائیوان، برطانیہ اور بھارت سمیت متعدد ممالک شامل ہیں۔
مزید چھ معیشتوں کینیڈا، ایکواڈور، یورپی یونین، انڈونیشیا، میکسیکو اور پاکستان کے بارے میں کہا گیا کہ اگرچہ ان کے پاس متعلقہ قوانین موجود ہیں، تاہم وہ ان پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے میں ناکام رہی ہیں۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا کے اہم تجارتی شراکت داروں کی جانب سے جبری مشقت سے تیار شدہ مصنوعات کی درآمد کا مسئلہ حل نہ کرنا ناقابلِ قبول ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کے باعث امریکی کارکنوں کو عالمی منڈی میں غیر مساوی مسابقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا اب اس فرق کو مزید برداشت نہیں کرے گا اور تمام تجارتی شراکت داروں کو اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مزید اقدامات کرنا ہوں گے کہ عالمی تجارت جبری مشقت کے فروغ کا ذریعہ نہ بنے۔
پاکستان پر 10 فیصد اضافی ٹیرف کی تجویزامریکی تجارتی نمائندے کے دفتر کے مطابق پاکستان، کینیڈا، یورپی یونین، میکسیکو، انڈونیشیا، ارجنٹائن، بنگلہ دیش، کمبوڈیا، ایل سلواڈور، گواٹے مالا، ملائیشیا، تائیوان اور برطانیہ سمیت بعض دیگر ممالک سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر جبری مشقت سے متعلق تحقیقات کے تناظر میں 10 فیصد اضافی ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
دوسری جانب باقی 45 ممالک پر 12.5 فیصد اضافی محصولات عائد کرنے کا منصوبہ ہے۔
بعض اشیا مستثنیٰ ہوں گیمجوزہ ٹیرف کے اطلاق سے بعض اشیا کو استثنیٰ حاصل ہوگا، جن میں گائے کا گوشت، کافی، بعض پھل اور خشک میوہ جات شامل ہیں۔
اسی طرح کینیڈا اور میکسیکو سے شمالی امریکا کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت درآمد ہونے والی مصنوعات بھی ان محصولات سے مستثنیٰ رہیں گی۔ کچھ ٹیکسٹائل اور ملبوسات کو بھی رعایت دی جائے گی۔
امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر نے عوام، کاروباری اداروں اور دیگر متعلقہ فریقین کو 6 جولائی تک تحریری تجاویز اور اعتراضات جمع کرانے کی دعوت دی ہے۔ اس کے بعد باقاعدہ سماعتوں کا انعقاد کیا جائے گا، جن کی روشنی میں حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب 20 فروری کو ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے عائد کردہ عارضی 10 فیصد ٹیرف کی مدت 24 جولائی کو ختم ہونے والی ہے۔
یاد رہے کہ 20 فروری کو ہی امریکی سپریم کورٹ نے بین الاقوامی ہنگامی اقتصادی اختیارات کے قانون کے تحت سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نافذ کیے گئے بعض ٹیرف اقدامات کو کالعدم قرار دیا تھا، جس کے بعد انتظامیہ نئے قانونی راستوں کے ذریعے اپنی تجارتی پالیسی کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں