روس کا سعودی شہریوں کیلیے ویزا فری داخلے پر غور
اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT
روس نے سعودی شہریوں کے لیے ویزا فری سروس فراہم کرنے پر غور شروع کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس بات کا اعلان روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کے دورۂ ماسکو کے دوران مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا۔
روسی وزیر خارجہ نے دونوں ممالک کے مضبوط دوطرفہ تعلقات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کے یوکرین جنگ پر متوازن مؤقف کو بھی سراہتے ہیں۔
وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے یمن میں قیامِ امن کے لیے سعودی عرب کے کردار کو بھی سراہا۔
روس میں ای-ویزا سہولت کے بعد سعودی سیاحوں کی تعداد میں 570 فیصد اضافہ ہوا۔ اب ویزا مکمل طور پر ختم کرنے کا عندیہ دونوں ملکوں کے بڑھتے ہوئے تعلقات کا مظہر ہے۔
روسی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے روسی حکام کے ساتھ ملاقات میں غزہ کی صورتحال پر خصوصی زور دیتے ہوئے کہا کہ ہماری فوری ترجیح مستقل جنگ بندی ہے۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ انسانی بحران کو روکنے کے لیے فوری اقدام کرے۔"
دونوں رہنماؤں نے ایران کے جوہری پروگرام پر بھی بات کی اور ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ عالمی ایٹمی ادارے IAEA سے مکمل تعاون کرے۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے بتایا کہ "روس-عرب سربراہی اجلاس" اکتوبر میں ماسکو میں منعقد ہوگا، جس میں سعودی عرب کی شرکت متوقع ہے۔
انھوں نے مزید بتایا کہ اس کے علاوہ "روس-خلیج تعاون کونسل (GCC) سٹریٹیجک ڈائیلاگ" کا آٹھواں وزارتی اجلاس 11 ستمبر کو سوچی میں ہوگا۔
لاوروف نے اس بات کا بھی اعلان کیا کہ سعودی عرب 2025 میں سینٹ پیٹرز برگ انٹرنیشنل اکنامک فورم میں "اعزازی مہمان" کی حیثیت سے شرکت کرے گا۔
یاد رہے کہ روس اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی تعلقات کو 100 سال مکمل ہو رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائمقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اہم اجلاس31 جولائی کو طلب کر لیا گیا جس میں صدر پاکستان و چانسلر کی ہدایات پر قائمقام وی سی کی تعیناتی سے متعلق ایجنڈے پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق صدر پاکستان نے 24اپریل کو ریفرنس وزارت تعلیم کو بھجوایا ہے جس میں بطور چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن ایکٹ کی شق8(6)کے تحت سینٹ کے 17ویں اجلاس کے ایجنڈا نمبر13پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
دستیاب دستاویز کے مطابق 5 جنوری2026 کو ہونے والے سینیٹ کے17ویں اجلاس میں سابق وائس چانسلر پروفیسر حناطیبہ خلیل کو بطور وائس چانسلر کام جاری رکھنے کی منظوری دی گئی حالانکہ پروفیسر حنا طیبہ خلیل دو ٹرم مکمل کر چکی تھیں۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم نے بھی پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کے سینٹ اجلاس (جس میں حناطیبہ خلیل کو قائمقام وائس چانسلر ذمہ داریاں جاری رکھنے کی منظوری دی) کو کالعدم قرار دینے کی سفارش کر رکھی۔
قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن بشری انجم بٹ نے اجلاس کے دوان کہا تھا کہ عبوری وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ایوان صدر نے واضح کیا تھا کہ ایجنڈے کی منظوری نہیں لی گئی تھی۔
ذرائع نے بتایا کہ بشری انجم بٹ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کی وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ریفرنس ایوان صدر کو بھجوایا جس میں کہا گیا کہ انسٹی ٹیوٹ کے فیکلٹی ممبران ،افسران اور سٹیک ہولڈرز کی جانب سے الزامات لگائے کہ پروفیسر حناطیبہ خلیل وائس چانسلر بد انتظامی اور اختیارات کے غلط استعمال کی پریکٹس میں ملوث ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ کی پروکیورمنٹ اور مالی معاملات میں بے ضابطگیوں سمیت انسٹی ٹیوٹ میں گورننس کے بدترین صورتحال ہے، اس کے علاوہ گرلز ہاسٹل کی تعمیر سے متعلق 450 ملین کے ٹینڈرز میں مبینہ بے ضابطگیاں بھی ہوئی ہیں۔
ایوان صدر نے سینیٹر بشری انجم بٹ کی جانب سے بھجوائے گئے ریفرنس پر اپنی سفارشات وزارت تعلیم کو بھجوا دی ہیں،
وزارت تعلیم کے ذرائع نے سینیٹ اجلاس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایوان صدر کی ہدایات کی روشنی میں سینئر فیکلٹی ممبر کو ہی قائمقام وائس چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن تعینات کیا جائے گا اور اس حوالے سے سنیارٹی لسٹ منگوا لی گئی ہے،