طورخم سرحد غیرقانونی افغان شہریوں کی بے دخلی کیلئے 20 روز بعد کھول دی گئی
اشاعت کی تاریخ: 1st, November 2025 GMT
کوئٹہ (ڈیلی پاکستان آن لائن )طورخم سرحدی گزرگاہ غیرقانونی رہائش پذیرافغان شہریوں کی بے دخلی کے لیے 20 روز بعد کھول دی گئی۔سینکڑوں افغان پناہ گزین اپنے وطن جانے کے لیے طورخم سرحد پہنچ گئے تاہم طورخم سرحد سے تجارت اور پیدل آمدورفت بدستوربند رہے گی۔
ضلع خیبر کے ڈپٹی کمشنر بلال شاہد کے مطابق طورخم سرحدی گزرگاہ کو ملک میں رہائش پذیر غیر قانونی رہائش پذیر افغان شہریوں کو بے دخل کرنے کے لیے کھول دیا گیا ہے، اس وقت سینکڑوں افغان پناہ گزیں طورخم امیگریشن سینٹر پہنچ گئے ہیں اور امیگریشن عملہ ضروری کارروائی کے بعد انہیں آفغانستان جانے کی اجازت دے رہاہے۔
ترکیہ کے ہوٹل میں آتشزدگی سے 78 افراد کی ہلاکت کا معاملہ، 11 ملزمان کو عمر قید کی سنا دی گئی
ڈپٹی کمشنر بلال شاہد کا کہنا ہے کہ سرحدی گزرگاہ تجارت اور پیدل آمدورفت کےلیے بدستور تاحکم ثانی بند رہے گی۔ڈپٹی کمشنر کے مطابق 11 اکتوبر کو پاک افغان کشیدگی کے باعث طورخم سرحدی گزرگاہ ہرقسم آمدورفت کےلیے بند کردیا گیا تھا۔
یو این ایچ سی آر کے ترجمان قیصرخان آفریدی کے مطابق 8 اکتوبر تک 6 لاکھ 15 ہزار غیر قانونی افغان شہریوں کو طورخم کے راستے ملک بدر کیا چا چکا ہے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: افغان شہریوں سرحدی گزرگاہ
پڑھیں:
کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ ایف آئی اے امیگریشن نے دبئی جانے والے مسافر سید ظل اللہ احسان الزمان کو جعلی یو اے ای ریزیڈنس، ورک ویزا پر سفر کی کوشش کے دوران آف لوڈ کر دیا۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق دورانِ بورڈنگ عملے کو ٹکٹ کی تفصیلات ایئرلائن سسٹم میں نہ ملنے پر مسافر کو مزید جانچ کیلئے روکا گیا، تفصیلی جانچ کے دوران پیش کردہ یو اے ای ورک ویزا جعلی اور بوگس پایا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں مسافر نے انکشاف کیا کہ اس نے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ کرنے والے ایجنٹ ملک شہباز اعوان سے بیرون ملک ملازمت کے انتظامات کروائے تھے، مذکورہ ایجنٹ مبینہ طور پر ’’مَلک اوورسیز‘‘ کے نام سے جوہرآباد، خوشاب میں کام کر رہا ہے۔
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ ادائیگیاں مختلف جاز کیش اور بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی گئیں۔ مسافر نے مؤقف اختیار کیا کہ اسے ویزا کے جعلی ہونے کا علم نہیں تھا اور وہ خود بھی ویزا فراڈ کا شکار ہوا ہے۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق مسافر کو تمام متعلقہ دستاویزات سمیت مزید قانونی کارروائی اور تحقیقات کیلئے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا گیا ہے۔