دریائے سوات پر تجاوزات کیخلاف آپریشن، 65 دکانیں، ہوٹل اور پارک مسمار
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
تجاوزات کے خلاف اب تک کی جانے والی کارروائیوں سے متعلق سوات کی ضلعی انتظامیہ کی رپورٹ کے مطابق 15.7 کنال اراضی واگزار کر کے 2 کلومیٹر رقبہ کلیئر کیا گیا ہے اور تجاوزات قائم کرنے پر 25 افراد کے خلاف مقدمات بھی درج کیے گئے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ دریائے سوات واقعے کے بعد تجاوزات کے خلاف ضلعی انتظامیہ سوات کا آپریشن بھرپور طریقے سے جاری ہے۔ دریائے سوات واقعے کے بعد ضلعی انتظامیہ نے تجاوزات کے خلاف اب تک کی جانے والی کارروائیوں سے متعلق رپورٹ صوبائی حکومت کو ارسال کردی ہے۔ ضلعی انتظامیہ کی رپورٹ کے مطابق تجاوزات کے خلاف اب تک آپریشن کے دوران 65 غیر قانونی تعمیرات گرائی گئی ہیں جن میں دکانیں، ہوٹل اور پارک شامل ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 15.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: تجاوزات کے خلاف ضلعی انتظامیہ
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔