پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور مکمل، دہشتگردی علاقائی امن و سلامتی کیلئے مشترکہ خطرہ قرار
اشاعت کی تاریخ: 8th, July 2025 GMT
پاکستان اور افغانستان کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات کا پہلا دور مکمل ہو گیا ہے، جس میں دونوں ممالک نے دہشتگردی کو علاقائی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق کیا۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق مذاکرات نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار کے دورہ کابل کے تحت عمل میں آئے۔ پاکستانی وفد کی قیادت ایڈیشنل سیکریٹری برائے افغانستان و مغربی ایشیا سید علی اسد گیلانی نے کی، جبکہ افغان وفد کی سربراہی افغانستان کے ڈائریکٹر جنرل مفتی نور احمد نور نے کی۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایڈیشنل سیکرٹری سطح کے پہلے باضابطہ مذاکرات اسلام آباد میں منعقد ہوئے، جس میں دونوں ممالک نے دہشتگردی کو خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا۔ دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان کے مطابق بات چیت میں تجارت، ٹرانزٹ تعاون، سیکیورٹی امور اور علاقائی روابط پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں نائب وزیرِ اعظم کے دورہ کابل میں اعلان کردہ سہولتوں پر عملدرآمد کا جائزہ بھی لیا گیا، جن میں ٹریک اینڈ ٹریس نظام کی فعالیت، 10 فیصد پراسیسنگ فیس کا خاتمہ، انشورنس گارنٹی کی فراہمی، اور اسکیننگ و معائنے میں کمی شامل ہیں۔
ترجمان نے بتایا کہ مذاکرات 19 اپریل کو نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار کے دورہ کابل کے دوران کیے گئے فیصلوں کے تسلسل میں منعقد ہوئے۔ مذاکرات میں اعلان کردہ سہولیات پر عملدرآمد کا بھی جائزہ لیا گیا، جبکہ فریقین نے فریم ورک معاہدے کو جلد حتمی شکل دینے کے لیے مشترکہ کوششوں پر اتفاق کیا۔
The inaugural round of the Additional Secretary-Level Mechanism between the Foreign Ministries of Pakistan and Afghanistan was held today in Islamabad pursuant to decisions reached during the visit of the Deputy Prime Minister/Foreign Minister of Pakistan to Kabul, Afghanistan,… pic.
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) July 7, 2025
پاکستان نے افغانستان میں موجود دہشتگرد گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی پر زور دیا، جبکہ اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ افغان سرزمین سے دہشتگرد عناصر پاکستان کو مسلسل نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق دہشتگرد گروپ نہ صرف سیکیورٹی کو متاثر کر رہے ہیں بلکہ علاقائی ترقی کی راہ میں بھی بڑی رکاوٹ ہیں۔
فریقین نے باہمی تجارت اور ٹرانزٹ تعاون کو مزید گہرا کرنے پر اتفاق کیا، اور افغانستان میں آمدورفت کو آسان بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ اس موقع پر ازبکستان، افغانستان اور پاکستان کو ملانے والے مجوزہ ریلوے منصوبے کی علاقائی اہمیت کو بھی تسلیم کیا گیا۔
علاوہ ازیں، افغان شہریوں کی واپسی سے متعلق امور پر بھی بات چیت کی گئی، تاکہ انسانی ہمدردی اور باہمی اتفاقِ رائے کی بنیاد پر پائیدار حل تلاش کیا جا سکے۔ ترجمان کے مطابق پاکستان نے افغانستان سے قانونی اور منظم طریقے سے آمد و رفت کو آسان بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات پر روشنی ڈالی، جن میں جنوری 2024 سے مختلف شعبوں (طبی، سیاحت، کاروبار، تعلیم) میں پانچ لاکھ سے زائد ویزوں کا اجرا شامل ہے۔
دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی، تعاون میں وسعت اور خطے میں دیرپا امن کی بنیاد رکھنا ہے۔ مذاکرات کا اگلا دور جلد کابل میں متوقع ہے۔
Post Views: 6
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اور افغانستان افغانستان کے مذاکرات کا دفتر خارجہ کے درمیان کے مطابق کے لیے
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔