پاکستان اور افغانستان کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات کا پہلا دور مکمل ہو گیا ہے، جس میں دونوں ممالک نے دہشتگردی کو علاقائی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق کیا۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق مذاکرات نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار کے دورہ کابل کے تحت عمل میں آئے۔ پاکستانی وفد کی قیادت ایڈیشنل سیکریٹری برائے افغانستان و مغربی ایشیا سید علی اسد گیلانی نے کی، جبکہ افغان وفد کی سربراہی افغانستان کے ڈائریکٹر جنرل مفتی نور احمد نور نے کی۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایڈیشنل سیکرٹری سطح کے پہلے باضابطہ مذاکرات اسلام آباد میں منعقد ہوئے، جس میں دونوں ممالک نے دہشتگردی کو خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا۔ دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان کے مطابق بات چیت میں تجارت، ٹرانزٹ تعاون، سیکیورٹی امور اور علاقائی روابط پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں نائب وزیرِ اعظم کے دورہ کابل میں اعلان کردہ سہولتوں پر عملدرآمد کا جائزہ بھی لیا گیا، جن میں ٹریک اینڈ ٹریس نظام کی فعالیت، 10 فیصد پراسیسنگ فیس کا خاتمہ، انشورنس گارنٹی کی فراہمی، اور اسکیننگ و معائنے میں کمی شامل ہیں۔

ترجمان نے بتایا کہ مذاکرات 19 اپریل کو نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار کے دورہ کابل کے دوران کیے گئے فیصلوں کے تسلسل میں منعقد ہوئے۔ مذاکرات میں اعلان کردہ سہولیات پر عملدرآمد کا بھی جائزہ لیا گیا، جبکہ فریقین نے فریم ورک معاہدے کو جلد حتمی شکل دینے کے لیے مشترکہ کوششوں پر اتفاق کیا۔

The inaugural round of the Additional Secretary-Level Mechanism between the Foreign Ministries of Pakistan and Afghanistan was held today in Islamabad pursuant to decisions reached during the visit of the Deputy Prime Minister/Foreign Minister of Pakistan to Kabul, Afghanistan,… pic.

twitter.com/EKMH34xTUY

— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) July 7, 2025


پاکستان نے افغانستان میں موجود دہشتگرد گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی پر زور دیا، جبکہ اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ افغان سرزمین سے دہشتگرد عناصر پاکستان کو مسلسل نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق دہشتگرد گروپ نہ صرف سیکیورٹی کو متاثر کر رہے ہیں بلکہ علاقائی ترقی کی راہ میں بھی بڑی رکاوٹ ہیں۔

فریقین نے باہمی تجارت اور ٹرانزٹ تعاون کو مزید گہرا کرنے پر اتفاق کیا، اور افغانستان میں آمدورفت کو آسان بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ اس موقع پر ازبکستان، افغانستان اور پاکستان کو ملانے والے مجوزہ ریلوے منصوبے کی علاقائی اہمیت کو بھی تسلیم کیا گیا۔

علاوہ ازیں، افغان شہریوں کی واپسی سے متعلق امور پر بھی بات چیت کی گئی، تاکہ انسانی ہمدردی اور باہمی اتفاقِ رائے کی بنیاد پر پائیدار حل تلاش کیا جا سکے۔ ترجمان کے مطابق پاکستان نے افغانستان سے قانونی اور منظم طریقے سے آمد و رفت کو آسان بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات پر روشنی ڈالی، جن میں جنوری 2024 سے مختلف شعبوں (طبی، سیاحت، کاروبار، تعلیم) میں پانچ لاکھ سے زائد ویزوں کا اجرا شامل ہے۔

دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی، تعاون میں وسعت اور خطے میں دیرپا امن کی بنیاد رکھنا ہے۔ مذاکرات کا اگلا دور جلد کابل میں متوقع ہے۔

Post Views: 6

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: اور افغانستان افغانستان کے مذاکرات کا دفتر خارجہ کے درمیان کے مطابق کے لیے

پڑھیں:

پاکستان کی واشنگٹن میں افغان شہری کی فائرنگ کے واقعے کی مذمت

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان نے امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں افغان شہری کی فائرنگ کے واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔

روزنامہ جنگ کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ واقعہ دہشتگردی کا ٹارگیٹڈ حملہ ہے، ہلاک امریکی اہلکار کے اہلخانہ سے تعزیت اور زخمی اہلکار کی جلد صحتیابی کے لیے دعاگو ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان افغانستان سے جڑے دہشتگرد حملوں کا سامنا کرتا آیا ہے۔ عالمی برادری دہشتگردی کے بڑھتے رجحان کا نوٹس لے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ دہشتگردی کے خلاف عالمی تعاون مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان امریکا اور عالمی برادری کیساتھ ملکر دہشتگردی کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے پُرعزم ہے۔

سپریم کورٹ میں موسم سرما کی تعطیلات کا نوٹیفکیشن جاری

مزید :

متعلقہ مضامین

  • پاکستان اور مصر کا دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق: غزہ، کشمیر اور دہشتگردی پر مشترکہ مؤقف
  • نیشنل ڈیفنس  یونیورسٹی  اسلام آباد  م سکیورٹی  چیلنجز  سے نمٹنے  کیلئے قومی  یکجتی  ضروری  : صدر 
  • پاک عراق کے عسکری تعاون مزید مضبوط، این سی ٹی سی میں عراقی فوج کی اسپیشل فورسز کی تربیت مکمل
  • اسرائیلی جارحیت علاقائی امن و استحکام کیلئے خطرہ ہے، جولانی رژیم
  • افغان رجیم ناصرف پاکستان بلکہ پورے خطے کی سلامتی کیلئے خطرہ بن چکی ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر
  • افغان حکومت نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے اور دنیا کےلیے خطرہ بن چکی ہے، ترجمان پاک فوج
  • بھارت افغان کی شدت پسند پالیسیاں عالمی امن کیلئے شدید خطرہ
  • ای سی او: دہشتگردی ترقی میں رکاوٹ، علاقائی رابطوں کے فروغ کے بغیر ترقی ممکن نہیں، اسحاق ڈار
  • امریکا میں افغان نژاد کا حملہ دہشتگردی ہے، عالمی تعاون ناگزیر، ترجمان دفترِ خارجہ
  • پاکستان کی واشنگٹن میں افغان شہری کی فائرنگ کے واقعے کی مذمت