WE News:
2026-07-24@10:27:58 GMT

عدالتی احکامات پر گوگل اور یوٹیوب کی کیا پالیسی ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 8th, July 2025 GMT

عدالتی احکامات پر گوگل اور یوٹیوب کی کیا پالیسی ہے؟

اسلام آباد کی عدالت نے معروف صحافی مطیع اللہ جان، اسد طور، اوریا مقبول جان اور صدیق جان سمیت 27 افراد کے یوٹیوب چینلز بلاک کرنے کا حکم دیا ہے۔

اسلام آباد کی مقامی عدالت نے یہ فیصلہ ایف آئی اے کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ اور شواہد کی روشنی میں سنایا۔ جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ یہ چینلز ریاستی اداروں اور اعلیٰ حکام کے خلاف جھوٹ، جعلی خبروں، اشتعال انگیز اور توہین آمیز مواد کی تشہیر میں ملوث ہیں، جو عوام میں خوف، بے چینی اور نفرت کو فروغ دے سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: عدالت کا ریاست مخالف مواد پر 27 یوٹیوب چینلز کو بلاک کرنے کا حکم، متعدد صحافی متاثر

عدالت کی جانب سے جاری احکامات کے بعد لوگوں کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہورہا ہے کہ یوٹیوب کی عدالتی فیصلوں کے حوالے سے پالیسی کیا ہے، اور اس پر عملدرآمد کیسے ہوتا ہے؟

یوٹیوب آفیشل ویب سائٹ کے مطابق کمپنی مختلف نوعیت کے عدالتی احکامات کا بغور جائزہ لیتی ہے اور صرف قانونی، درست اور قابل اطلاق احکامات پر ہی عمل کرتی ہے۔ اگر کوئی عدالتی حکم کمپنی پر براہِ راست عملدرآمد کی ذمہ داری عائد کرتا ہے تو اس کی قانونی حیثیت اور کمپنی کی ذمہ داریوں کا تفصیلی جائزہ لیا جاتا ہے، اور اگر ضروری ہو تو اس حکم کے خلاف اپیل پر بھی غور کیا جاتا ہے۔

کمپنی نے کہا ہے کہ وہ بعض اوقات ان عدالتی احکامات پر بھی رضاکارانہ طور پر عمل کرتی ہے جو براہِ راست گوگل پر لاگو نہیں ہوتے، لیکن مقامی عدالتوں کے اس اختیار کو تسلیم کرتی ہے کہ وہ کسی مواد کو مقامی قانون کے تحت غیر قانونی قرار دے سکتی ہیں۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ بعض اوقات ایسے عدالتی احکامات جو مواد کو براہِ راست غیر قانونی قرار نہیں دیتے، وہ بھی کمپنی کے لیے کسی مواد کو ہٹانے کے فیصلے میں معاون ثابت ہوتے ہیں، خاص طور پر اگر کسی عدالت نے مواد کو جھوٹا قرار دیا ہو۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی اے نے پاکستان مخالف پروپیگنڈا پر متعدد یوٹیوب چینلز اور ویب سائٹس بلاک کردیں

کمپنی نے واضح کیاکہ ہر دستاویز کی قانونی حیثیت اور اطلاق کا بغور جائزہ لیا جاتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اسلام آباد عدالت اکاؤنٹ بند کرنے کا حکم عدالتی احکامات گوگل وی نیوز یوٹیوب پالیسی یوٹیوبرز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسلام ا باد عدالت اکاؤنٹ بند کرنے کا حکم عدالتی احکامات گوگل وی نیوز یوٹیوبرز عدالتی احکامات مواد کو

پڑھیں:

ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟

اسلام آباد: معروف امریکی الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی کمپنی ٹیسلا نے 2 سے 5 سال عمر کے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی ہے، جسے جدید ڈیزائن اور ہلکے وزن کے ساتھ تیار کیا گیا ہے۔

کمپنی کے مطابق یہ ٹیسلا بچوں کی بیلنس بائیک مضبوط مگر ہلکے میگنیشیم فریم پر مشتمل ہے، جبکہ اس میں بچوں کی سہولت کے لیے ایڈجسٹ ہونے والی نشست بھی دی گئی ہے۔ بائیک کے سائیڈ پر ٹیسلا کا نام اور سامنے نمایاں T لوگو بھی موجود ہے۔

یہ بائیک روایتی سائیکل سے مختلف ہے کیونکہ اس میں نہ پیڈل موجود ہیں، نہ موٹر اور نہ ہی بریک۔ بچے اپنے پیروں کی مدد سے اسے چلاتے ہیں، جس سے ان میں توازن برقرار رکھنے اور سائیکل چلانے کی بنیادی مہارت پیدا کرنے میں مدد ملتی ہے۔

کمپنی نے اس منفرد بائیک کی قیمت 225 امریکی ڈالر مقرر کی ہے، جو عام بیلنس بائیکس کے مقابلے میں زیادہ ہے، کیونکہ مارکیٹ میں ایسی بیشتر بائیکس تقریباً 100 ڈالر میں دستیاب ہوتی ہیں۔

قیمت نسبتاً زیادہ ہونے کے باوجود یہ بائیک فروخت کے آغاز کے فوراً بعد آؤٹ آف اسٹاک ہو گئی، جس سے صارفین کی غیر معمولی دلچسپی ظاہر ہوتی ہے۔

ٹیسلا کے مطابق نئی کھیپ کے لیے 31 جولائی سے پری آرڈر دوبارہ شروع کیے جائیں گے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ بائیک 2 سے 5 سال عمر کے بچوں کے لیے موزوں ہے۔ اس کے استعمال کے لیے بچے کی ٹانگ کی کم از کم لمبائی 13.7 انچ (35 سینٹی میٹر) ہونی چاہیے، جبکہ تجویز کردہ زیادہ سے زیادہ وزن 30 کلوگرام اور قابل برداشت زیادہ سے زیادہ وزن 35 کلوگرام رکھا گیا ہے۔

ٹیسلا نے یہ بھی بتایا کہ بائیک کی اسمبلنگ کے لیے درکار تمام ضروری اوزار پیکج میں شامل ہوں گے، جبکہ صارفین کو مکمل ہدایات پر مشتمل استعمال کا کتابچہ بھی فراہم کیا جائے گا۔

ماہرین کے مطابق بچوں کی مصنوعات کی مارکیٹ میں ٹیسلا کی یہ نئی پیشکش کمپنی کی برانڈ توسیع کی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کے ذریعے وہ گاڑیوں کے علاوہ دیگر صارفین کی مصنوعات میں بھی اپنی موجودگی مضبوط بنا رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار